Thursday, February 8, 2018

یہ ہے آج کا اسلام جو گمراہی اور جہالت کا منبہ بن چکہ ہے۔


یہ ہے آج کا اسلام جو معصوم  لوگوں کے قتل کو جاہز قرار دیتا ہے، اپنے جاہل عقیدت مندوں کو لوگوں کے قتل پر اکساتا ہے، باپ، بھائ اور خاوند کو آپنی  ماں، بہین' بیٹی اور بیوی کے خلاف مذھب اور قباہلی نفسیاتی  حربہ 'غیرت' کے نام  کو استعمال کر کے  اکساتا ہے کہ اگر تم ان کو ہماری خوہاشات کے مطابق لباس پہنے پر مجبور نہیں کیا تو اللہ تمیں دوزخ کی آگ میں ڈالیگا۔ مسجدوں سے عورتوں، دوسرے فرقوں اور مذاھب کے لوگوں  کےخلاف نفرت پھیلاتے ہیں۔   ان کی تقریروں کو سنکر کئی لوگوں کو مذھب کے نام پر قتل کیا گیا ہے۔ سلمان تاثر کو اپنے باڈی گاڈ نے قتل کیا ہے۔ ایک دیوبندی استاد کو اس کے بریلوی شاگرد نے قتل کیا ہے۔ اس وڈیوں میں جو خبر ہے اس کے مطابق سارے بریلویوں کی بیویاں فارغ ہوگی ہیں۔ بھا ئ نماز بریلوی مردوں نے دیوبندی امام کے پچھے پڑی ہے۔ اس میں عورت اور بیوی کہاں سے آگی اور کیوں؟  
شعور  مقدس عبارت پڑنے سے  یا مسلسل عبادات کرنے سےنہیں آتا   اور نہ ہی علم مناظروں کا نام ہے  بلکہ علم  اپنے تجربے، تاریخ اور فطرت کو سمجھنے سے آتا ہے۔ اس لیے علم کا منبہ تجربہ، تاریخ اور فطرت ہے۔ میرا اکیلے کا یہ موقف نہیں بلکہ دورے جدید کے علماء   جن میں مصر کے ایک دور کے مفتی محمد عبدو، رشید ردا، جمال الدین افغانی، ڈاکٹر محمد اقبال اور علی شریعتی شامل ہیں کا بھی یہی موقف ہے۔  لہذا  مسلم معاشروں کو اپنے عوام بلخصوص بچوں کے تعلم  و تربیت کے نظام میں بنادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر مولویوں کے فتوہ بازی سے لوگوں کے جان و مال کو خطرہ رہیگا۔ 
  

No comments: