Friday, January 2, 2026

میرا ایکس پر پوسٹ جو اسلام کے حوالے سے رابی پیرزادہ کو جواب تھا کے تھیوری اور حیقت میں کتنا بڑا فرق ہے اور عوام کو مذہب کا نام استعمال کرکے کس قدر گمراہ کیا جاتا رہا ہے۔ تحریر سدرا جدون



قران میں مجھے بتاؤ کہ پہلا روزہ، تہجد کہاں ہے؟ زرشت اور
 یہودی رسم و رواج کو بغداد میں اسلام بنا کر فراڈ آج تک کیا جا رہا ہے۔ قرآن میں نماز کے بارے میں 80 آیات ہیں۔ ایک آیت 
بتاؤ جو یہ بتاتی ہو کہ اتنے فرض، اتنی سنتیں، اتنے نوافل ہیں 
   یا یہ کے یہ صبح کی نماز ہے، یہ ظہر کی، یہ عصر کی، یہ مغرب کی، یہ عشاء کی اور ان میں یہ پڑھایا جاتا ہے؟

عباسیوں کے دور میں بغداد میں پرشین رسم و رواج اختیار کیے گئے جو قرآن سے متصادم ہیں، بالکل اسی طرح جیسے کرسچن مذہب نے اٹلی کے جنوب کے ایک گروپ کے رسم و رواج اختیار کیے تھے جبکہ حضرت عیسیٰ کو تو یروشلم میں رومن نے مصلوب کیا تھا۔ میں اس مذہبی رواج کے خلاف اس لیے ہوں کیونکہ یہ فراڈیوں نے نبی کے نام پر دو سو سال بعد گھڑا ہے جس نے سب سے زیادہ متاثر عورت کو کیا ہے۔ آج بڑی بے شرمی سے پاکستان کی مساجد افغانستان کی فسطائیت پر خاموش ہیں اور تم بتا رہی ہو کہ اسلام یہ ہے اور اسلام وہ ہے۔ تمہیں جن لوگوں سے یہ کہانیاں ملیں ہیں انہوں نے خود نبی کی اولاد کا سیاسی مفاد کے لیے قتلِ عام کیا تھا۔

آپ، میں، مودودی، قطب، حسن بنا، طالبان، القاعدہ، داعش اس لیے مسلمان ہیں چونکے ہم سب جس گھر میں پیدا ہوئے وہ گھر مسلمان تھا۔ اگر والدین سنی تھے تو ہم سنی ہیں، اگر والدین دیوبندی، بریلوی، وھابی تھے تو ہمارا فرقہ بھی وہی ہوگا۔ نتانیاهو اس لیے یہودی ہے چونکے وہ یہودی کے گھر پیدا ہوا ہے۔ مودی اس لیے ھندو ہے چونکے وہ ھندو کے گھر پیدا ہوا تھا۔ مولانا فصل فضل‌الرحمان اس لیے دیوبندی مسلمان ہے چونکے ان کے والد مفتی محمود دیوبندی مسلمان تھے۔ آج ہر ایک کا مذہب ورثے میں ملنے والا تعصب ہے جس طرح ابوجہل اور ابولہب کا مذہب ورثے میں ملنے والا تعصب تھا جو نبی کی ریفارم کی تحریک کے خلاف تاریخ کے سب سے بڑے مجاھد بن کر سامنے آیے تھے۔  لہذا آج کوئی اگر کہتا ہے کے اس کے پاس نبی کا سچ مذہب ہے وہ جھوٹ بولتا ہے ۔

اس لیے سیاست، قانون، انصاف، سماجی سائنس ہے اور یہ تو دور کی بات ہے جو مذہبی عبادات ہیں وہ قران سے متصادم ہیں۔ سب سے پہلے ان کو ثابت کرو کے ان کی بنیاد وحی پر ہے۔

خفیہ ایجنسیوں نے امریکہ کی خفیہ جنگوں کے لیے عوام کے ورثے میں ملنے والے عقیدے کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے اور اس وقت تک کر رہے ہیں۔ بیس سال افغانستان پر امریکہ قابض رہا اور طالبان کے قبضے کا ڈھونگ رچا کر اپنی کٹھ پتلیوں کو کابل پر مسلط کر کے اس وقت تک ہر ہفتے ان کو چالیس سے اسی ملین ڈالر دیتا ہے اور خواتین کو انسان سے گرا کر جنسی غلام بنا دیا گیا ہے۔ 

ہر عہد کی سماجی ضرورتیں اس عہد کے رسم و رواج، اخلاقیات اور قاعدے قانون کو وجود میں لانے کا سبب ہوتی ہیں۔ اسی طرح قران اپنے عہد کی ضرورتوں کے مطابق مکہ اور مدینہ کے جو پہلے سے موجود قوانین تھے ان کو ہی ریفارم کرتا ہے۔ مثال کے طور پر پہلے قتل کے بدلے ایک سے زیادہ کا قتل اور لازمی نہیں تھا کے جس نے قتل کیا ہو اسی کا قتل یا خون بہا جسے قران نے ریفارم  کر کے بقرہ ایت 178 مرد کے قتل کے بدلے مرد؛ عورت کے قتل کے بدلے عورت؛ غلام کے قتل کے بدلے غلام یا خون بہا اور قتل وہی جس نے قتل کیا ہے۔ قران جس ماحول میں آترا وہ غلام دار معاشرے کا ماحول تھا اس لیے غلاموں کے لیے قانون بنایا گیا لیکن غلامی کو حرام نہیں قرار دیا۔ 

غلامی کو برطانیہ کے چیف جسٹس لارڈ مینسفیلڈ کی عدالت نے تاریخی سمرسیٹ بمقابلہ سٹیورٹ کیس (1772) میں مؤثر طریقے سے فیصلہ دیا کہ غلام بنائے گئے لوگوں کو انگلینڈ سے زبردستی نہیں نکالا جا سکتا، جس کے نتیجے میں جیمز سمرسیٹ کی آزادی ہوئی، کیونکہ غلامی کی حمایت انگریزی عام قانون سے نہیں تھی، صرف "مثبت قانون" (قانون) کے ذریعے تھی۔ مینسفیلڈ نے غلامی کو "اتنا گھناؤنا" قرار دیا کہ اسے نافذ نہیں کیا جا سکتا، حالانکہ حکمران تکنیکی طور پر جبری ہٹانے پر مرکوز تھے نہ کہ کالونیوں میں غلامی کے پورے ادارے کو ختم کرنے کی سوچ لیکن حالات ایسے پیدا ہوئے کے برطانیہ نے 1808 میں غلامی کو حرام قرار دیا۔ اسلام نے آج تک غلامی کو حرام قرار نہیں دیا اور اس وقت تک غلامی کو جائز سمجھا جاتا ہے۔ 

سورہ بقرہ ایت 177 میں عقیدے کی تعریف کی گی ہے، اس میں غلاموں کو آزاد کرانے کی ترغیب ہے نہ کے غلامی کو حرام قرار دیکر خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے کوئی سزا تجویز کی ہو۔ اسی بنیاد پر داعش یزیدی لڑکیوں کو جنسی غلام بنا کر رکھتے تھے اور یہ ہے بد نما چہرہ اس اسلام کا جس کی تعریفیں تم کر رہی ہو۔ جب کے قران ایسی کوئی بات نہیں کرتا کے اسکا قانون جو جس ضرورت کے تحت جس ماحول میں بنایا گیا وہ ہر عہد کے لیے ہے جب کے حقیقت یہ کے مسلمانوں نے عملی شکل میں قران کو بدل دیا ہے۔ آج دنیا میں آفشل جو مذہب غلامی کی حمایت کرتا ہے وہ اسلا ہے۔

قران میں کسی جگہ سنگسار یا رجم کی کوئی سزا نہیں ہے لیکن مسلمانوں نے بغداد میں یہودیوں کی تورات اور ھندو کی 
  منوہ سے دوبارا امپورٹ کرکے اسلامی کلچر کا حصہ بنا لیا۔ جس معاشرے میں قران آیا وہاں پر جیل کا کوئی نظام نہ مکہ میں تھا نہ مدینہ میں اس لیے ایسی سزایں دی جاتی تھی مثلا کوڑے مارنا؛ ہاتھ کاٹنا؛ قتل کے بدلے گردن کاٹنا یا علاقہ بدر کرنا۔ یہ سزایں اسلام سے پہلے اس معاشرے کا حصہ تھی اور ایسی سزایں اس لیے تھی چونکے معاشرے میں مجرموں کو قید رکھنے کا کوئی نظام نہیں تھا۔ جیل کا انتظام پہلی بار حضرت عمر کے دور میں شروع ہوا تھا۔

میں نے یہ ساری کہانی اس لیے لکھی ہے چونکے تم نے ایک عورت ہوتے ہوئے دو لفظ تو افغان عوام کی غلامی اور وہاں خواتین کو جنسی غلام بنانے پر نہیں لکھی مگر "سال کا پہلا دن ، پہلا روزہ پہلی تہجد" جس سے پتہ چلتا ہے کے خواتین کو بھی کس قدر گمراہ کیا گیا ہے۔ میں کسی اور کے خلاف لکھنے کے کچھ تلاش کر رہی تھی مگر آپ کی تحریر سامنے آگی۔

No comments: