Wednesday, February 14, 2018

Why we use Qur'an and Hadees without its proper understanding?

اسلام کے نام پر جہالت کا پرچار
 جہالت ہمیشہ انسانوں میں علم کی ضرورت کا احساس پیدا کرتی ہے اور روزمرہ کی ناگزیر ضرورتیں ہمیں چیزوں کو بہتر طور پر سمجھنے اور  صیح طور پرجاننے  پر مجبور کرتی ہیں۔   لیکن انسان کی اس ناگزیر ضرورت اور احساس کو چالاک لوگ  اور علم کے دعوے دارحقائق کو اپنے تعصابات اور مفادات  کے لے مسخ کر کے پیش کرنا شروع کر دیں تو اس سے علم تو نہیں پھیلے گا مگر علم  کےپردے میں جہالت خطرناک حد تک فروغ  پانا  شروع کر دیگی۔ اس تصویر میں  امام  بخاری  کی حدیث  کو کوٹ کیا گیا ہے کہ  "کوئی مرد  کسی عورت  کے ساتھ تنہائی میں نہ بیٹھے  " ۔" کسی اور عورت " کے درمیان  بریکٹ میں اردو ترجمہ میں (غیر محرم ) لکھ دیا ہے۔ یہ پوسٹ جیو ٹی وی کی صحافی  رابعہ عنم کے ٹویٹر پر ولنٹائن ڈے پر محبت  کو حرام قرار  دینے کی حمایت میں پر زور وکالت کرتے ہوے  پوسٹ کیا ہے




 میرے تجربے میں آیا ہے  کہ مسلمانوں  میں ایک ایسا کلچر فروغ پاتا جارہا ہے کہ ہر شخص قران کی کس آیات  کو کان سے پکڑتا ہے یا کسی حدیث کو ٹانگ سے، اور ایک دم سے اپنے موقف میں پیش کر دیتا ہے۔ قران اور حدیث کے کچھ بنیادی اصول ہیں۔ اگر کسی موضوع پر قران کی ایک آیات کی ایک پوزیشن ہے تو دیکھنا پڑتا ہے کہ اس موضوع  پرکتنی  اور آیات ہیں اور وہ کیا کہتی ہیں؟  ان کی لغوی تاریخی تناظر کیاہے؟ کیا اس کا لغوی اختلاف طے ہو گیا تھا یا آج تک نہیں ہوا؟  ان آیات کے وقعاتی اختلافات تھے یا نہیں اور اگر تھے تو کیا حل ہو گئے ہیں یا آج تک نہیں ہوے؟  ان کے علاقائی اختلاف کیا تھے ؟کیا صحابہ کے درمیان قران کے ٹیکسٹ پہ اختلافات تھے یا نہیں؟ اور اگر تھے تو کیا ختم ہو گے تھے؟ ناسخ و منسوخ کیا ہے؟   خود قران کی ناسخ و منسوخ پر کیا پوزیشن ہے؟ کیا قران کے ایکسپرٹ کے درمیان ناسخ و منسوخ طے پا گیا تھا یا نہیں ؟  مقمومات اور متشابہات کا کیا اصول ہے؟ بنیادی اور ثانوی آیات کیا ہیں ؟
یہی سوال حدیث کا ہے جسے سیاسی ضرورتوں کے حصول کی ناگزیریت  نے سنت رسول اللہ کا نام دیا تھا۔ یقینانأ کسی کو زہر کھلانے کے لیے زہر کو مٹھے شربت میں ملانا پڑتا ہے۔ حدیث کا آغاز امام احمد بن حنبل سے ہوا ۔ ان کے عمعصر وں نے کبھی بھی ان کو پراپر قانون کا ماہر نہیں سمجھا بلکے انکے سکول کو حدیثیں جمع کرنے والے قرار دیتے تھے۔  امام شافعی نے حدیث کو دو گواہوں کے اصول کے تحت تسلم کیا تھا۔ مگر گواہ تو خود عدالت میں موجود ہوتے ہیں اور وہ آنکھوں دیکھا حال خود بیان کر رہے ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ گواہوں پر اپنا اور مخالف وکیل جیرہ بھی کرتا ہے تانکہ اس بات کو یقینی بنایا جاے کہ گواہ سچ بول رہا ہے۔ آج کسی بھی عدالت میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح ایک لائق وکیل جھوٹے گواہ کو بھری عدالت میں بریک کرتا ہے اور جھوٹا ثابت کر دیتا ہے۔ حدیث جمع کرنے والوں کے پاس دو سو سال کے بعد نہ وہ لوگ موجود تھے جن کے نام سے باتیں منسوب کی جاری تھی ۔ حتی کہ دوسری نسل بھی جا چکی تھی۔ بات یہ تھی قانونی ماہرین کو قانون کے کیلے بنیادیں چاہے تھی جس کو لوگ قبول کرتے اور یہ اس وقت کے حالات کی ناگزیر سماجی ضرورت تھی ۔ کوئی بھی قانون معاشرے کی سماجی ضرورت ہی کی ایجاد ہوتی ہے۔  تاریخی حقیقت یہ ہے کہ ساسی اختلافات طے نہ پا سکے اور صورت حال خانہ جنگی کی شکل میں صحابہ کے درمیان شروع ہوگئی  جس نے  اسلامی تاریخ  پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔  خود مسلمانوں نے سیاسی مفادات کے لے اپنے نبی کی اولاد کا قتل عام کیا تھا۔ ایسی صورت میں ماہرین قوانین نےایسی رویات  کو تسلیم کیا جو اس وقت لوگوں کو قابل قبول ہوں۔ اس ضرورت نے حدیث کے رواج کو فروغ دیا جس سے اسلام میں فکری جمود نے غلبہ پانا شروع کیا اور تحقیق و تخلیق کا عمل رک گیا۔


حنبلیوں نے حدیث سے قران کو منسوخ کرنے کی تھوری اختیار کی تھی۔ یعنی جہاں حدیث اور قران آپس میں متصادم ہوں تو قران کی اس آیات کو منسوخ سمجھا جائے۔خلیفہ متوکل ان کا حامی تھا۔ میری رائے ہے کہ خلیفہ متوکل کی حمایت سے حنبلیوں نے قران کے ترقی پسند اور  لبرل حصوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جو کرسچن آرتھوڈکسی اور قباہلی رویات کا اثر اور مزاحمت تھی۔ اسلام کے صرف پچاس  سال بعد شام کے کرسچن بہشپ نے اسلام پر اپنی تحریر میں الزام لگایا  تھاکہ یہ پہلا مذھب ہے جس نے زنا کو جاہز قرار دیا ہے۔ ان تحریروں کو پڑنے سےاندازہ ہوتا ہے کہ اسلام اور قبائلی رویات میں شدید کشمکش رہی ہے اور قبائلی رویات کی شکل حنبلی سکول کی شکل میں فتح مند ہوئی۔  بعد میں حنبلی سکول کھڑے نہ رے سکے اور دبارہ  دوسروں سکولوں کے نظریے کو اختیار کرنے پر مجبور ہوے جو حدیث اور قران کے متصادم ہونے پر حدیث منسوخ ہو جاتی ہے۔ اس نظریہ کے تحت قران کو  قران منسوخ کرتا ہے اور قران حدیث  کو منسوخ کرتاہے۔   قران ، قران کے منسوخ کے نظریے پر آج تک اتفاق نہیں ہو سکا۔ جو اس کی مخالفت کرتے ہیں ان کا موقف یہ ہے کہ قران ، قران کو منسوخ کا مطلب ہے اللہ اپنے علم کی تجدید کرتا ہے۔ لیکن "منسوخ اور اگر بھول جایں تو ان کی جگہ نی آیات لاتے ہیں" قران میں موجود ہے۔ لیکن جنہوں نے ناسخ و منسوخ کی تھوری کو قبول کیا مگر آج تک یہ طے نہ ہوسکا کہ کتنی آیات منسوخ ہوئی اور ان کی متبادل کون سی ہیں۔ بعض کے نزدیک ۵۰۰ آیات منسوخ ہوئی ہیں۔ دوسرے کم کر کہ ۵ تک لیجاتا ہے۔ جہاں خود قران کی یہ پوزیشن ہو وہاں حدیث کو حتمی طور پر قبول کرنا کتنا مشکل ہے۔


حدیثوں نے تقریبأ دو سو سال بعد جب رواج پانا شروع کیا تو لوگوں  نےلاکھوں حدیثیں نبی اور صحابہ کے نام کے ساتھ گھڑ نی شروع کر دی۔  یہ سلسلہ اس حد تک آگے بڑا کہ ایک حدیث دوسری حدیث یا قران کے ساتھ متصام ہونا شروع ہو گئی جس کو دور کرنے کیلے کانٹ چھانٹ شروع  ہوئی۔ آج کم و پیش لاکھوں حدیثوں میں سے پانچ ہزار باقی ہیں۔ اس کا بنیادی سبب یہ تھا کہ حکمران طبقات نے عدالتوں کو یہ حق نہیں دیا کہ وہ آزادانہ فیصلے کریں جس کا سبب اسلامی قوانین کا ارتقاء اور ترقی کمرہ عدالت کے بجائے اکیڈیمک کے ہاتھوں ہوئی۔ عدالتیں آزاد نہ ہونے کے سبب امام ابو حنیفہ کو جیل جانا پڑا اور جیل میں ہی ان کی موت ہوئی۔ ان کا تعلق دوسری نسل سے تھا جنیں تابعین کہا جاتا ہے۔ وہ اسلام میں لبرل اور ریشنلزم کے بہت بڑے علمبردار تھے۔ جس طرح نبی کی تحریک کے سامنے  قبائلی رویات اور اپنے وقت کی قدامت پسندی  حتی کہ صحابہ کے اندر سے  مزاحمت کرتے ہو ے تاریخی طور پر نظر آتی ہے یہی صورت حال امام ابو حنیفہ کی تھی۔  لبرم اور روشن خیالات کی تعبیر و تشریح  کی جگہ حدیثیں  گھڑ گھڑ کر تحقیق و تخلیق کے عمل کو روک دیا گیا اور اسلامی معاشرے میں فکری جمود شروع ہو گیا۔ حتی کہ چار سو سال کے بعد سنی اسلام نے اجتہاد پر ہی پابندی لگا دی۔  اس کا نتجہ مناظرہ بازی کا کلچر پانا شروع ہو گیا جس کا نتجہ آج ایک دوسرے کو کافر اور منسوخ نکاح کے فتوے کی دوکانداری، دشہتگردی ،قتل و غارتگیری کے سوایے کچھ نظر نہیں آتا۔
محترم نے جو حدیث پوسٹ کی ہے کیا وہ قران سے متصادم نہیں ہے؟ قانون میں ۲ گواہ ہیں لیکن اگر کسی عورت پر یہ الزام لگایا جایے کہ اس نے زنا کیا ہے تو اس کے لیے چار گواہ ہیں۔ یقیناٗ  عورت تنہا مرد کے ساتھ ہوگی تو ہی زنا ہوگا۔ لیکن اسلام نے چار چشم دید گواہ رکھے ہیں اور الزام لگانے والا چار گواہ  نہ لاسکے تو اس کی سزا ۸۰ کوڑے ہیں۔ اس حدیث کے برخلاف کیا اسلام مرد اور عورت کے تنہا رینے کو زیادہ تحفظ نہیں دیتا؟ کیا اس سے قدامت پسند مذھبی نظریہ اور اس کا پرچار قران کے خلاف بغاوت ہنیں؟ 

ترجمہ :اور  جو پاک دامن عورتوں  پر الزام (زنا کا) لگایں اور ۴ گواہ پیش نہ کریں تو ان کو ۸۰ کوڑوں کی سزا دو اور ان کی گواہی زندگی میں کبھی بھی قبول نہ کرو اور وہی ہیں یقیناٰٗ نافرمان۔


یہ صورہ النور کی آیات چار (قران ۲۴:۴) ہے جو یہ کہتی ہے کہ اگر کوئی شخص کس پاک دامن عورت پر زنا کا الزام لگاتا ہے تو اسے ۴ گواہ لانے ہونگے بصورت دیگر ۸۰ کوڑوں کی سزا کا حق دار ہے۔ اگر عورت اور مرد تنہاء ایک ساتھ رینا   جرم تھا تو  پھر ۴ گواہوں کی ضرورت کیوں پیش آئی؟  حدیث محرم اور غیر محرم کا  سوال کہی نہیں حل کرتی ۔ یہ اردو میں اضافہ  ہے۔  کیا اس سے پوسٹ کرنے والے کے تحت الشعور میں جرم کے احساسکی خبر نہیں ملتی؟ چونکہ ماں اور بیٹا، بھائی اور بہیں، باپ اور بیٹی بھی تو مرد اور عورت ہیں ۔ کیا اس سے ہمیں مذھبی قدامت پرستی کے تحت الشعور میں ہر اس عورت کے ساتھ جنسی تعلقات کی خواہش نظر نہیں آتی جو ان کی ماں، بہین اور بیٹی نہ ہو؟ محرم کانظریہ جس پر میں یہاں بحث نہیں کرنا  چاہتا جو قران اور اسلامی تاریخی حقائق سے متصادم ہے مگر اتنا میں عرض کرنا ضروری سمجھتا ہو کہ جن آیات    میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ کون کون سی عورتیں محرم ہیں اور  ان سے آپ شادی نہیں کر سکتے تو ان آیات میں  دوسروں  کی بیویاں بھی شامل ہیں۔ یعنی  دوسہروں کی بیویاں بھی آپ پر محرم ہیں تو ان کے ساتھ جنسی تعلق کی خواھش کہاں سے آپکے دل و ماغ میں داخل ہوتی ہے وہاں سے ماں، بہین اور بیٹی کی داخل نہیں ہوتی؟ کیا یہ پچپن کی تربیت کا اثر نہیں جس کو اسلام  کے پردے میں اپنے احساس جرم کو چھپانے کی کوشش ہے؟جنسی خواہشات انسان کے ذہیں  میں ہوتی ہیں۔ سازش کا نظریہ ذہین میں تخلیق پاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے اگر مذھبی قدامت پسندی کے اصول کو قبول کیا جائے تو ہر کمزور کو گھر میں بند رینا چاہے چونکے طاقتور اسکو قتل کر دیگا۔







No comments: