انمول عرف پنکی کا کیس پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے نظام میں موجود گہری خرابیوں، مافیا کی گرفت، جعلی دستاویزات اور طاقتور حلقوں کی سرپرستی کی ایک واضح مثال بن گیا ہے۔ یہ کیس نہ صرف منشیات کی سمگلنگ کا ہے بلکہ اس سے زیادہ قانون کی حکمرانی کے فقدان، اداروں کی ناکامی اور معاشرتی زوال جسکا منتقی انجام ریاست معاشرے کا اندام ہوتا ہے کی عکاسی کرتا ہے۔
پولیس کی پیشکش: کراچی پولیس نے گرفتاری کو گارڈن ویسٹ، بلال آرکیڈ (کراچی) سے ظاہر کیا ہے۔ ایف آئی آر میں بھی کراچی کا جعلی پتہ درج کیا گیا۔ یہ واضح طور پر دستاویزات کی جعل سازی ہے تاکہ کیس کو سندھ میں رکھا جا سکے اور لاہور کی گرفتاری چھپائی جا سکے۔
عدالت میں پیشی: کراچی کی عدالت میں پنکی کو بغیر ہتھکڑی کے، شہانہ پروٹوکول کے ساتھ پیش کیا گیا۔ پولیس اہلکار احترام سے پیچھے چل رہے تھے۔ اس پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل آیا، تین افسران معطل ہوئے اور وزیر داخلہ سندھ نے انکوائری کا حکم دیا۔ بعد میں جسمانی ریمانڈ دیا گیا۔
نیٹ ورک: وہ اعلیٰ طبقے (ڈی ایچ اے، کلفٹن وغیرہ) کو واٹس ایپ کے ویڈیو مہنگی کوکین (25-40 ہزار روپے فی گرام) سپلائی کرتے تھے۔ موبائل لیب، کیمیکلز، گلوک پسٹل اور 800 سے زیادہ امیدواروں کا دعویٰ۔ اس کا دعویٰ تھا کہ "پاکستان میں ہم سے کوئی بہتر کوکین نہیں بناتا"۔ لاہور، اسلام آباد اور کراچی میں منظم نیٹ ورک چل رہا ہے۔
اضافی انکشافات: پنکی کی ایک پولیس آفیسر (لاہور میں ڈی ایس پی) سے شادی کا ذکر ہے، جس کے ذریعے بنگلے خریدے گئے۔ اس نے تفتیش میں بڑے لوگوں کو بھتہ دینے کا بھی دعویٰ کیا۔ ایک آڈیو لیک میں وہ چیلنج کرتی نظر آئی کہ "روک سکو تو روک لو"۔
یہ کیس صرف ایک خاتون کا نہیں، بلکہ منشیات کے مافیہ، پولیس، سیاست اور طاقتور حلقوں کے گٹھ جوڑ کی مثال ہے۔
پاکستان میں قانون کی حکمرانی نہ ہونے کا سبب اور اس کے نتائج
پاکستان جیسا معاشرہ جہاں قانون کی بالادستی نہ ہو، وہ ترقی کیسے کر سکتا ہے؟ قانون کی حکمرانی کا مطلب ہے کہ قانون سب پر یکساں ہو، کوئی شخص یا گروہ اس سے بالاتر نہ ہو۔ یہ نظام ناکام ہے کیونکہ۔
پاکستان کے اداروں کی کرپشن اور سیاسی مداخلت: پولیس، اینٹی نارکوٹکس فورس اور دیگر ایجنسیاں اکثر سیاسی دباؤ، رشوت اور مافیہ کی گرفت میں رہتی ہیں۔ پنکی کیس میں جعلی ایڈریس اور پروٹوکول اسی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
طاقتور لوگوں کی سرپرستی: منشیات، ہتھیاروں اور دیگر جرائم کے مافیہ اعلیٰ سطحی تحفظ حاصل کرتے ہیں۔ عام شہری کے لیے قانون سخت، ایلیٹ کے لیے نرم۔
عدالتی تاخیر اور ناکامی: کیسز سالوں چلتے رہتے ہیں، ثبوت گم ہوتے ہیں، گواہ خریدے جاتے ہیں۔
معاشرتی شعور کا فقدان: قانون کی پابندی کو "کمزوری" سمجھا جاتا ہے۔ رشوت، وساطت اور "جگہ" (کنکشن) نظام چلاتے ہیں۔
نتائج: معاشی ترقی رک جاتی ہے (سرمایہ کار بھاگتے ہیں)، سماجی عدم استحکام بڑھتا ہے، نوجوان منشیات کا شکار ہوتے ہیں، اور ریاست کی ساکھ تباہ ہوتی ہے۔ سنگاپور، جاپان یا یورپی ممالک کی ترقی قانون کی حکمرانی کی وجہ سے ہے۔ پاکستان میں اس کی عدم موجودگی غربت، بے روزگاری اور دہشت گردی کو جنم دیتی ہے۔
گہرا تاریخی اور سماجی تجزیہ: مذہب، منشیات اور "سرد جنگ" کا کردار
مذہب کے نام پر یہودی مذہبی کہانیوں اور بنیاد پرست یہودیوں کی طرح قبلِ مسیح کے ماحول کو آج پر مسلط کرنے کی کوشش جس طرح نیچے وڈیوز میں یہودی عالموں کی تبلیغ اور نوجوانوں کے غیر یہودیوں کے خلاف نفرت کے نظر آتی کا اظہار ہے اسی طرح پاکستان کو بھی مذہب کا نام استعمال کر کےسرد جنگ کا فٹ سولجر بنایا گیا جسکا نتجہ لاقانونیت، کرپشن، اقراپروری، منشیات کی تجارت نے طاقت حاصل کی تھی۔ اسے سازشی نظریہ قرار دینا حقیقت کو چھپانا اور عوام کو گمراہ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں۔
تاریخی تناظر: پاکستان کی بنیاد مذہبی شناخت پر نہیں بلکے اقلیت کے حقوق کا تحفظ تھا۔ بہت سے لوگ اسرائیل اور پاکستان کو مذہبی ریاست قرار دیکر عالمی ذہین ازم سٹلر نوآبادیاتی جبر کو تقویت دینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ مسخ شدہ سوچ ہے جو عالمی سامراجی ضرورتوں کے تحت پاکستان کے عوام میں پھیلائی گی جس میں مذہبی طبقے کا بڑا عمل دخل رہا ہے۔
مذہبی شناخت کی سوچ کی سیاست کو خود بانی پاکستان قاہداعظم محمد علی جناح نے اپنے ٹریبیون اخبار کے انٹرویوں میں رد کردیا تھا۔ "میں چاہتا ہوں کہ عوام ہندو مسلم تصفیہ کے سوال کوفرقہ وارانہ مسئلہ نہ سمجھیں، انہوں نے مزید کہا کہ اسے ایک قومی مسئلہ سمجھیں۔ اور میرے خیال میں اس مسئلے کا حل تلاش کرنا ہر نیشنلسٹ کا کام ہے، چاہے وہ ہندو ہو، مسلم ہو یا کسی اور برادری کا۔ یہ صرف اقلیتوں کے تحفظ کا سوال ہے جو نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں اضطراب اور پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔ جیسا کہ آپ نے دیکھا ہوگا، لیگ آف نیشنز میں بھی اس سوال پر یورپ کی مختلف ریاستوں میں اقلیتوں کے مسائل پر سنجیدگی سے سنجیدہ بحث ہو رہی ہے۔ ہر وہ ملک جہاں اقلیتوں کا سوال موجود ہے، اسے اس طرح حل کرنا ہوگا جس سے اقلیتوں کو تحفظ کا احساس ہو۔
کسی بھی آئین کی کارکردگی اور کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ اکثریت اقلیت کو اپنے ساتھ کس حد تک لے کر چلتی ہے اور اس طرح انہیں کسی بھی آئین میں تحفظ کا احساس دلاتی ہے۔ اور ہمیں اپنے ملک میں اپنے حالات کے مطابق اس مسئلے کو حل کرنا ہے، تاکہ جمہوریت کی راہ ہموار ہو سکے اور ہندوستان میں حقیقی نمائندہ حکومت کے مقصد کی طرف جایا جاسکے" مزید پڑھیں۔
یہ 1970-80 کی دہائی میں سوویت-افغان جنگ (سرد جنگ ) کے دوران امریکہ کی قیادت میں پورا مغرب، سعودی عرب اور پاکستان نے نام نہاد مجاہدین کی حمایت کے نام پر سویت حمایت یافتہ افغان انقلاب کے خلاف ردانقلاب لانے کے لیے ایک پراسکی جنگ لڑی تھی۔ اس میں مذہبی انتہا پسندی، اسلحہ اور منشیات (افغان اپیم) کا عنصر شروع سے شامل تھا اور آئی ایس آئی اور سی آئی اے کے مبینہ کردار کی باتیں آج بھی بحث کا موضوع ہیں۔ صدر کی خفیہ جنگیں، سی آئی اے اور پنٹاگان کے خفیہ اپریشن کے نام سے کتابیں موجود ہیں۔ نتیجہ: مذہب کو سیاسی ہتھیار بنایا گیا، جو آج تک پاکستانی معاشرے کو نہ صرف تقسیم کر رہا ہے بلکے قتل غارتگیری کا ایک ماحول ہے۔
منشیات کا عنصر: افغانستان دنیا کا سب سے بڑا اپیم پروڈیوسر ہے۔ پاکستان ٹرانزٹ روٹ اور صارفین کا ملک بن گیا۔ مافیہ (جن میں مقامی، افغان اور بین الاقوامی عناصر شامل) اس سے اربوں کماتے ہیں۔ پنکی جیسے کیس اسی نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ سرد جنگ کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا کیونکہ یہ "آسان پیسہ" اور سیاسی فائدہ دیتا ہے۔
یہودی/مذہبی کہانیاں: یہودی تاریخ (تورات، اور تلمود کی کہانیاں) میں قبل مسیح کے تنازعات (مصر، بابل وغیرہ) شامل ہیں، لیکن اسے پاکستان سے جوڑنا اوراسٹریچ نہیں ہوگا چونکے عالمی صہونیت اور سامراجی پالیسی مذہب کے ساتھ شروع لنک ہے۔ یہ صیح ہے کے پاکستان میں مذہبی سیاست نے ضیاء کے عہد سے معاشرے کو تقسیم کیا ہوا ہے، جس سے قانون کی بجائے "مذہبی/فرقہ وارنہ" جذبات غالب ہوتے ہیں لیکن مسلمانوں میں یہودی مذہبی قصے مسلمانوں کی تحریر اور تقریر میں عام ہیں جو قران سے متصادم ہیں۔ یہودی مذہبی تاریخ مسلمانوں میں آج بھی عام ہے مگر مکہ کی تاریخی شخصیات کا نام نہیں ہوتا جب کے اسلام نے یہودی مذہب تاریخی فکر کے ابراھیم کے جواب میں ابراھیم حنیف پیش کیا تھا جس کی تعیبر و تشریع لغوی کی گی جب کے حنیف مکہ کے وہ لوگ تھے جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ صرف صدام حسین نے اپنے بیٹے کا نام قصے رکھا تھا جو قریش کا سردار تھا جس نے کعبہ کا دوبارا کنٹرول حاصل کیا تھا۔ لہذا مسلمان کی مذہبی سیاست ذہین ازم کے فروغ کے ساتھ نتھی کرکے ہی دیکھنا میری رائے میں واقعات کی صیح تشریع ہوگی۔
یہ صیح ہے کے منشیات سرد جنگ کی ضرورت کےطور پر سامراجی مفادات ضرورت تھی جس نے سنٹرل امریکہ، جنوبی امریکہ اور پاکستان جیسے معاشروں کو سخت متاثر کیا اور منشیات سے باہیں بازوں کی تحریکوں کو کمزور کیا اسی طرح افغان جنگ میں— منشیات سے غریب نوجوانوں کو جال میں پھنسانا آسان ہو جاتا تھا۔
حقیقت: یہ بات درست ہے کے مسئلہ خارجی سازشوں سے زیادہ اندرونی ہے—کرپٹ قیادت، کمزور ادارے، تعلیم کا فقدان اور معاشی عدم مساوات۔ مذہب کو استعمال کر کے لوگوں کو کنٹرول کیا جانا، جبکہ بادست طبقہ خود سیکولر/لبرل طرز زندگی گزارتے ہیں۔
یہودی تاریخ مسلمانوں کو قران، مکہ اور مدینہ کی نبی کے وقت کے کلچر سے دور لیے گی ہے جبکے قران اسلام کی تعریف بقرہ ایات 177/113؛ یونس ایت 99 ہود ایت 118 حج ایت 40 توبہ ایت 71 سیکولر، ریشنل، رنگ، نسل، مذہب کی تفریق سے بالاتر سماجی اکائی کے معاشرے کے فروغ کی بات کرتا ہے جسے مسلسل بہتر بنانے کی سمت پر سفر کرنے کا درس دیتا ہے، جس میں سب کے ساتھ انصاف اور کسی کے سے ساتھ تفریق نہ کی جائے جب کے یہودیت گریٹر اسرائیل کے ایجنڈے پر جو نسل پرستی کا پرچار اور انسانوں کو یہودی اور غیر یہودی میں تقسیم کرتی ہے اور اسی یہودی سامراجی نظریات کا عکس ہمیں پاکستان کا نام نہاد اسلامی سیاسی نظریات جسے مودودی اور اخوان نے آگے بڑھایا اور بھارت کا ہندوتوا کا نطریہ نظر آتا ہے جو نسل پرستی کے علاوہ کچھ نہیں۔
نتیجہ: ترقی کا راستہ
پنکی جیسے کیسز بار بار دکھاتے ہیں کہ بغیر رول آف لا کے بغیرکسی ملک و معاشرے کی ترقی ممکن نہیں۔ ضروری اقدامات
پولیس اور عدلیہ کی اصلاح۔
اگر قانون سب کے لیے یکساں نہ ہوا تو مافیا حکمرانی جاری رہے گی اور پاکستان ترقی کے خواب دیکھتا رہے گا۔ یہ کیس ایک وارننگ ہے—اب عمل کی ضرورت ہے۔
No comments:
Post a Comment