صلاالدین ایوبی کون تھا؟ یہ تو ہم جانتے ہیں کے وہ کرد تھا لیکن وہ سلطنت کون سی تھی جس کا وہ سلطان تھا؟
کیا وہ بنو امیہ، بنو عباسیہ یا سلطنت عثمانیاں کا سلطان تھا؟ وہ کسی بھی سلطنت کا سلطان نہیں تھا۔ وہ کرد سنی تھا اور سلطنت فاطمی کا جنرل تھا۔ اس کا صلیبی جنگوں میں کوئی بڑا کردار نہیں صرف ایک جنگ کی قیادت کی فاطمی جنرل کے طور پر اور وہ تھی شام کے شہر حلب میں۔ ساری صلیبی جنگیں فاطمیوں نے لڑی تھی اور آخری جنگیں انہوں سلطنت عثمانیاں کی فوج کے خلاف بھی لڑی۔ جنگوں کی وجہ فاطمی سلطنت ختم ہوئی اور جب بہت زیادہ کمزور ہوگی تو اسلامی تاریخ کا پہلا جنرل ہے جس نے اپنی ہی سلطنت پر قبضہ کر کے اس کا نام سلطنت ایوبیا رکھ لیا تھا۔ چونکے یہ سنی تھا اس کو عوام کی کوئی حمایت نہیں تھی اس لیے پچاس سال اسکی سلطنت کی عمر ہے جو فاطمیوں کی ہی تھی۔
بنوعباسیہ، سنیوں یا شعیہ امامیہ کا کوئی کردار نہیں ہے صلیبی جنگوں میں۔ یہ فراڈی بغداد میں بیٹھکر یہودی کہانیوں کو اسلام کا برقعہ پہناتے تھے جس کا نتجہ آج کا پورا اسلامی کلچر قران سے متصادم ہے۔ کیا عرب بغاوت حسین بنی علی کی وجہ سے ہوئی تھی یا اس کا بغاوت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
عرب بغاوت سب سے پہلے بنو خالد قبیلے (خاص طور پر الحمید شاخ) نے 1669ء میں مشرقی عرب میں اپنی حکومت قائم کی۔ امیر براک بن غریر کی قیادت میں قبیلے نے عثمانی سلطنت کو شکست دی اور انہیں لحسہ ایالت سے باہر نکال دیا، اور بنو خالد امارت قائم کی جس کا دارالحکومت المبرز تھا۔
پہلی سعودی ریاست (إِمَارَةُ الدِّرْعِيَّةِ) 1727ء میں امام محمد بن سعود نے قائم کی۔ الدِّرْعِيَّةِ شہر میں مرکز رکھنے والی یہ ریاست ایک چھوٹے سے نخلستان والے قصبے سے ایک طاقتور ریاست بن گئی جس نے جزیرۂ نما عرب کے بیشتر حصے کو متحد کر لیا۔ یہ ریاست بالآخر 1818ء میں عثمانی فوجوں کے طویل محاصرے کے بعد ختم ہو گئی، جن کی قیادت مصر کے گورنر محمد علی پاشا کے بیٹے ابراہیم پاشا کر رہے تھے۔ اس کا علاقہ موجودہ سعودی عرب، تمام جی سی سی ریاستیں، اردن اور یمن پر مشتمل تھا۔ اس کے رہنما عبداللہ آل سعود کو استنبول لے جایا گیا اور وہاں ان کا سر قلم کر دیا گیا۔ تاہم 1824ء میں ایک شہزادے نے مصر کی جیل سے فرار حاصل کیا اور ریاض آکر حکومت کو دوبارہ قائم کر دیا۔
پہلی جنگ عظیم کے دوران حجاز کا گورنر حسین بن علی استنبول میں تھا چونکے خلیفہ کو پتہ چل چکا تھا کے برطانیہ اس کے ساتھے مل کر سازش کریگا اور بحیرہ احمر کے برطانیہ کے جنگی جہاز کے کپٹن کے ساتھ سات خطوط مشہور ہوئے تھے۔ چونکے برطانیہ مکہ پر اثر سے سے انڈیا پر اپنے نوآبادیاتی قبضے کی ضمانت سمجھتا تھا۔ لہذا جنگ کے دوران خلفیہ نے حسین بن علی کو استبول میں اپنے پاس ہی رکھا تھا۔
مزید تاریخ نیچے خود پڑھ لیں کے اصل واقعات تاریخ نے کیسے ریکارڈ کیے اور پاکستانی میڈی قصے کہانیاں کر کے کس طرح اپنے عوام کو بیوقوف بناتا ریتا ہے۔ بات سلطنت عثمانہ پر یورپ کے بنکوں کے قرضوں کی تھی۔
عثمانی سلطنت کے زوال کے بعد، شام نے 8 مارچ 1920 کو اپنی آزادی کا اعلان کیا اور مختصر العمر عرب سلطنتِ شام قائم کی۔ اس نئی قرار دی گئی مملکت کا پہلا اور واحد حکمران بادشاہ فیصل اول (فیصل بن حسین) تھا۔
عرب سلطنتِ شام کی تشکیل پہلی جنگِ عظیم کے دوران عرب بغاوت سے ابھرنے والے ایک آزاد عرب ریاست کے وعدوں کو حقیقت میں تبدیل کرنے کی کوشش تھی۔ تاہم، آزادی کا یہ دور نہایت مختصر رہا
اعلانِ آزادی: شامی قومی کانگریس نے فیصل کو پورے Levant (شام، لبنان، فلسطین اور اردن پر مشتمل) علاقے کو شامل ایک خودمختار ریاست کا بادشاہ قرار دیا۔
زوال: یہ اعلان جنگ کے بعد ہونے والی سان ریمو کانفرنس میں یورپی اتحادی طاقتوں نے تسلیم نہیں کیا۔ اس کے بجائے انہوں نے فرانس کو اس علاقے پر مینڈیٹ (تحویل) دے دیا۔
فرانسیسی حکمرانی: فرانسیسی فوج دمشق کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے آگے بڑھی، جولائی 1920 میں میسلون کی جنگ میں شامی فوج کو شکست دی اور بادشاہ فیصل کو جلاوطن کر دیا۔
شام کو مکمل اور مستقل آزادی فرانسیسی فوجوں کے انخلا تک نہ مل سکی، جو اپریل 1946 میں ہوا۔ اس کے بعد تجربہ کار قوم پرست شکری الکواٹلی نے مکمل طور پر آزاد شامی جمہوریہ کے پہلے صدر کے طور پر عہدہ سنبھالا۔
کیا فرانس کی فوج کا کمانڈر صلاالدین ایوبی کی قبر پر گیا تھا یا اس نے ایسا کچھ کہا تھا؟ تاریخی اتفاقِ رائے: مورخین کا عام اتفاق ہے کہ یہ اقتباس — جو فرانسیسی نوآبادیاتی مینڈیٹ کو صلیبی جنگوں کا تسلسل قرار دیتا ہے — ایک رومانوی یا مبالغہ آمیز قصہ ہے۔ کوئی سرکاری معاصر دستاویز موجود نہیں ہے جو یہ ثابت کرے کہ گورو، یا ان کے قائم مقام کمانڈر جنرل ماریانو گوئبیٹ نے قبر پر یہ بیان دیا تھا۔
نیپولین نے جولائی 1798 میں عثمانی سلطنت کے صوبہ مصر پر حملہ کیا تاکہ برطانیہ کے ہندوستان تک جانے والے تجارت کے راستوں کو مختل کر سکے۔ فرانسیسی فوجوں نے تقریباً تین سال تک یہ قبضہ برقرار رکھا، اور بالآخر ستمبر 1801 میں برطانوی-عثمانی مشترکہ فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ فرانسیسی بیڑے کو اگست 1798 میں نیل کی لڑائی میں ریئر ایڈمرل ہورییشیو نیلسن کی قیادت میں برطانوی رائل نیوی نے مشہور طور پر تباہ کر دیا۔
نیپولین نے اگست 1799 میں اپنی پھنسی ہوئی فوج کو چھوڑ کر فرانس واپس لوٹ آیا تاکہ سیاسی اقتدار پر قبضہ کر سکے، اور اپنے جرنیلوں کو پیچھے چھوڑ دیا جو بیماری، طاعون اور مقامی و عثمانی حملوں کے خلاف مسلسل مزاحمت کرتے رہے۔
محمد علی پاشا، جو مصر کے عثمانی گورنر (والی) تھے اور بہت طاقت کے خواہشمند تھے، نے اپنی جدید فوج—جس کی کمان ان کے بیٹے ابراہیم پاشا کے پاس تھی—شام (لیونٹ) اور اناطولیہ کے کچھ حصوں کو فتح کرنے کے لیے بھیجی۔
یہ 1832 میں، قونیہ کی لڑائی میں عثمانی فوجوں کو شکست دینے کے بعد، مصری فوج اناطولیہ میں داخل ہوئی اور کتاہیہ میں خیمے لگا لیے—جو عثمانی دارالحکومت استنبول سے تقریباً 250 میل کے فاصلے پر تھا۔
عثمانی سلطنت کے ممکنہ خاتمے سے گھبرا کر سلطان محمود دوم نے مدد کی درخواست کی۔ 1833 میں ایک روسی بیڑا اور فوجی دستہ استنبول کے دفاع کے لیے باسفورس میں پہنچ گیا۔
نتیجہ (1833): بڑھتی ہوئی روسی اثر و رسوخ سے گھبرا کر برطانیہ اور فرانس نے مداخلت کی اور کتاہیہ کا معاہدہ طے کروایا، جس کے تحت محمد علی کو شام اور ادانہ پر کنٹرول دے دیا گیا۔
دوسرا بحران (1839): دوبارہ جنگ چھڑ گئی اور مصریوں نے نزيب کی لڑائی میں عثمانی فوج کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ تاہم عثمانی سلطنت ایک بار پھر مکمل فتح سے بچ گئی جب برطانیہ، آسٹریا، روس اور پرشیا کے اتحاد نے محمد علی کو 1840 میں شام سے نکل جانے پر مجبور کر دیا
عثمانی سلطنت کے زوال کے بعد، اس کا جنگ سے پہلے کا بہت بڑا بیرونی قرضہ — جو عثمانی عوامی قرضہ انتظامیہ کے زیر انتظام تھا — نئے تشکیل پانے والے جانشین ریاستوں میں تقسیم کر دیا گیا، جن میں شام، لبنان اور عراق کے مینڈیٹ علاقے بھی شامل تھے.
ان قرضوں کی ذمہ داریوں کا یورپی طاقتوں کے ساتھ مالی اور سیاسی تقسیم درج ذیل ہے
شام اور لبنان: معاہدہ لوزان کے تحت، فرانسیسی مینڈیٹ برائے شام و لبنان کو کل عثمانی عوامی قرضے کا تقریباً ۸ فیصد حصہ تفویض کیا گیا۔ عثمانی حکومت پہلے مشرق وسطیٰ (لیونٹ) میں اہم آمدنیاں جمع کرتی تھی، اور بعد میں فرانسیسی انتظامیہ نے اس حصے کی ادائیگی کی ذمہ داری سنبھال لی، جس سے ابتدائی شامی اور لبنانی بجٹ پر بھاری بوجھ پڑا۔
عراق: اسی معاہدے کے تحت، عراق (جو اس وقت برطانوی مینڈیٹ برائے میسوپوٹیمیا تھا) کو عثمانی عوامی قرضے کا تقریباً ۵ فیصد حصہ دیا گیا۔ برطانیہ نے او پی ای ڈی کی تفویض کردہ آمدنیاں عراق میں جمع کیں اور انہیں نئی قائم ہونے والی عراقی حکومت کے حوالے کر دیا تاکہ وہ قرضوں کی ادائیگی کا انتظام کر سکے۔
مصر: مصر کی مالی الجھن انتہائی مختلف نوعیت کی تھی۔ مصری خدیویوں کے بھاری غیر ملکی قرضوں نے شدید قرضوں کے بحران کو جنم دیا، جس کی وجہ سے 1876 تک برطانیہ اور فرانس کے مشترکہ مالی کنٹرول کے ذریعے عوامی قرضہ فنڈ کے تحت مصر پر کنٹرول قائم ہو گیا۔ اس کے علاوہ، 19ویں صدی میں عثمانی قرضے باقاعدگی سے مصری ٹیکسوں اور خراجِ پیشکش کی ضمانت پر حاصل کیے جاتے تھے۔
برطانیہ اور فرانس: براہ راست قرض لینے والوں کی بجائے، برطانیہ اور فرانس بنیادی طور پر قرض دہندگان اور مینڈیٹ نگراں کے طور پر کام کر رہے تھے۔ یورپی بینکرز کے پاس عثمانی ریاست کے بانڈز کی بڑی تعداد موجود تھی، اور ان طاقتوں نے اس قرضے کو خطے میں سیاسی اور معاشی اثر و رسوخ کے لیے استعمال کیا۔ معاہدہ لوزان کے تحت، ترکی کی اس قرضے کی ذمہ داری ختم ہو گئی، اور باقی بوجھ مکمل طور پر متعلقہ علاقائی جانشین ریاستوں پر منتقل کر دیا گیا، جو یورپی کنٹرول والے قرضہ کونسلز میں ادائیگیاں کرتی تھیں۔
یہ علاقے لیگ آف نیشنز کے کوویننٹ کے آرٹیک 22 کے تحت مینڈیٹ قرار دیے گئے تھے، جس نے سابق عثمانی اور جرمن علاقوں کے انتظام کے لیے قانونی فریم ورک قائم کیا تھا۔
اس قانونی ڈھانچے کے تحت، ان علاقوں کو کلاس اے مینڈیٹس کی کیٹیگری میں رکھا گیا
شام اور لبنان فرانس کے حوالے کیے گئے۔
عراق برطانیہ کے حوالے کیا گیا۔
مصر: مصر کبھی لیگ آف نیشنز کا مینڈیٹ نہیں تھا۔ مصر رسمی طور پر عثمانی سلطنت کا حصہ تھا لیکن 1914میں برطانوی پروٹیکٹوریٹ بن گیا۔ برطانیہ نے 1922 میں یک طرفہ طور پر مصر کی آزادی کا اعلان کیا، اور یہ تعلق بعد میں 1936 کے انگلو-مصری معاہدے کے ذریعے باقاعدہ شکل دی گئی۔
No comments:
Post a Comment