انڈر ورلڈ ایک ہی ہوتی ہے دو نہیں اور نہ ہی انڈر ورلڈ دوست اور دشمن کی ہوتی ہے بلکے اس کی دشمنی قانون اور نظام کے ساتھ ہوتی ہے جو کھلا ولڈ کہلاتا ہے۔
اگر پاکستان سے نکلنے والی خبروں کو فیس ولیو پر سچ مان کر بات کی جائے تو پول ڈیویڈ کی ساری کہانی اس انڈر ورلڈ کی لگتی ہے جو پاکستان، افغانستان، جی سی سی اور انڈیا کے درمیان اپریٹ کرتا رہا ہے اور منشیات ان کے کاروبار کا بڑا پروڈکٹ رہا ہے۔
ساری نشانیہ جو بھی خبروں سے سامنے آئی ہیں وہ پاکستانی ہونے کا اشارہ کرتی ہیں نہ کے انڈین۔ کرسچن ہونا تاکے مغرب میں شک نہ ہو، امریکی نیشنل تاکے سفر میں مسلہ نہ ہو، رشتے داروں کو اپنے ساتھ ملاکر کام کرنا یہ سب پاکستانی نشانیاں ہیں۔
بہت سارے لوگ جن کو پاکستان دشمن بناکر پیش کیا جاتا اور جن کو ہوسکتا ہے بھارت والے فنڈنگ بھی کرتے ہوں مگر میری رائے میں ان کا اول تعلق آبپارا سے ہی تھا اور بعد میں کوئی اور یا آبپارا والوں نے خود ہی کسی کے ساتھ برج کیا ہو۔
انڈر ورلڈ کی بات کی جائے تو کہانی بہت پرانی ہے۔ مسٹر حسین جو جی ایچ کیو برانچ میں بنک مینجرہوا کرتے تھے اور ضیاء الحق کا منہ بولا بیٹا تھا، جیل میں کیوں تھا؟ خود ضیاء کا جہاز جب وہ اقوام متحدہ میں خطاب کے لیے جار رہا تھا تو پیرس کے ایرپورٹ پر ہیرون لے جانے کے شک میں روک لیا گیا تھا۔ یہ کہانی جنرل چشتی نے بھی اپنی کتاب میں لکھی ہے۔
پی پی کے دور میں جب رحمان ملک وزیر داخلہ تھا، تو چار پاکستانی جو منشیات کے جرم میں آذربایجان میں سزا کاٹ رہے تھے، پاکستان نے آذربایجان سے دوطرفہ مائدہ کرکے پاکستان اس شرط پر لائے تھے تاکے باقی کی سزا وہ پاکستان میں کاٹیں گے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا پھر بول ٹی وی، شہب شیخ کی ڈگریوں کی فکٹری جس کی خبر نیویارک ٹائم نے چھاپی تو پاکستانی انڈرولڈ کو پتہ چل گیا کے دنیا کو ان کے کارناموں کا کچھ نہ کچھ علم ہوچکا ہے۔ اس کے بعد چودری نثار کا بیان کے دنیا بھرسے جتنے بھی پاکستانی منشیات کے مجرم تھے پاکستان نے اس شرط پر پاکستان لائے تھے تاکے وہ باقی کی سزا پاکستان میں کاٹینگے، لیکن پاکستان لاکر سب کو رہا کردیا گیا تھا تاکے وہ اپنے اپنے کاروبار کو دوبارا جاری رکھ سکیں۔ اس میں کوکو نام کا ایک برمی بھی تھا جس کو بنکاک کی جیل سے پاکستانی شناخت دیکر پاکستان لایا گیا تھا اور پاکستان لاکر نہ صرف رہا کیا گیا بلکے سفارتی پاسپورٹ دیکر دوبارا کاروبار پر لگادیا گیا تھا۔ یہی سبب ہے کے چوھدری نثار وزیر داخلہ سے پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی سیٹ تک پہنچا کر یہ بتانا مقصد تھا کے پاکستان پر اصل حکمرانی منشیات کے تاجروں کی ہے جن کے مفادات کے خلاف تم نے زبان کھولنے کی ہمت کی ہے۔ جب اس سے اقوام متحدہ نے بندے مانگے تواس کے پاس تریتالیس میں سے جیل میں صرف تین تھے۔
زیادہ تر لوگ ایک ہی نام جانتے ہیں وہ ہے داود ابراہیم اور جس کے بارے بھارت کا میڈیہ بھی کافی شور کرتا ہے لیکن اب سینکڑوں داود ابراھیم ہیں جو پاکستان، ھندوستان، افغانستان اور جی سی سی کے درمیان آزادنہ اپریٹ کرتے ہیں۔
اس لیے یہ کہنا کے دشمن کی انڈر ولڈ تھی ایک مذاق سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ انڈرولڈ ساری دنیا میں ایک ہی ہوتی ہیں اور میری ابزیرویشن کے مطابق اس وقت شمالی امریکہ، جنوبی امریکہ، اسٹریلیا، یورپ، افریقہ اور ایشیاء میں سب ملکر کام کررہے ہیں۔ پول ڈیوڈ کا اگر تعلق ہے تو اس کو بھی ریکروٹ کرنے والے کوئی اور نہیں آبپارا کے ہی فرنٹ فیس ہونگے اس لیے باہر نہیں اندر دیکھیں۔
No comments:
Post a Comment