پاکستان بھٹو صاحب کے دور
سے کشمیریوں کے ساتھ ۵ فروری کے دن کو اظہارے یکجہتی کے طور پر بناتا ہے اور آج ۵ فروری ۲۰۱۸ کو پاکستان سرکاری
طور پر اس کو بنا رہا ہے۔
آزادی آج عوام اور فرد کا بنیادی حق ہے۔ حق خوداختیاری کو ۲۰
ویں صدی میں دنیا نے بنیادی حق کے طور پر
تسلیم کیا ہے۔ اسی اصول کے تحت ملکوں اور قوموں کے اس حق کو تسلیم کیا گیا کہ وہاں کے عوام آپنے
مستقبل کے خود مالک ہیں اور وہ یہ حق ووٹ
کے ذریعے استعیمال کر سکتے ہیں۔ اسی اصول کے تحت نوآبادیاتی نظام کا خاتمہ شروں ہوا،
فرد کی آزادی کو تسلیم کیا گیا، فرد کےساتھ رنگ،نسل، جنس، مذھب، عقیدہ اور قومیت
کی بناد پر تفریق کو جرم قرار دیا گیا۔ رنگ ، نسل، جنس، مذھب اور قومیت کی بنیاد
پر نفرت کا پرچار ایک جرم قرار دیا گیا۔ لوگوں کے حق آزادی اور اس کیلے جدوجہد کو
جاہز قرار دیا گیا۔ کشمیریوں کے اس حق کو
پاکستان اور ہندوستان کے فوجی قبضے نے نہ ممکن بنیاہوا ہے۔ آج پاکستان کے ایک شہر
میں بھی ایک جلسہ نہیں ہوا جہاں یہ مطالبہ کیا جاتا کہ پاکستان اور بھارت کشمیر سے
آپنی فوجیں نکالے اور وہاں کے عوام کے حق آزادی کو تسلیم کیا جاے۔
افسوس یہ ہے کہ اس
اظہار یکجہتی کے عملی اظہار کو دیکھنے سے تو ہمیں عوام کے درمیان رنگ، نسل، مذھب اور جنس
کی بنیاد پرنفرت پھیلانے کے ے سوایے کچھ اور نظر نہیں آیا۔ جس کا مقصد کشمیری سرزمین
پر مذھب ، علاقے اور قومیت کی بنیاد پر نفرت کو ہوا دینا اور عوام کو تقسیم
کر کے ھندوستان اور پاکستان کے جابرانہ
قبضے کو جاری رکھنے کے سواے اور کچھ نظر
نہیں آتا ہے۔ اس سے ایک طرف کشمیری معاشرے کو تقسیم کرنا جو ایک
جانا پہچانا حربہ ہے۔ مزید یہ کہ اس سے پاکستان اور ہندستان کے معاشروں کو بھی مذھب
اور نسلی کی بنیادوں پر تقسیم کرنا ہے ۔ ماصوم پچوں کو نفرت سکھانا جو بعد میں چلکر خود کش بمبار
بنتے ہیں ،کون اور کس قسم کی یکجہتی کا
اظہار ہو رہا ہے۔
اس
یکجہتی کے اظہارکو ٹوٹر پر پوسٹ کی گی ان
تصویروں سے ہوتا ہے جو چار اور پانچ
سال کے بچوں نے اٹھای ہوی ہیں۔
ایک
تصویر پر لکھا ہے:
'جنت کس کافر کو ملی ہے نہ ملےگی'
دوسری
تصویر پر لکھا ہے۔
'کشمیریوں کے ساتھ رشتہ
کیا ہے؟
لا إله إلا الله
ان
بچوں کو کیا پتہ ہے کہ کشمیر کیا ہے؟ کافر اور مسلمان کیا ہوتا ہے؟آزادی اور غلامی
کیا ہے؟یہ تقریب پاکستان کی سیاسی پارٹی جماعت اسلامی کی خواتین ونگ کی تھی۔ یہ
جماعت نہ صرف پاکستانی فوج کی آنکھ کا تارا رہی ہے بلکے سعودی عرب، برطانیہ اور
امریکا کی حمایت یافتہ رہی ہے۔ اس کے دفاتر دنیا بھر میں موجود ہیں۔ کیا یہ نفرت جو یہاں پر بچوں کو سکھای جاری ہے . القاعدہ، طالبان، بوکوحرام اور داش اس سے زیادہ
کچھ سکھاری تھی یا ہے۔
آزادی کے نام پر کشمیری معاشرے میں رنگ، نسل، قبیلا اور
مذھب کی بنیاد پر نفرت
کا پرچارکشمیریوں
کے ساتھ سب سے بڑی دشمنی ہے۔
No comments:
Post a Comment