Saturday, May 9, 2026

جو بنیادی سیاسی غلطی مسلمانوں کے سیاسی کلچر میں موجود ہے وہ تصور خلافت ہے جس کا مطلب یہ ہوا کے نبی کے سیاسی عمل کے برخلاف نبی کے صحابہ کی سیاست کو فوقیت دینا تھا۔ مولانا محمد ادریس کی چارسدہ میں دہشت گردوں نے نشانہ بنایا؛ پرامن علما پر حملوں کا سلسلہ تشویش ناک - یوکے جنرل نیوز

 


جو بنیادی سیاسی غلطی مسلمانوں کے سیاسی کلچر میں موجود ہے وہ تصور خلافت ہے جس کا مطلب یہ ہوا کے نبی کے سیاسی عمل کے برخلاف نبی کے صحابہ کی سیاست کو فوقیت دینا تھا۔ نبی نے خود اپنی حیات میں جو سیاست کی وہ میثاق مدینہ تھا جس کا مطلب نبی نے جس سیاست کی داغ بیل ڈالی وہ دستوری سیاست تھی جس میں لوگوں کو رنگ نسل جنس یا مذہب کی بنیاد پر تقسیم نہیں تھی۔

نبی کے بعد اس کے وقت کے ماحول کی سیاست تھی جو مہاجرین، انصار البیت کے درمیان تقسیم ہے اور حضرت ابوبکر صدیق کو اتحاد برقرار رکھنے کے لیے ان کو یہ تقریر کرنا پڑی تھی کے بلخصوص قریش اور بلعموم عرب کسی غیر قریش اور غیرعرب کی قیادت تسلیم نہیں کرینگے اور قریش رشتے کے اعتبار سے نبی کے ساتھ قریبی رشتہ ہے لہذا یہ ابو عبیدہ اور عمر الخطاب ہیں ان میں سے کسی ایک کی قیادت تسلیم کرلیں۔ یہ تقریر انصار کے اس مطالبے کے جواب میں تھی کے خلیفہ یا حکمران اب انصار میں سے ہوگا۔ مزید یہ کے واقع قرطاس جب نبی نے قلم اور دوات مانگی کے میں آپکے لیے لکھ جاو، جس پر صحابہ کے درمیان اختلاف ہوگیا تھا۔


یہ اس بات کا ثبوت ہے کے یہ اس وقت ماحول کی سیاست تھی نہ کے کوئی مذہبی سیاسی اصول۔ سیاست کا طریقہ نبی کے عمل نے طے کردیا تھا جو میثاق مدینہ تھا یعنی دستور سازی اور عوام کی تائید نہ کے شریعت اور خلافت کے نام پر عوام پر مذہبی سیاسی امریت مسلط کرنا اور ان کو حق رائے دہی سے محروم کرنا۔


المائدہ ایت 32 جس نے ایک جان کو ناحق قتل کیا اس نے ساری انسانیت کو قتل کیا اور جس نے ایک جان کو ناحق قتل ہونے سے بچایا اس نے ساری انسانیت کو بچایا۔ قران کی بنیاد قانون کی حکمرانی ہے نہ کے انارکی، عوام کے حقوق کو بحال کرنا ہے نہ ان کے حقوق چھینا ہے۔ سیاست اور قانون مذہب نہیں سائنس ہے۔ قران ہمیں یہ درس دیتا ہے کے زندگی کو مسلسل بہتر بنانا، تحقیق و تخلیق کو جاری رکھنا اور اگر جو موجود ہے اس میں بہتری 
نہیں لاسکتے تو اس میں تنازل نہ پیدا کریں۔
  
 چارسدہ/پشاور: معروف عالم دین اور سابق صوبائی اسمبلی رکن مولانا محمد ادریس طرنگزئی، جنہیں شیخ الحدیث کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، منگل کی صبح ضلع چارسدہ میں ایک ہدف شدہ فائرنگ میں شہید ہو گئے۔ 
 
دو موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے صبح تقریباً 8:10 بجے اُتمان خیل کے قریب ان کی گاڑی پر فائرنگ کی، جس میں سیکیورٹی پر مامور دو پولیس کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ مولانا ادریس زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال جاتے ہوئے شہید ہو گئے۔ پولیس نے اس واقعے کو منصوبہ بند نشانہ بندی قرار دیا ہے۔ 
 
سیف سٹی کیمروں سے حاصل تصاویر کی بنیاد پر جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیمز، جن میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) بھی شامل ہے، ملزمان کی تلاش میں مصروف ہیں۔ کے پی انسپکٹر جنرل آف پولیس ظفر ہامد نے مجرموں کو عدالت کے کٹہرے میں لانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
 
    
: یہ قتل ایک تشویش ناک پیٹرن کا حصہ ہے: 
 
دہشت گرد عناصر ان علما کو نشانہ بنا رہے ہیں جو تشدد کی مذمت کرتے ہیں، انتہا پسندانہ نظریات کو مسترد کرتے ہیں، اور آئینی جمہوریت کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ علماء نبی کریم ﷺ کے سیاسی طریقہ کار کی مثال — میثاقِ مدینہ — کو اپناتے ہیں۔ 622ء کا یہ تاریخی معاہدہ ایک کثیر المذاہب ریاست کی بنیاد تھا جس میں مسلمانوں، یہودیوں اور دیگر قبائل کو ایک امت کے طور پر متحد کیا گیا۔ 
 
یہ معاہدہ مذہب، قبیلے، نسل یا صنف کے فرق کے بغیر سب کے حقوق اور تحفظ کی ضمانت دیتا تھا اور امن، انصاف اور باہمی دفاع پر زور دیتا تھا، نہ کہ خلافت یا شریعت کے نام اور نعروں کی بنیاد پر عوام کے جذبات کو استعمال کر کے ان پر امریت مسلط کرنا تھا۔   
 
ناقدین کا کہنا ہے کہ انتہا پسند خلافت یا  شرعی نفاذ کے وہ تصورات پیش کرتے ہیں جو قران سے متصادم، نبی ﷺ کے سیاسی ماڈل جو میثاق مدینہ کے نام سے مشہور ہوا اور جو ایک دستوری ماڈل تھا سے مطابقت نہیں رکھتے۔ انتہاء پسند خوارجیت کے انتہاء پسند ماڈل  جو بغداد میں زرشت، یہودی اور کرسچن  مذہب تعصبات کا اس وقت کا عکس تھا اسلام پر چڑھانے کوشش کرتے رہے ہیں۔ عوام کے مذہبی جذبات کا سیاسی استحصال خلافت اور شریعت کے نام پر عوام کو گمراہ کیا جاتا ہے۔
 
 مرحوم مولانا ادریس تعلیم، امن اور آئین کی بالادستی کے حامی تھے۔   جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے مرحوم کے اہل خانہ سے تعزیت کے لیے طرنگزئی کا دورہ کیا اور تعزیت کی مجلس سے خطاب کیا۔ انہوں نے شہادت کو “مسلم امہ کے لیے بڑا سانحہ” قرار دیا اور مولانا ادریس کی زندگی بھر امن اور مذہبی تعلیم کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ 
 
مولانا فضل الرحمٰن نے پرامن عالم کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ان کو مرتد قرار دیکر فوری گرفتاریوں کا مطالبہ کیا جبکہ جمعہ کی نماز کے بعد ملک بھر میں احتجاج کا اعلان بھی کیا ہے۔ 
 
ایک تازہ پیش رفت میں، افغان طالبان کے عہدیداروں نے مولانا فضل الرحمٰن سے رابطہ کیا ہے۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کی پیشکش کر چکے ہیں اور سرحد پار دہشت گردی سمیت دیگر مسائل پر بات چیت کے لیے اپنے دیرینہ روابط استعمال کرنے کے خواہشمند ہیں۔ 
 
 مولانا محمد ادریس 1961ء میں طرنگزئی میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، جامعہ نعمانیہ میں تدریس کرتے تھے، چارسدہ میں جے یو آئی (ف) کے امیر تھے اور مولانا حسن جان کے داماد تھے جنہیں 2007ء میں خودکش بم دھماکوں کے خلاف فتویٰ جاری کرنے کے بعد شہید کر دیا گیا تھا۔  
 
  صدر آصف علی زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف اور کے پی وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سمیت ملک کے تمام بڑے سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے اس حملے کی شدید مذمت کی اور دہشت گردی کے خلاف قومی عزم کا اظہار کیا ہے۔ 
 
تفتیش جاری ہے۔ مولانا ادریس کا قتل آئینی ہم آہنگی اور نبی ﷺ کے میثاق مدینہ والے  ماڈل کی حمایت کرنے والے اعتدال پسند آوازوں کی کمزوری کو اجاگر کرتا ہے۔ مذہبی علماء کی سیکیورٹی اب علاقے میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔ 

No comments: