صراط مستقیم سیدھا موٹر وے نہیں ہے جس پر ڈرائیور کے لیے روڈ سائن بورڈز آویزاں ہوں، بلکہ ہر شخص کو جو رسم و رواج اس گھر سے ملتے ہیں جس میں وہ پیدا ہوتا ہے، اسی وراثتی ماحول کو حتمی سچ سمجھتا اور مانتا ہے۔ لیکن وہ کبھی یہ نہیں سوچتا کہ یہ اس کے ماحول کا سچ ہے، اور ماحول کا سچ مطلق نہیں ہوتا، اور نہ سچ کبھی مطلق ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر میں مسلمان، سنی اور جدون قبائلی گھر میں پیدا ہوئی تھی، تو میں مسلمان بھی ہوں، سنی بھی ہوں اور اپنے سرنامے میں بھی اپنے قبیلے کا ہی رکھتی ہوں، جبکہ میری پیدائش نہ میرے علاقے میں ہوئی تھی نہ پاکستان میں، بلکہ ہزاروں میل دور ہونے کے باوجود تاریخی شناخت اب بھی ساتھ ہے جسے ماحول کی وراثت کہا جاتا ہے۔
چونکہ ہم مسلمان صراط مستقیم کو مذہبی حوالے سے شناخت کرتے ہیں، ہماری تعلیم و تربیت دو حدوں کے درمیان تقسیم ہے: ایک حد کافر کی اور دوسری مسلمان کی۔ یہی سوچ ہمیں ماں کی گود سے لے کر مدرسہ، نرسری سے یونیورسٹی تک ان دو حدوں کے درمیان چلایا جاتا ہے۔ ہر مولوی—بھارت ہو یا پاکستان، ترکی ہو یا بیجنگ، ماسکو، لندن اور نیویارک—ان دو حدوں کو حتمی سچ کے طور پر تبلیغ کرتے ہیں۔ کیا ہماری مقدس کتاب قرآن اس کی تصدیق کرتی ہے؟ اسلام کی تعریف سورۃ البقرہ آیات 62، 113 اور 177 میں ایسی کوئی بات نہیں۔
مزید البقرہ آیت 178 قتل کی سزا تجویز کرتی ہے: قتل کے بدلے آزاد مرد کے بدلے آزاد مرد، عورت کے بدلے عورت اور غلام کے بدلے غلام۔ نوٹ کیجیے کہ قرآن اپنے وقت کے ماحول کی ضرورتوں سے باہر نہیں جاتا؛ چونکہ وہ غلام دار معاشرہ تھا، قرآن غلامی کو حرام نہیں قرار دیتا، مگر آیت 177 میں غلام آزاد کرانے کو صراط مستقیم کا حصہ بناتا ہے۔ آیت 179 بتاتی ہے کہ انصاف اس لیے ضروری ہے تاکہ تم سیدھے
راستے پر آجاؤ۔ آیات 62، 113 اللہ دو مذاہب کے اختلاف کی بات کرتا ہے اور کہتا ہے کہ قیامت کے دن اللہ فیصلہ کرے گا، یعنی قرآن میں کسی شخص کو دوسرے کے مذہب کو صحیح یا غلط قرار دینے کا اختیار نہیں دیا گیا۔ اسی طرح آیت 177 میں صحیح اعمال کی فہرست دی گئی، نہ کہ یہ کہا گیا کہ یہ مذہب صحیح ہے اور وہ غلط۔ ہے۔ کیا ہمارا مولوی ہر دوسرے مذہب اور فرقے کو غلط قرار نہیں دیتے؟ نہ صرف عام گفتگو میں بلکہ دنیا بھر کی مساجد اور مدارس میں دوسروں کے عقائد اور ماننے والوں کے خلاف نفرت پھیلائی جاتی ہے، جس کا نتیجہ تشدد اور دہشت گردی کا ماحول بنتا ہے۔ تو صراط مستقیم کی تعریف کیا ہے؟ مزید یہ کہ قرآن مذاہب، رنگ، نسل میں تقسیم نہیں کرتا۔ سورۃ الحجرات ایت 13: ”اے انسانو! ہم
نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے
پیدا کیا... اور تمہیں قبیلے بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔“ یہاں قرآن قبیلاتی تعصب ختم کرنے کی کوشش کرتا نظر آتا ہے، مگر ہمارا مذہبی کلچر مذہبی تعصب پر کھڑا ہے جو قرآن سے متصادم ہے۔ سورۃ الحج آیت 40: ...وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ
وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا۔ یہاں قرآن بتا رہا ہے کہ اللہ کا نام مندر، گرجا، کنیسہ اور مسجد میں کثرت سے لیا جاتا ہے۔ ”لھدمت“ کا ترجمہ بعض جگہ خانقاہ کیا گیا جو فارسی لفظ ہے۔ کیا لھدمت خانقاہ ہوتی ہے؟ جب مقدس عبارت کا ترجمہ اس قدر تعصب سے کیا جارہا ہے تاکہ جھوٹی تاریخ پر کھڑا کلچر برقرار رہے جس کے پیچھے سیاسی اور مالی مفادات دوکانداری ہے۔ کیا کبھی کسی مولوی نے مسجد کے ممبر سے بتایا کے اللہ کا نام مندر، چرچ، سنیگاگ اور مسجد میں لیا جاتا ہے؟
میں نے یہ سب اس لیے لکھا کیونکہ اس تھریڈ پر بہن بھائی کے پیار کی بات ہے اور اسلام میں سگے بہن بھائی کے درمیان نہ جنسی تعلق جائز ہے نہ شادی؛ یہ رشتہ سورۃ النساء آیات 23-24 میں حرام کی جو فہرست ہے اس میں شامل ہے۔ لیکن کزن یا سوتیلے بہن بھائی (جنہوں نے ایک ماں کا دودھ نہ پیا ہو) سے شادی جائز ہے اور کلچر کا حصہ رہی ہے۔ کرسچن اور یہودیوں میں کزن شادی بھی ممنوع ہے کیونکہ ان مذاہب میں رواج عملی زندگی کا حصہ بنے رہے۔ رواج کی تبدیلیاں ماحول سے جڑی ہوتی ہیں اور ماحول کی ضرورتیں ہی تبدیلی لیکر آتی ہیں، جیسے غلام کے بدلے غلام کا قانون اس وقت کے ماحول کی ضرورت کا قانون ہے جبکے کسی کو اس کی آزادی سے محروم کر کے غلام بنانا قانونی جرم ہے۔ اس لیے رواج پر چلنا ضروری نہیں کہ صراط مستقیم ہو، کیونکہ رسم و رواج، اخلاقیات، قوانین مادی دنیا کی ضروریات سے بنتے اور بدلتے ہیں، اور یہی تاریخ ہے۔ اسی جھوٹ کی عمارت پر تعمیر کلچر کو دیکھ کر اقبال تڑپ اٹھا ہوگا جس کا اظہار اس نے ساقی نامہ میں کیا تھا۔
فریب نظر ہے سکون و ثبات
تڑپتا ہے ہر ذرۂ کائنات
ٹھہرتا نہیں کاروان وجود
کہ ہر لحظ ہے تازہ شان وجود
سمجھتا ہے تو راز ہے زندگی
فقط ذوق پرواز ہے زندگی
بہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلند
سفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسند
سفر زندگی کے لیے برگ و ساز
سفر ہے حقیقت حضر ہے مجاز



No comments:
Post a Comment