Sunday, April 29, 2018

آج کے مسلمانوں کی مذہبی سوچ اور معاشرتی اقتدار شروع کے اسلامی معاشرے سے بلکل متصادم ہیں۔

قران مشکل مقدس کتاب ہے۔ یہ جہاں پر اتری ہے وہاں کے لوگوں کی زبان ایک ڈالیکٹ تھی۔ یعنی صرف بولی جاتی تھی لکھی نہیں جاتی تھی۔ اس علاقے جس کو مغربی عربیہ کہتے ہیں جو بھی ثبوت اس وقت کی زبان کے بارے میں ملے ہیں وہ گریک زبان میں ہیں۔ یعنی چٹانوں اور پتھروں پر تحریریں۔ صرف دو یا تین تحریریں ارمنک زبان کی ہیں۔ اس لیے سوال یہ بیدا ہوا ہے کہ کاتب وحی کے پاس کون سا رسم الخظ تھا؟ ہال ہی میں پروفسر لیلا نے سعودی عرب کے شمال سے کچھ ثبوتوں کی بنیاد پر یہ دعوا کیا ہے کہ یہ زبان وحی کے نزول کے وقت موجود تھی۔ لیکن ہمارے پاس اس زبان میں بہلی کتاب قران ہے۔ مگر ہمارے پاس کاتب وحی کی کوئی تحریر جو ان کے ہاتھ کی لکھی ہو موجود نہیں ہے اور نہ ہی دوسری کوئی تحریر جو پیگن، جیوش اور کرسچن یا شاعری۔ کوئی تحریر نہیں ملی جو اس بات کی تصدیق کر سکے کہ یہ زبان 
اس وقت لکھی جاتی تھی۔

جو قران حضرت عمر کی تجویز پر حضرت ابوبکر کی خلافت کے دوران اور جنگ موتہ کے بعد حضرت زہدبن ثابت نے جمح ، ایڈیٹ اور کمپال کیا تھا وہ بھی موجود نہیں ہے۔ اس کے دو مین اسکرپٹس (manuscripts) تیار کئے گئے تھے اور دونوں حضرت ابوبکر کے حوالے کئے گئے تھے۔ ان کی وفات کے بعد حضرت عمر کو منتقل ہوے۔ حضرت عمر کی شہادت کے وقت انہوں نے اپنی بیٹی اور حضور کی بیوی حفضہ کے حوالے کیے تھے۔ جب حضرت عثمان نے زہد بن ثابت کی قیادت میں کیمٹی قائم کی جس میں زہد کے ساتھ تین قریش کے ممبران بھی شامل کیے گئے تھے۔ قریش کے ممبران کی شاملیت اس تصور کے تحت تھی کےحضور خود قریش تھے اس لیے قریشی حضور کی زبان کو بہتر سمجھتے تھے۔

زہد ایک تو انصار تھے دوسسرا ینگ تھے۔ جب حضور مدینہ پنچے تھے تو اس وقت زہد کی عمر صرف دس سال تھی ۔اس لیے جھگڑے کا سبب قران کی عبارت پر عدم اتفاق تھا۔ کیمٹی نے جو قران ترتیب دیا وہ سارے اسلامی سنٹرز کو ارسال کیا گیاتھا۔ مگر کوفہ کے لوگوں نے حضرت عثمان والی قران کی کاپی کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ان کے پاس عبداللہ ابن مسعود کی کاپی تھی اور حضرت عثمان کی کاپی کو ابن مسعود کی کاپی کے خلاف قبول کرنے کے خلاف  تھے۔ حضرت عثمان نے پہلے والی کاپیاں جلا دی۔ حضرت عثمان پر دس الزمات میں سے ایک الزام قران جلانے کا بھی تھا ۔
میں نے یہ سوال آج سے دس سال قبل اٹھایا تھا کہ پہلے والی قران کی کاپیاں کہاں ہیں؟ بعض نے جواب دیا کہ وہ تو جلا دی تھی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پرانے ریکاڑ کو کیوں جلایا گیا؟ جو دو مین اسکرپٹ کی کاپیاں بنائی گئی تھی، اس کی تین بنائی جاسکتی تھی۔ ایک کاپی نبی کی قبر کے سرمبادک کے ساتھ رکھ دی جاتی اور دوسری حرم کے اندر۔ سونے کی چابی تو حضور کے دادا حضرت عبدالمطلب کے پاس سے منتقل ہوئی تھی۔ ان دو جگہوں پر قران کے اول نسخوں اور کاتب وحی کی تحریروں کو محفوظ کیوں نہیں کیا گیا؟ اس لیے قران کی عبارت کا ارتقاء، اس کے مہنے و مفہوم پر اتفاق معاشرے کی   سماجی ضرورتوں کی جبر کے تابعے تھا۔  ہر سچ معاشرے کی اس وقت کی سماجی حقیقتوں سے باہر نہیں ہوسکتا  بلکہ ہر سچ اپنے اول  سے مشرط ہوتا ہے۔
ایک صاحب نے اپنی پوسٹ میں آیات اور مسجدوں میں رٹی رٹائی تقریر سے عقیدہ پرستوں کو متاثر کرنے کی کوسش کی ہے۔ ان کے لیے عرض یہ ہے کہ جو آیات کا وہ اردو ترجمہ دیکھتے ہیں وہ خود مشکوک ہیں۔ میں نے خود قران کے اردو ترجمے دیکھیے ہیں جو بلکل غلط ہیں۔ مثلا جلباب کو چادر قرار دیا اور اس میں لفظ چہرہ یا منہ اپنی طرف سے شامل کر لیا۔ جس آیات کو بنیاد بنا کر اور لفظ آسم کو گناہ قرار دیکر حنبلیوں نے شراب کو حرام قرار دیا تھا۔ اسی آیات کو میں نے ابن مسعود کی کاپی سے چک کیا تو وہاں "کبیر" کی جگہ "کثیر" ہےجو مہنہ اور مفہول میں پہت فرق ڈالتا ہے۔ لفط قران کا مطلب کتاب نہیں بلکہ قرۃ  اور کتاب کا مطلب لکھنا تھا۔ اس لیے جو پہلا قران کا نسخہ تھا اسے مشائف کہا گیا ہے۔ آج تک اس کا مطلب کیا ہے اور کہاں سے آیا اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔ بعض کے نزدک یہ اتھوپین لفظ ہے اور دوسروں کے نزدیک یہ آرمنک ہے۔ نہ ہی کتاب اللہ، کتاب یا قران کہا گیا ہے۔ اس لیے جو عبارت میرے سامنے آج موجود ہے اس کی تعبیرو تشریح آسان نہیں ہے جتنی مزہبی حلقے خیال کرتے ہیں۔ میرے اور اس عبارت کے درمیان ۱۴۰۰ سال کا فاصلہ موجود ہے۔ آج جو اسلام، اسلامی معاشرت کا تصور مذہبی اور عقیدہ پرستوں کے ہاں پایا جاتا ہے وہ شروع کے اسلام 
سے متصادم اور خوارجی مذہبی فکر کا اظہار ہے۔  

شروع کا اسلامی معاشرہ بلکل اگر نہیں تو کم و پیش آج کے مغربی معاشرے کے بہت قریب تھا۔ مثلا عربی کے چوٹی کے 
  شاعر جو حنبلیوں سے قبل کے بغداد کی تصویر اس طرح پیش کرتے ہیں۔
ابو نواز ۷۵۶ اور ۸۱۴ میں عباسی خلافت کے چوٹی کے شاعر کی زبان میں بغداد کی عام زندگی کیسی تھی

“Don't cry for Layla, don't rave about Hind!

But drink among roses a rose-red wine,

A drought that descends in the drinker's throat,

bestowing its redness on eyes and cheeks.

The wine is a ruby, the glass is a pearl,

served by the hand of a slim-fingered girl,

Who serves you the wine from her hand, and wine

from her mouth — doubly drunk, for sure, will you be!”

ابو نواز کی زبان میں شراب خانے معاشرے کی زندگی کا حصہ تھے، شراب خانوں میں خواتیں کام کرتی تھی۔ میں حیران ہوں کے آج کا اسلام کہاں سے آیا 

No comments: