Sunday, April 30, 2017

Kashmiri leadership appealling to civilized world to take note of censorship imposed by Indian government in Kashmir against social media so that people could not record the serious human rights violations.

سوشل نیٹ ورک پر پابندی، پتھر کے زمانے کی طرف دھکیلنے کے مترادف۔ کیا غیرقانونی قابض حکمران  سوچے سمجھے منصوبے کے تحت طلبائ کو مشتعل کررہے ہیں؟ گیلانی۔
27 اپريل 2017 
کشمیر سرینگرچیرمین حریت ’گ‘سید علی گیلانی نے تھری جی اور فور جی کے بعد سماجی رابطہ ویب سائیٹوں پر پابندی لگانے کے حکومتی اقدام کو ریاستی دہشت گردی کا منہ بولتا ثبوت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ریاست کو پتھر کے زمانے کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے۔ اس کا مقصد کشمیریوں کی اقتصادیات، تعلیم اور روز مردہ کاروبار کو چوٹ پہنچانا اور جموں کشمیر کی سنگین صورتحال سے دنیا کو بے خبر رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ پر پابندی لگانے کا کوئی آئینی یا قانونی جواز نہیں ہے اور یہ انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میں شامل ہے۔ بیان میں حریت چیرمین نے کہا کہ انٹرنیٹ پر پابندی کے حوالے سے اس حکومتی دلیل میں کوئی وزن نہیں کہ انٹرنیٹ ریاست کے حالات کو خراب کرنے کا محرک بنتا ہے اور یہ اقدام امن وامان برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ گیلانی صاحب نے کہا کہ حکمران حالات کی سنگینی اور ابتری کے رو،ٹ کاز پر توجہ دینے کے بجائے آف شوٹس کو موضوعِ بحث بناتے ہیں۔ کشمیر جب سے اُبل رہا ہے، جب ابھی انٹرنیٹ وجود میں بھی نہیں آیا تھا۔ کشمیر کا امن وامان اُس دن درہم برہم ہوا، جب 70سال پہلے بھارت نے اس خطے پر جبری قبضہ جمایا اور یہاں کے لاکھوں لوگوں کی آزادی کو سلب کیا گیا۔ گیلانی صاحب نے کہا کہ ریاست کے حالات ٹھیک کرنے اور ڈگر پر لانے کے لیے انٹرنیٹ پر پابندی لگانا کوئی آپشن نہیں ہے۔ اس کے لیے یہاں کے لوگوں کی رائے اور ان کے بنیادی حقوق کا احترام کرنا پہلی ضرورت ہے۔ گیلانی صاحب نے شوپیان اسکول میں پیش آئے تازہ وقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں پر حملے آج بھی جاری ہیں اور سرکاری فورسز ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت طالب علموں کو مشتعل کررہے ہیں، تاکہ انہیں تشدد ڈھانے کا بہانہ مل جائے۔ حریت چیرمین نے حقوق بشر کے لیے سرگرم اداروں اور تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ جموں کشمیر میں انٹرنیٹ پر پابندی کے معاملے کا سنجیدہ نوٹس لیں اور اس پابندی کے ختم کرانے کے لیے اپنے ا ثرورسوخ کو استعمال میں لائیں ۔

No comments: