قدیم ترین رازداری: جب ڈجیٹل دور نے انسان کی پوشیدہ تاریخ سے پردہ اٹھایا
یہ خیال کہ غیر روایتی جنسی رویے—جیسے کہ محرمات میں شادی، شراکت داروں کا تبادلہ، کثیر الزواجی، اور تجارتی جنس—کوئی جدید پیداوار ہیں، غلط ہے۔ انسان شناسی (اینتھروپولوجی)، ارتقائی نفسیات، اور تاریخی عمرانیات بتاتی ہیں کہ یہ تمام چیزیں انسان کی انتہائی قدیم تاریخ سے چلی آ رہی ہیں۔
انٹرنیٹ اور اسمارٹ فونز نے ان رویوں کو جنم نہیں دیا؛ بلکہ انہوں نے ان طرزِ عمل کو صرف دنیا کے سامنے ظاہر کر دیا ہے جو ماضی میں بند دروازوں کے پیچھے، خفیہ طور پر یا خاص معاشرتی طبقوں میں موجود تھے۔
سائنس اور تاریخ کی روشنی میں اس موضوع کی تفصیل درج ذیل ہے
محرمات کا پس منظر اور ان سے پرہیز کی سائنس
اگرچہ بعض مذہبی داستانوں میں انسانی نسل کا آغاز بھائی بہن کی شادی سے جوڑا جاتا ہے، لیکن سائنسی نقطہ نظر یہ بتاتا ہے کہ انسان کی ارتقائی تاریخ میں خون کے قریبی رشتوں میں جنسی تعلق سے پرہیز کا ایک قدرتی نظام موجود رہا ہ
طور پر ایک دوسرے کے لیے جنسی کشش ختم ہو جاتی ہے۔ یہ ارتقائی نظام انسانوں میں جینیاتی بیماریوں کو روکنے کے لیے بنا تھا۔
شکاری و جمع کنندہ گروہ (ایکسوگیمی): قدیم دور میں انسان چھوٹے گروہوں میں رہتا تھا۔ جینیاتی صحت اور دیگر گروہوں سے سیاسی تعلقات قائم کرنے کے لیے وہ اپنے گروہ سے باہر شادیاں کرتے تھے (جسے ایکسوگیمی کہا جاتا ہے)۔
شاہی خاندانوں کے استثنیٰ: جب انسان نے زراعت سیکھی اور معاشرتی طبقات بنے، تو اعلیٰ حاکم طبقوں (ایلیٹ) نے اپنی دولت اور اقتدار کو باہر جانے سے روکنے کے لیے اپنے ہی خاندان میں شادیاں شروع کیں۔ قدیم مصر کے فرعونوں، انکا حکمرانوں، اور یورپ کے ہیبسبرگ خاندان میں بھائی بہنوں یا قریبی رشتوں کی شادیاں اس کی واضح مثالیں ہیں جہاں اقتدار کی خاطر فطری رکاوٹوں کو توڑ دیا گیا۔
ازدواجی نظام کا ارتقا: پولی گینی، پولی اینڈری، اور سواتپنگ
شادی اور تعلقات کے ڈھانچے ہمیشہ معاشی ضروریات کے تحت بدلتے رہے ہیں۔
پولی گینی (ایک سے زائد بیویاں): زرعی اور مردانہ تسلط والے معاشروں میں یہ نظام عام ہوا تاکہ امیر مرد زیادہ وسائل اور افرادی قوت جمع کر سکیں۔
پولی اینڈری (ایک سے زائد شوہر): ہمالیہ کے بلند علاقوں اور تبتی برادریوں میں یہ نظام زمین کی شدید کمی کی وجہ سے قائم ہوا۔ وہاں متعدد بھائی ایک ہی عورت سے شادی کرتے ہیں تاکہ خاندانی جائیداد کے ٹکڑے نہ ہوں۔
پارٹنر سواتپنگ اور غیر یک زوجیت: قدیم دور میں یک زوجیت (مونگیمی) کا تصور ہر جگہ سخت نہیں تھا۔ چند قدیمی قبائل میں "پارٹیبل پیٹرنٹی" کا تصور تھا، جہاں یہ مانا جاتا تھا کہ حاملہ عورت سے تعلق رکھنے والے تمام مرد بچے کے باپ ہیں اور سب مل کر اس کی پرورش کرتے ہیں۔
تجارتی جنس اور قدیم راستے
جنس کے عوض تجارت یا پروسٹی ٹیوشن کو دنیا کا قدیم ترین پیشہ کہا جاتا ہے کیونکہ جیسے ہی شہر، سکے اور معاشی عدم مساوات پیدا ہوئی، تجارتی جنس کا وجود سامنے آگیا۔ قدیم میسوپوٹیمیا، یونان اور روم میں یہ شہری معیشت کا ایک منظم حصہ تھا۔
ڈجیٹل دور: نئی پیداوار نہیں بلکہ صرف نمائش
موجودہ دور میں اسمارٹ فونز اور انٹرنیٹ کی وجہ سے جو تبدیلی آئی ہے، وہ ان رویوں کا وجود نہیں بلکہ ان کی نمائش (ویزیبلٹی) ہے۔
پرائیویسی کی آزادی: صدیوں تک غیر روایتی جنسی رویے خفیہ مقامات، خصوصی کلبوں یا اعلیٰ طبقوں تک محدود رہے۔
انکرپٹڈ نیٹ ورکس: اسمارٹ فونز اور انکرپٹڈ پلیٹ فارمز نے افراد کو گمنامی (اینونیمیٹی) اور دنیا بھر سے جڑنے کا موقع دیا ہے۔
No comments:
Post a Comment