Friday, April 14, 2017

ماصوم طالب علم مشعل خان کا قتل دراصل دھشت گردوں کی جنگی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ دھشت گردوں کا اجنڈا ابھی تک پاکستان کی کچھ طاقتورقوتوں کے ایک حصے کے نزدیک پاکستان کےمساہل کا بہترین حل ہے اور وہ پوری قوت کے ساتھ دہشت گردوں کے سیاسی مقاصد کے حوصول کے لیےپاکستان کو مزید مذھبی شدت پسندی کی طرف دھکہل رہے ہیں۔ حکومت کے وزیروں، کچھ سیاسی اور مذھبی رانماہوں کے بیانات اور میڈیا کے ایک حصے کا کردار اسی سمت کا اشارہ دیتا ہے۔ جن لوگوں نے اس قتل کی سازش کی یا کروایا وہ لازم دھشت گردوں کے سیاسی ونگ سے تلعق رکھتے ہونگےجسے تفتیش کے دوران دبا دیا جایگا۔ اس لیے ماصوم مقتول کے ورثا کو انصاف ملنا ناممکن نظر آتا ہے۔ مگر یہ پالیسی پاکستان کے کفن میں آخری کیل ثابت ہوسکتی ہے۔

No comments: