مالی سال 2024-25 میں آزاد کشمیر نے تقریباً 71 ارب روپے ٹیکس ریونیو جمع کیا۔ اگر اس میں نان ٹیکس آمدن بھی شامل کر لی جائے تو مجموعی مقامی آمدن تقریباً 119 ارب روپے تک پہنچتی ہے۔
اگر پاکستان کے کسی ایک صوبے کے اعداد و شمار کے ساتھ اس کا موازنہ کریں تو صورتحال بڑی دلچسپ رہتی ہے۔
مثلا اسی سال خیبر پختونخوا کی اپنی صوبائی آمدن تقریباً 83 ارب روپے کے قریب رہی۔ جب آزاد کشمیر اور کے پی کے دونوں کا تقابلی جائزہ آبادی کے ساتھ کیا جائے تو فرق اور بھی واضح ہو جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا کی آبادی تقریباً 4 کروڑ 85 لاکھ ہے جبکہ آزاد کشمیر کی آبادی تقریباً 45 لاکھ کے قریب ہے۔ اس حساب سے دیکھا جائے تو آزاد کشمیر کا فی کس ٹیکس بوجھ پاکستان کے کسی بھی انتظامی یونٹ سے زیادہ ہے۔
مالی سال 2024-25 میں آزاد کشمیر کا مجموعی بجٹ 224 ارب روپے تھا جس میں وفاقی ویری ایبل گرانٹ 105 ارب روپے شامل تھی۔ یہی وہ رقم ہے جسے اکثر سبسڈی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن یہ کسی غیر رسمی امداد کا حصہ نہیں بلکہ ایک طے شدہ مالیاتی ڈھانچے کے تحت دی جاتی ہے۔ 2018 میں اسلام آباد اور آزاد کشمیر کے درمیان ایک مالیاتی معاہدہ ہوا جس پر دونوں طرف کے اعلیٰ مالیاتی حکام کے دستخط موجود ہیں۔ اس معاہدے کے مطابق وفاقی ٹیکس پول سے آزاد کشمیر کو 3.64 فیصد حصہ دینے کا اصول طے کیا گیا۔ یہ ٹیکس پول فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی مجموعی وصولیوں سے بنتا ہے جو 11,740 ارب روپے تک رپورٹ کی گئی ہیں۔
اس فارمولے کے مطابق آزاد کشمیر کا حصہ 427 ارب روپے بنتا ہے۔ لیکن عملی طور پر اسی مد میں تقریباً 105 ارب روپے دیے گئے۔ اس فرق کو 322 ارب روپے کے قریب شمار کیا جاتا ہے۔
آزاد کشمیر میں نیلم جہلم و منگلا سمیت متعدد منصوبے موجود ہیں جن سے تقریباً 2400 میگا واٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل ہوتی ہے۔
اس کے بدلے میں خطے کو رائلٹی کے بجائے صرف واٹر یوز چارجز کی صورت میں تقریباً 1 ارب روپے دیے جاتے ہیں۔
اس کے مقابلے میں دیگر پن بجلی منصوبوں، خاص طور پر پنجاب میں غازی بروتھا جیسے منصوبے پر تقریباً 82 ارب روپے سالانہ رائلٹی دی جاتی ہے۔ اگر اسی حساب کو بنیاد بنایا جائے تو آزاد کشمیر کا ممکنہ رائلٹی حق تقریباً 130 ارب روپے سالانہ کے قریب بنتا ہے۔
بیرون ملک ترسیلات زر بھی اس تصویر کا اہم حصہ ہیں۔ اندازاً 1.5 ملین کشمیری بیرون ملک مقیم ہیں جو سالانہ تقریباً 4 ارب ڈالر پاکستان بھیجتے ہیں (پاکستان کو آئی ایم ایف سے ملنے والی رقم دو ارب ڈالر ہے) ۔ یہ رقم ملک کی مجموعی ترسیلات زر کا تقریباً 10 فیصد بنتی ہے۔
اس کے علاوہ پاکستانی بینکاری نظام میں کشمیری شہریوں کے تقریباً 670 ارب روپے کے ڈپازٹس موجود ہیں جو مالیاتی نظام کی گردش میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اگر 3.64 فیصد NFC فارمولے کے مطابق 427 ارب روپے اور پن بجلی رائلٹی کے تقریباً 130 ارب روپے شامل کر لیے جائیں توآزاد کیشمیر کا مجموعی مالیاتی حجم موجودہ 224 ارب روپے کے بجٹ سے بڑھ کر تقریباً 650 ارب روپے تک پہنچ جاتا ہے۔
یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کشمیر ایک autonomous economy ہے۔
#RighthsMovementAJK
No comments:
Post a Comment