Sunday, April 30, 2017

Kashmir liberation question before the highest court of India

تحریک آزادی کی مزاحمتی قیادت کیساتھ بات چیت سے بھارتی حکومت کا انکار اس کے آمن دشمنی اور جہارنہ رویہ کا اظہار ہے۔  اٹارنی جنرل مکھل روہنگی نے بھارتی سپریم کورٹ میں واضح کیا کہ ان لوگوں کیساتھ مذاکرات نہیں ہوسکتے جو آزادی کی باتیں کرتے ہیں۔ جبکہ حق آزادی عوام کا بنیادی حق ہے جو اقوام متحدہ کے تمام ممبر ممالک نے تسلیم کیا ہوا ہے جس میں خود بھارت بھی شامل ہے۔ جبکہ چیف جسٹس آف انڈیا نے تحریک آزادی کی قیادت اور حکومت کے درمیان مزاکرات پر زور دیا۔
  
28 اپريل 2017
 نئی دہلی مودی سرکارنے تحریک آزادی کی قیادت کیساتھ مذاکرات کوخار ج ازامکان ‘‘قرار دیتے ہوئے واضح کردیاکہ کشمیرمعاملے پر صرف تسلیم شدہ پارٹیوں اورسیاسی لیڈروں کیلئے مذاکرات کی میزپرجگہ ہوگی جسے نشنل کانفرانس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے انتہائی خطرناک قرار دیا۔ عدالت عظمیٰ میں کشمیرمعاملے اوروہاں کی صورتحال سے نمٹنے کے بھارتی سرکارکے مواقف کوپیش کرتے ہوئے اٹارنی جنرل مکھل روہتگی نے واضح کیاکہ اُن لوگوں اور پارٹیوں کیساتھ کبھی بات نہیں ہوسکتی جوآزادی کی بات کرتے ہیں ۔ یہ کہتے ہوئے اسے یہ بات یاد نہ رہی کے بھارت نے خود کس اخلاقی جواز کے ساتھ آپنی آزادی کا مطالبہ برطانیہ سے کیا تھا جبکہ برطانیہ نے بھارت کے عوام کبھی ظلم نہ کیے تھے۔
انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت کشمیرمیں بحرانی صورتحال پرقابوپانے کیلئے صرف تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کیساتھ ہی بات کرے گی ۔اس دوران چیف جسٹس آف انڈیاجسٹس جگدیش سنگھ کھہرکی سربراہی والے سپریم کورٹ کے سہ رکنی بینچ نے سبھی متعلقین کو اپنی اپنی پوزیشن سے دودوقدم پیچھے ہٹنے کامشورہ دیتے ہوئے واضح کیاکہ عدالت عظمیٰ کشمیرکی بااثرآوازوں اورمرکزی سرکارکے درمیان مذاکرات کااسٹیج فراہم کرنے کیلئے تیارہے ۔تاہم چیف جسٹس آف انڈیا،جسٹس جے ایس کھہرنے واضح کیاکہ سنگباری ،اسکولوں کے مقفل رہنے اورطاقت کااستعمال ہونے کے بیچ کوئی پہل نہیں ہوسکتی ہے ۔انہوں نے کشمیرہائی کورٹ بارایسوسی ایشن سے سنگباری کے رُجحان پرقابوپانے کیلئے متعلقین کوآمادہ کرنے کی ذمہ داری تفویض کرتے ہوئے کشمیرمیں جاری بحرانی صورتحال سے متعلق کیس کی اگلی سماعت کیلئے 9مئی کی تاریخ مقررکردی ۔ جمعہ کے روز سپریم کورٹ آف انڈیا نے کشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کی اس عرضی کی سماعت عمل میں لائی ، جس میں ایسو سی ایشن نے کشمیر وادی میں مظاہرین کے خلاف پیلٹ گن کے استعمال پر روک لگانے پر زور دیا ہے ۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کے چیف جسٹس ، جسٹس جگدیش سنگھ کھہر کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے سہ رکنی بینچ ، جس میں چیف جسٹس آف انڈیا کے علاوہ جسٹس ڈی وائی چندرا چوڑ اور جسٹس ایس کے کول بھی شامل ہیں نے ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کی دائر عرضی کی اہم سماعت عمل میں لائی ۔ کشمیر وادی میں مظاہرین کے خلاف پیلٹ گن جیسے ہتھیاروں کے استعمال پر روک لگائی جانے سے متعلق دائر عرضی ، کشمیر بحران پر قابو پانے کیلئے روبہ عمل لائے جارہے طریقہ کار اور کشمیر مسئلے کو حل کرنے کیلئے اپنائی جارہی حکمت عملی کی وضاحت کرتے ہوئے اٹارنی جنرل آف انڈیا مکھل روہتگی نے مرکزی سرکار کے اس موقف کو واضح کیا کہ کشمیر میں آزادی کی باتیں کرنے والے علیحدگی پسندوں کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار کشمیر میں صرف تسلیم شدہ سیاسی پارٹیوں کے ساتھ بات کرنے کو تیار ہے ۔ اٹارنی جنرل نے مرکزی حکومت کے موقف کو دو ٹوک الفاظ میں واضح کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کی میز پر آزادی کی باتیں کرنے والوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہوگی بلکہ بات صرف تسلیم شدہ سیاسی پارٹیوں سے وابستہ لیڈروں کے ساتھ ہی ہوسکتی ہے ۔ کشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سینئر وکلائ بشمول ایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم ، ایڈوکیٹ ظفر قریشی ، ایڈوکیٹ محمد شفیع ریشی ، ایڈوکیٹ بشیر صادق اور دیگر سینئر وکلائ کی موجودگی میں اٹارنی جنرل مکھل روہتگی نے عدالت عظمیٰ کے اعلیٰ سطحی سہ رکنی بینچ کو بتایا کہ حال ہی میں وزیر اعظم اور ریاستی وزیر اعلیٰ کے درمیان ہوئی میٹنگ میں کشمیر کی صورتحال کو زیر غور لایا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار کی کشمیر معاملے اور کشمیر میں جاری صورتحال پر پوزیشن واضح ہے ۔ روہتگی کا کہنا تھا کہ کشمیر میں قیام امن کیلئے آزادی مانگنے والوں سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی ۔ مکھل روہتگی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ کشمیر معاملے پر بات ہوگی تو صرف تسلیم شدہ جماعتوں کے ساتھ ۔ انہوں نے کشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کی جانب سے کشمیر معاملے پر مذاکراتی عمل شروع کرنے کے مطالبے کے جواب میں کہا کہ کس نے کسی کو بات کرنے سے روکا ہے ۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ مذاکراتی عمل سیاسی لیڈروں کے ساتھ ہوسکتا ہے نہ کہ ایسے لوگوں کے ساتھ جو نوجوانوں کو سنگباری کیلئے اور معصوم لوگوں کو پر تشدد مظاہروں کیلئے اکساتے رہتے ہوں ۔ اٹارنی جنرل نے یہ بھی واضح کیا کہ بات سیاسی سطح پر ہوسکتی ہے نہ کہ عدالت عظمیٰ کے اندر ۔ عدالت عظمیٰ میں مرکزی حکومت کی نمائندگی کا فریضہ انجام دیتے ہوئے پھر کہا کہ تبادلہ خیال یا بات چیت صرف سیاسی سطح پر ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کسی بھی صورت میں آزادی کی باتیں کرنے والے کشمیری علیحدگی پسندوں کے ساتھ بات چیت نہیں کرے گی ۔ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ آف انڈیا سے استدعا کی کہ وہ کشمیر معاملے پر مذاکرات بحال کرنے سے متعلق کوئی آرڈر پاس نہ کرے ۔ اس دوران کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں موجود رہے وادی سے تعلق رکھنے والے سینئر قانون دانوں بشمول ایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم اور ان کے رفقائ نے عدالت عظمیٰ میں واضح کیا کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے ، جس کو صرف سیاسی سطح پر ہی حل کیا جاسکتا ہے ۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں موجود رہے کشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سینئر رکن ایڈوکیٹ محمد شفیع ریشی اور ایڈوکیٹ بشیر صادق نے نئی دہلی سے کے این ایس کو فون پر بتایا کہ بار ایسو سی ایشن کی ٹیم نے اٹارنی جنرل کے بیانات پر سخت اعتراض اٹھاتے ہوئے عدالت عظمیٰ میں یہ واضح کیا کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے ، جس کو صرف بات چیت کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے سپریم کورٹ کو یہ بھی بتایا کہ حکومت ہند نے کشمیر مسئلے اور کشمیر میں جاری بحرانی صورتحال پر قابو پانے کے معاملے میں غیر سنجیدگی اپنا رکھی ہے اور یہ کہ وادی میں پر امن مظاہرین کے ساتھ ساتھ اب طلبائ اور طالبات پر بھی پیلٹ فائرنگ کی جاتی ہے ۔ کشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کی ٹیم کے اراکین نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ کشمیر مسئلے کو حل کرنے کیلئے مذاکرات کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے اور یہ عمل بھی تب ہی کامیاب ہوسکتا ہے جب اس میں کشمیری عوام کے حقیقی نمائندے یعنی مزاحمتی قائدین شامل ہوں ۔ ایڈوکیٹ محمد شفیع ریشی کے بقول کشمیربارایسوسی ایشن کی ٹیم نے عدالت عظمیٰ میں کہاکہ کشمیری مزاحمتی لیڈرشپ کومذاکرات کے عمل میں شامل کئے بغیرکوئی نتیجہ برآمدنہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہاکہ حکومت ہندکومذاکرات کیلئے کوئی شرط یاحدمقررنہیں کرنی چاہئے بلکہ کشمیرمسئلے کاحل نکالنے کیلئے غیرمشروط مذاکرات ہونے چاہیں ۔کشمیربارایسوسی ایشن کی ٹیم نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ گرمائی ایجی ٹیشن 2016 کے دوران اور رواں سال بھی پر امن مظاہرین اور احتجاجی طلاب کے خلاف پیلٹ گن اور دیگر مہلک ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا اور یہ سلسلہ بند ہونا چاہئے ۔ اٹارنی جنرل اور کشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کی ٹیم کے دلائل سننے کے بعد چیف جسٹس آف انڈیا ، جسٹس جے ایس کھہر اور دیگر 2 سینئر جج صاحبان نے بتایا کہ کشمیر مسئلے کو حل کرنے اور کشمیر کی صورتحال پر قابو پانے کیلئے مذاکرات اور سیاسی عمل کے بغیر کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے ۔ عدالت عظمیٰ کے سہ رکنی بینچ نے اٹارنی جنرل کے دلائل میں شامل کچھ باتون پر سخت اعتراض اٹھاتے ہوئے مرکزی حکومت سے سوال کیا کہ کیا حکومت یہ سمجھتی ہے کہ عدالت عظمیٰ کا کوئی رول نہیں ہے اور کیا حکومت یہ بھی سمجھتی ہے کہ عدالت عظمیٰ کے دائرے اختیار میں یہ نہیں آتا کہ وہ کسی علاقہ کی صورتحال کا نوٹس نہ لے ۔ سہ رکنی بینچ نے اٹارنی جنرل سے مخاطب ہوتے ہوئے سخت لہجہ میں کہا کہ اگر مرکزی حکومت یہی محسوس کرتی ہے تو ابھی عدالت عظمیٰ میں اس کیس کی فائل کو بند کر دیا جائیگا ۔ چیف جسٹس ، جسٹس جے ایس کھہر ، جسٹس ڈی وائی چندرا چوڑ اور جسٹس ایس کے کول پر مشتمل سہ رکنی بینچ نے واضح کیا کہ کشمیر مسئلے کا حل نکالنے اور وہاں غیر یقینی صورتحال پر قابو پانے کیلئے متعلقین اور فریقین کو اپنی اپنی پوزیشن سے دو قدم پیچھے ہٹنا ہوگا ۔ انہوں نے بتایا کہ کشمیر سے متعلق سبھی متعلقین جب تک اپنی اپنی پوزیشن سے دو دو قدم پیچھے نہیں ہٹیں گے ، تب تک نہ تو وہاں سنگباری پر قابو پایا جاسکتا ہے اور نہ پیلٹ گن کے استعمال پر روک لگائی جاسکتی ہے ۔ عدالت عظمیٰ کے با اختیار سہ رکنی بینچ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کشمیر کی با اثر آوازوں اور مرکزی حکومت کے درمیان مذاکرات کا اسٹیج تیار کر سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر مسئلے کو حل کریں اور کشمیر میں بحرانی صورتحال پر قابو پانے کیلئے عدالت عظمیٰ فریقین کے درمیان بات چیت کیلئے مذاکرات کا اسٹیج تیار کر سکتی ہے لیکن عدالت عظمیٰ ک سہ رکنی بینچ نے اس بات پر زور دیا اس بارے میں عرض دہندہ یعنی کشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کو پہل کرنا ہوگی ۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کی ٹیم پر زور دیا کہ وہ کشمیر میں احتجاج سے جڑے لوگوں کے علاوہ دیگر حلقوں کو بھی اس بات کیلئے آمادہ کرے کہ تشدد کا راستہ ترک کیا جائے ۔ چیف جسٹس آف انڈیا ، جسٹس جے ایس کھہر نے مرکزی حکومت اور کشمیری علیحدگی پسندوں سے اپنی اپنی پوزیشن سے دو قدم پیچھے ہٹنے کا مشورہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بج سکتی ہے ۔ انہوں نے ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کی ٹیم سے مخاطب ہوکر کہا کہ اگر کشمیر میں سنگباری کا سلسلہ جاری رہے گا اور اسکول بھی بند رکھے جائیں گے تو مذاکرات کا راستہ کیسے نکلے گا ۔ انہوں نے ٹیم سے کہا کہ آپ کشمیر میں سبھی متعلقین سے بات کرکے انہیں سنگباری اور دیگر پر تشدد طریقے ترک کرنے پر آمادہ کریں ۔ چیف جسٹس آئین ہند کے دائرے میں مذاکرات پر زور دیتے ہوئے یہ بھی واضح کیا کہ جب تک فریقین تشدد کا راستہ ترک نہیں کریں گے ، تب تک مذاکرات کا عمل بھی شروع نہیں ہو پائیگا ۔

No comments: