Friday, June 26, 2026

مسلمان معاشروں میں عوام کے اسلام کے بارے میں خودساختہ نطریات ہیں جو قران سے مکمل طور پر متصادم ہیں۔ اسکا بنیادی سبب بغداد میں دو سو سال بعد مولوی کلچر کا فروغ تھا، جو حدیث قران سے متصادم ہو وہ حدیث من گھڑت کہانی کے سواے کچھ نہیں۔ أفضل طاہر

 


 میں نے یہ جواب خرام خان کے ایکس پر اس سوال کے جواب میں لکھا تھا جس میں اس نے یہ وڈیو پوسٹ کی تھی کے اب اسلامی رپبلک آف پاکستان میں جسم فروشی کا ٹی وی پر اشتہار چلایا جارہا ہے۔ خرم صاحب کو اعتراض اس لیے تھا کے یہ ملک اسلامی ریپلک ہے لہذا اسلامی رپبلک میں اسلام کے خلاف چیزوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ میرا جواب اسلام اورمردوں کی جنسی انٹرٹینمنٹ کی مارکٹ کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیےاس صنعت میں کام کرنے والی محنت کش خواتین اورقران اور اسلامی رپبلک کی ٹرم مسلمان کلچر میں کب آئی اور اس کی حقیقت کیا ہے۔ میرا موقف یہ ہے کے مسلمانوں میں مذہبی سیاست کو عالمی صہونی ایجنڈے کے تحت ایجاد کیا گیا تھا اور یہ اسی نسل پرست نظریے کے بقاء کی ضمانت کے طور پر کام کررہی ہے۔ یہ میرا نقطہ نظر ہے اختلاف آپکا حق ہے۔   

سورہ نور ایت 33:وَلَا تُكۡرِهُواْ فَتَيَٰتِكُمۡ عَلَى ٱلۡبِغَآءِ إِنۡ أَرَدۡنَ تَحَصُّنٗ لِّتَبۡتَغُواْ عَرَضَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۚ وَمَن يُكۡرِههُّنَّ فَإِنَّ ٱللَّهَ مِنۢ بَعۡدِ إِكۡرَٰهِهِنَّ 
غَفُورٞ رَّحِيمٞ۔

(ترجمہ: اور اپنی لونڈیوں کو اپنے دنیوی فائدے کے لیے انکو جنسی بزنس پر مجبور نہ کرو۔ اور اگر کوئی انہیں زبردستی اس پر مجبور کرے گا تو ایسی مجبوری کے بعد اللہ ان کے لیے بخشنے والا اور مہربان ہو گا).


قران یہاں غلام خواتین کے ساتھ جبر کو منع کر رہا ہے۔ اول اس عہد کے رسم و رواج جو غلام دار معاشرے کے عہد کے تھے نہ کے شہری اور ریاست کے عہد کے رسم و رواج و قوانین کے عہد کے تھے۔ غلام خواتین جنسی بزنس کی آمدن خود نہیں رکھ سکتی تھی بلکے مالک کو لازمی دیتی تھی اور خود بھی مالک کے ساتھ سوتی تھی اگر مالک ڈیمانڈ کرے۔ ایک خاتون کے اگر دو مالک تھے تو اسے باری باری دونوں کے ساتھ سونا ہوتا تھا اور حمل کی صورت بچہ کون سے مالک کا ہوگا فقہ کے قانون میں یہ بھی طے ہے۔


آج جو خواتین مردوں کی جنسی ضرورت کی مارکٹ کی ڈیمانڈ کو پورا کرنے کے لیے جنسی صنعت کی انٹرٹینمنٹ میں جنسی محنت مزدوری کرتی ہیں وہ اپنی محنت کا نرخ خود طے کرتی ہیں اور اپنے گاہک سے وہی لیتی ہیں جس کا وعدہ ہوتا ہے۔ وہ اپنا کاروبار دینداری اور ایمانداری سے کرتی ہیں۔ اول قران جنسی تعلقات کو منع نہیں کرتا بلکے جب دو بالغ انسان زبانی یا تحریری سروس دینے اور سروس لینے کا مائدہ کرتے ہیں تو یہ ان کے درمیان ایک مائدہ ہوتا ہے جو سروس دینے کے بعد ختم
ہوجاتا ہے۔ اسی کو نکاح کہتے اور نکاح ایک سیول کنٹرکٹ ہے۔

اسلام آنے سے ایک دو سو سال پہلے کے مکہ کے معاشرے میں جنسی صنعت میں محنت کرنے والی خواتین میں سے اگر کوئی حاملہ ہو جاتی تھی تو اس عرصے میں جتنے بندوں نے اس سے جنسی تعلق کیا تھا جن سے ان کے حمل کا امکان تھا سب کو بولایا جاتا تھا اور سب کو حاضر ہونا پڑھتا تھا۔ کوئی انکار نہیں کر سکتا تھا۔ خاتون جس کے ذمے بچہ لگاتی تھی کے بچہ تمارا ہے تواسے قبول کرنا ہوتا تھا اور بچے کے مستقبل کی فلاح و بہود کی ذمداری لینا ہوتی تھی نہ کے آج کی طرح گرل فرنڈ کو حاملہ کر کے سپڈ آف لائٹ کی رفتار سے بھاگ جانا اور بعض خاوند تو ّجکل خاص مفادات کے تحت بیوی پر بھی الزام لگا دیتے ہیں کے یہ بچہ میرا نہیں پتہ نہیں کس کا۔


لہذا محترم اسلام میں جنسی تعلقات جن میں حقوق و فرائض کا تعین ہو، منع نہیں ہیں وہ تعلقات رضامندی سے نکاح کے اندر ہوں یا رضامندی سے نکاح کے باہر۔ اس میں لازمی شرط دونوں کا عاقل و بالغ ہونا ہے جو اج کے وقت کے معاشروں میں اٹھارہ سال یا اس سے زیادہ ہے۔ سورہ نساء ایت 24 سورہ المومنون ایت 6 سورہ حزاب ایات 50/52 سورہ المہارج ایت 30 نکاح کے بغیر غلام عورتوں کے ساتھ جنسی تعلقات کی اجازت دیتا ہے۔ لہذا بالغ انسانوں کا رضامندی کے ساتھ ایک ساتھ رینا اور جنسی تعلقات قائم کرنا حرام نہیں بلکے معاشرے کو قانون سازی کی ضرورت ہے جو ساتھ رینے والے جوڑوں کو حقوق و فرائض کا پابند بنائے نہ کے قانون کی سماجی ضرورت کو ان پڑھ ملاوں کے مشوروں سے معاشروں کو انارکی کا شکار کیا جائے؟

اب سوال اسلامی ریپلک کے کیڑے کا ہے؟ اسلام کی پہلی سیاسی اکائی خود نبی کی قیادت میں مدینہ میں بنی تھی جو مثیاق مدینہ کے نام سے مشہور ہوئی۔ وہ دستاویز جو خود نبی ﷺ نے تیار کی تھی جس میں مدینے کے سارے لوگوں کی رضامندی شامل تھی، اس میں مسلمان مہاجرین، مسلمان انصار، یہودی قبیلے، زرتشت، صبین، کرسچن اور دوسرے غیرمسلم قبائل شامل تھے۔ اُس مائدے کا نام جو نبی نے خود تحریر کیا تھا اور جس کے انتظام کے ہیڈ نبیﷺ خود تھے اس کی کسی جگہ اسلامی ریاست مدینہ یا اسلامی آہین لکھا ہو تو مجھے بتا دیں۔ اس کا نام ہے میثاق مدینہ اور وہ دستاویز آج بھی موجود ہے۔


پہلا حکمران ابوبکر صدیق "خلیفہ تل رسول اللہ" دوسرے "عمر خلیفہ تل خلیفہ تل رسول اللہ"۔ حضرت عمر نے عبداللہ ابن معسود جو کوفہ کے گورنر تھے، سے کہا کے مجھے عراق کے دو ایسے بندے بھیجو جو عراق کے لوگوں کے کلچر، تاریخ، رسم رواج کے علم کی مہارت رکھتے ہوں تاکے میں اس معاشرے کے لوگوں کو سمجھ سکوں۔ عراق اور شام قدیم تہذیب سمیری اور اکادی تھی جنہوں نے دنیا کو آبپاشی کا طریقہ سکھایا، زبانی بولی کو تحریر کی شکل دی۔ دنیا کا پہلا قانون اس تہذیب نے دیا جسے حموربی کا قانون کہا جاتا ہے۔ وہ دو عراقی جب آئے تو انہوں نے کہا کے ہمیں "امیر المومنین" نے بولایا ہے۔ سکرٹری نے ان کی بات کو ہی حضرت عمر کے سامنے دورایا کے کچھ لوگ امیر المومنین سے ملنے آیے ہیں۔ حضرت عمر نے اپنے سکرٹری سے سبب پوچھا کے یہ ٹرم تمیں کس نے بتائی۔ جواب دیا کے جو آپ کو ملنے آئے ہیں انہوں نے۔ دونوں عراقی حضرت عمر سے ملے تو حضرت عمر نے ان سے دریافت کیا تو انہوں کہا کے ہم "مومن" اور آپ "امیر" لہذا آپ امیر المونین ہوئے اس کے بعد ٹاٹل امیر المونین ہوگیا جبکے حضرت علی ٹائٹل امام استعمال کرتے تھے۔ کسی حکومت یا ریاست کے ساتھ "اسلامی" کی دم پوری اسلامی تاریخ میں نظر نہین آتی۔

پہلی سلطنت بنوامیہ، قبیلے کے نام پر؛ دوسری سلطنت بنو عباسیہ قبیلے کے نام پر؛ ان کی مخالف سلطنت فاطمی شخصیت اور خاتون کے نام پر؛ چوتھی سلطنت عثمانیہ قبیلے کے نام پر؛ مشرقی عربوں میں سلطنت عثمانیہ کے خلاف پہلی بغاوت 1669 میں سلطنت کا نام بنی خالد، قبیلے کا نام؛ پہلی سعودی سلطنت (1727-1819) إِمَارَةُ الدِّرْعِيَّةِ جگہ کا نام؛ دوسری سعودی سلطنت (1824-1892) إمارة نجد جگہ کا نام؛ اسی طرح تیسرے سعودی سلطنت جگہ کے نام پر اور اب قبیلے یا جگہ کے نام پر ساری جی سی سی، اردن، مصر، لبنان، شام، عراق، یمن، لبیا، تونس، مراکش، الجیریہ، ترکی، انڈونیشیا، ملاشیا کسی ایک ملک کے ساتھ اسلامی ریپلک کی دم مجھے بتادیں یا امارات اسلامیہ کا دم مجھے بتا دیں۔ ہر ملک کا اپنا نام ہے اور اسکے ساتھ بادشاہت کا نام ہوگا یا عوامی جمہوریہ یا عرب جمہوریہ کا نام۔ کسی ایک کے ساتھ بھی اسلامی جمہوریہ یا امارت اسلامیہ نہیں لگا ملے گا بلکے ہر نام کے پیچھے معاشرے کی فطری کائی ہے جو اپنے عوام کو یا طبقات یا پوری ریاست کے علاقے کی بنیاد پر متحد کرنے کی سوچ ہے۔

جو ملک اپنے عوام کو مذہب اور فرقے کی بنیاد پر تقسیم کرتے ہیں یعنی مذہبی نسل پرست ہیں وہ اس وقت دنیا میں چار ہیں۔ 1) اسلامی ریپبلک آف پاکستان 2) اسلامی ریپلک آف ایران 3) اسلامی امارت افغانستان 4)  ریاست اسرائیل ہے۔ اس نام والی  ریاستوں کی عمر ستر اسی سال سے زیادہ نہیں ہے۔


اس وقت ان چار ریاستوں کا نام 2 نومبر، 1917، بالفور اعلان نامہ کی ضرورت سے ہم آہنگ ہے جس میں فلسطین میں "یہودی لوگوں کے لیے قومی گھر" کی حمایت کا برطانیہ کا عہد تھا۔ سکریٹری خارجہ آرتھر بالفور کے لارڈ روتھ چائلڈ کے نام 67 الفاظ پر مشتمل خط نے مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست کے مستقبل کی بات نہیں بلکے بالشوک انقلاب جو ابھی اسی سال ہوا تھا یعنی 1917 جس نے نوآبادت کے خاتمہ، قوموں کے حق خود مختاری، عوام کے حق خود اختیاری اور عالمی محنت کشوں کے اتحاد کے مستقبل کے نظریات کے فروغ کی بات تھی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کے بالفور کا اعلان نامہ نوآبادیاتی نظام کو عوام کو رنگ، نسل، مذہب کی بنیاد پر تقسیم اور لڑاکر بچانے کا اعلان نامہ تھا جو بعد کی تاریخ نے ثابت کیا ہے۔

لہذا سیاست کے ساتھ مذہب یا فرقے کا دم چھلہ نہ اسلام ہے نہ
 قران اس کی اجازت دیتا ہے بلکے عالمی صہونی سازش کی سیاست ہے جو معاشرے کو رنگ، نسل، جنس اور مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنا ہے۔

معاشرہ نظریات یا مذہبی اکائی نہیں بلکے وہ ایک سماجی اکائی ہے جس میں مختلف رنگوں کے پھول اس کی فطرت ہے۔ اسلامی تاریخ اور قران بقرہ ایات 113/129/151/177/ یونس ایت 99 ہود ایت 118 حج ایت 40 توبہ ایت 71 ابراھیم ایت 4 نحل ایت 36 ہمیں اسی کلچر کے فروغ کی رانمائی سب کی شاملیت سے نہ کے تفریق سے کرتے ہیں اور خود پاکستان کی تحریک اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی تحریک تھی نہ کے ایسی ریاست کا قیام جو لوگوں کے ساتھ ان کے رنگ، نسل، قومیت، مذہب، فرقہ یا جنس کی بنیاد پر تفریق کرے۔ اسی لیے جو لوگ کہتے ہیں کے نہ یہ اسلام قران کا اسلام ہے اور نہ یہ پاکستان جناح    کا پاکستان ہے وہ صیح ہیں۔ ریفرنس

No comments: