پاکستان مسلسل اپنی قانونی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا ہے، جس کی وجہ سے جموں و کشمیر کے عوام کا خون پچھلے پچھتر سال سے بہہ رہا ہے۔ پاکستان نے یہ تسلیم کیا تھا کہ پاکستانی فوج، قبائلیوں اور دیگر پاکستانی شہریوں کا مکمل انخلا ہوگا، اور یہ طے پایا تھا کہ خالی کرائے گئے علاقے کا انتظام کمیشن کی نگرانی میں مقامی حکام سنبھالیں گے۔ پاکستانی انخلا کے بعد بھارت نے بھی اتفاق کیا تھا کہ وہ اپنی افواج کا بڑا حصہ واپس بلا لے گا اور انہیں صرف اس کم از کم سطح تک محدود کر دے گا جو امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہو۔
ایسی قانونی صورتِ حال میں یہ بغاوت نہیں بلکہ ان لوگوں سے مطالبہ ہے جو قانون پر مسلسل عمل نہیں کر رہے کہ وہ اس پر عمل کریں۔ کیونکہ اس ریاست بھر کے عوام کی زندگی، جسے جنت کہا جاتا تھا، پاک و بھارت کی توسیع پسندی کی جنگوں نے
جہنم بنا دیا ہے اور عوام مزید برداشت نہیں کر سکتے۔
بھارت نے جو بھی تبدیلیاں کی ہیں ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، بلکہ وہ نوآبادیاتی جبر کا حصہ ہیں۔ جبکہ پاکستان کمیشن کی قرارداد پر عمل نہیں کر رہا جس کی وجہ سے ریاست کے عوام کو حق خود اختیاری نہیں مل رہا ۔ پاکستان عمل کرتا تو بات آگے بڑھ جاتی اور جموں و کشمیر کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع ملتا مگر پاکستان اس میں بنیادی رکاوٹ ہے۔ بھارت پاکستان کے فوجی انخلا کو جواز بنا کر اپنی قانونی ذمہ داری سے بھاگنے کی کوشش کر رہا ہے، مگر بھارت یہ نہیں بھول سکتا کہ اس کا تعلق جموں و کشمیر کے ساتھ عارضی الحاق کی دستاویز پر کھڑا ہے۔
عارضی الحاق کی دستاویز اول تو صرف دفاع، خارجہ امور اور مواصلات تک محدود ہے۔ دوم، اس میں کسی قسم کی تبدیلی صرف جموں و کشمیر ہی کر سکتا ہے؛ بھارتی عوام، بھارتی پارلیمنٹ، بھارتی حکومت اور بھارتی عدالتیں بغیر جموں و کشمیر کی منظوری کے ایسا نہیں کر سکتیں۔
مزید یہ کہ عارضی الحاق جموں و کشمیر اور انڈیا کے درمیان ہے، پاکستان اور انڈیا کے درمیان نہیں۔ عارضی الحاق بھارت کو پابند کرتا ہے کہ وہ ریاست کے اتحاد کو یقینی بنائے تاکہ سری نگر کی حکومت مظفرآباد کی مقامی اتھارٹی کے ساتھ مل کر اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں عوام کی رائے کے لیے ریفرنڈم کا انتظام کرے، تاکہ عوام اپنا فیصلہ دے سکیں۔ پاکستان کی وجہ سے انڈیا اپنی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتا۔
ہندوستان کے گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے لکھا تھا کہ: "میری حکومت کی خواہش ہے کہ جیسے ہی جموں و کشمیر میں امن و امان بحال ہو جائے اور وہاں کی سرزمین حملہ آوروں سے پاک ہو جائے، تو ریاست کے الحاق کا معاملہ عوام کی رائے معلوم کر کے طے کیا جائے"۔
کیا جموں و کشمیر کے عوام کی رائے کبھی معلوم کی گئی ہے؟ نہیں۔ یہ عارضی الحاق کی بنیادی ضرورت ہے، چاہے اقوامِ متحدہ کی قراردادیں نہ بھی ہوں۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں بھی اسی عارضی الحاق پر مبنی ہیں۔
انڈین اکثر «اٹوٹ انگ» کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ کس لا کالج سے قانون کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ قوموں، ریاستوں، علاقوں اور مختلف انسانی قبیلوں و گروہوں کے درمیان تعلقات بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں۔ ہر شادی کے نظام کے ساتھ طلاق کا نظام بھی ہوتا ہے، اور ہر حقِ الحاق کے نظام کے ساتھ حقِ علیحدگی کا نظام بھی ہوتا ہے۔ میں آج سے 26 سال قبل سی این این کے مسیج بورڈ پر بھارتیوں کے ساتھ بحث کرچکا ہوں جن کے پاس کوئی جواب نہیں تھا سوائے مجھے گالیا دینے کے جس کے نتجے میں سی این این ان کی گالیوں والی پوسٹ کو ڈلیٹ کرتا تھا اور وہ سی این این پر بھی میری حمایت کا الزام لگاتے تھے۔
میری رائے میں انڈین حکومت کا "اٹوٹ انگ" کی گردان انکا ستی کی ظالمانہ رسم سے ابھی تک چمٹے رینے کی سوچ ہے جس میں خاوند کی فطری موت کے ساتھ بیوی کو بھی قتل ہونا پڑتا تھا یعنی شادی کے ساتھ طلاق کا نظام نہیں تھا۔ اگر برطانیہ نہ آتا تو کیا خبر کے بھارت کی خواتین آج تک اس رسم کی وجہ سے قتل ہوتی ریتی۔
برطانیہ یکم جنوری 1973 کو پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے ذریعے، عوامی رائے شماری کے بغیر، یورپی اقتصادی برادری میں شامل ہوا۔ رکنیت کی توثیق کے لیے جون 1975 میں ریفرنڈم کرایا گیا، جس کے نتیجے میں 67 فیصد ووٹ تنظیم میں رہنے کے حق میں پڑے۔ کئی دہائیوں بعد جب حکومت کو احساس ہوا کہ عام لوگ یورپی یونین کے الحاق پر خوش نہیں، تو 2016 میں ہونے والے دوسرے ریفرنڈم کے نتیجے میں یورپی یونین سے علیحدگی کا فیصلہ کیا گیا۔
کینیڈا نے 1980 اور 1995 میں کیوبیک کے لیے، اور برطانیہ نے 2014 میں اسکاٹ لینڈ کے لیے ریفرنڈم منعقد کیے۔ دونوں ممالک نے آزادی کے حوالے سے پرامن ووٹنگ کی اجازت دی۔ چونکہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کا احترام کیا گیا، اس لیے کسی کی جان ضائع نہیں ہوئی۔ پرامن سیاسی تبدیلی سے انکار اکثر نفرت، انتہاء پسندی، تصادم، تشدد اور تنازعات کا باعث بنتا ہے جسکا نتجہ مسلح اپوزیشن کی شکل میں نکلتا ہے جس سے امن تباہ ہوتا ہے، معاشرے قتل و غارتگیری، بھوک، افلاس اور غربت کا شکار ہوتے ہیں۔
سردار امان نے یہ اعلان پلندری میں عوام کے اجتماع کی تائید سے کیا ہے، جس کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ ہمارے اجداد نے اپنے بادشاہ کے خلاف متوازی آزاد اور خودمختار حکومت کا اعلان اور قیام اکتوبر 1947میں پلندری میں آزاد کشمیر کے نام سے قائم کی تھی۔
No comments:
Post a Comment