Wednesday, May 6, 2026

صبا قمر کی برتھ ڈے پارٹی اور میزبان اور میمانوں کا لباس تنقید کی زد میں کیوں؟ معاشرے کو عوام کی شخصی آزادی میں مداخلت کا حق نہیں ہے۔ شبنم چوھدری


بولڈ ڈریسز سے کیا مراد ہے؟


صبا قمر ایک مشہور پاکستانی اداکارہ ہیں۔ ان کے فینز اور پارٹی میں زیادہ تر لوگ شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھتے ہیں۔ صبا قمر نے جو لباس پہنا ہوا تھا، وہ نہ تو "بولڈ" کہلاتا ہے اور نہ ہی دنیا بھر میں خواتین کا سب سے زیادہ مقبول یا جدید لباس ہے۔ دراصل یہ سٹائل اب "اولڈ فیشنڈ" یا پرانے دور کی یاد دلانے والا سمجھا جاتا ہے۔

فیشن کیسے کام کرتا ہے؟

دنیا بھر کی بڑی کمپنیاں اور ڈیزائنرز ہر سال فیشن شوز کیوں منعقد کرتے ہیں؟

کیونکہ وہ لوگوں کے رجحانات (مارکٹ ٹرینڈ) کو سمجھتے اور اسے متاثر کرتے ہیں۔ یہ دیکھا جاتا ہے کہس عوام کس قسم کا 
لباس پسند کر رہے ہیں؟

سلطنت عثمانیہ کے آخری خلیفہ اپنی بیٹی کے 
ساتھ استنبول میں پہلی جنگ عظیم سے پہلے


خواتین، مرد، نوجوان اور بوڑھے — ہر گروپ کی پسند کیا 
ہے؟
یہودی بنیاد پرست خواتین برقعے میں۔ 

کون سا رنگ، کٹ، لمبائی یا سٹائل زیادہ چل رہا ہے؟مارکیٹ لباس کے رجحان کو ڈیکٹیٹ کرتی ہے، نہ کہ کوئی سیاسی نظریہ، مذہبی تعصب یا ذاتی رائے۔ایک عام دوکاندار شام کو اپنی دکان دیکھتا ہے کہ آج کون سی چیز زیادہ بیچی گئی اور کون سی نہیں۔ وہی چیز وہ اگلے دن زیادہ رکھتا ہے۔ اسی طرح فیشن انڈسٹری بھی مارکیٹ کے مطالبے کے مطابق چلتی ہے — کسی کے عقائد یا سیاسی نظریات کے مطابق نہیں۔ 
اسٹروہنگری کے شہنشاہ اپنی بیوی اور بچی کے ساتھ 1916
لباس مسلسل تبدیل ہوتا رہتا ہےلباس کی تاریخ ہمیشہ تبدیلی کی کہانی ہے۔ ہر نئی چیز جب معاشرے میں آتی ہے تو ابتدائی طور پر تنقید کا نشانہ بنتی ہے۔ یہ تنقید بعض اوقات بہتری کا ذریعہ بھی بنتی ہے، لیکن جب یہ ماضی کے "قبرستان" میں زندگی ڈھونڈنے کی کوشش بن جائے تو پھر یہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔مثال کے طور پر:1920 کی دہائی میں یورپ اور امریکہ میں خواتین کے "شارٹ" لباس (جیسے اس تصویر میں) پر پابندیاں تھیں۔ پولیس خواتین کی اسکارٹ کی لمبائی ناپتی تھی اور اگر وہ مقررہ حد سے کم ہوتی تو جرمانہ یا گرفتاری ہو جاتی تھی۔
اس تصویر(نیچے) میں 1920 کی دہائی کی ایک امریکی پولیس والا ایک خاتون کے بیچ سوٹ کی لمبائی چیک کر رہا ہے۔ اس وقت یہ "بولڈ" اور "غیر اخلاقی" سمجھا جاتا تھا۔آج ہم اسی دور کو "رومانوی" یا "کلاسیکی" کہتے ہیں۔

پاکستان کا معاملہمیرے والد نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد پہلی نوکری کراچی میں ایک بنک  میں شروع کی تھی۔  وہ بتاتے ہیں کے پاکستان میں خواتین کا لباس آج سے زیادہ مختلف نہیں تھا۔ ساڑی، شلوار قمیض، جیکٹ ٹروزر، اسکارٹ خواتین میں عام لباس تھا۔ لیکن گزشتہ کئی دہائیوں میں سیاسی اور انتہا پسندانہ نظریات کی وجہ سے شہری علاقوں پر دیہی اور قبائلی ثقافت (خاص طور پر افغانستان کے پہاڑی علاقوں کی طرز) کو مسلط کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہر نئی یا مختلف چیز پر فوری تنقید اور "بولڈ" کا لیبل لگا دیا جاتا ہے — چاہے وہ لباس ہو، فن ہو، یا طرز زندگی۔ 
 
نتجہ
لباس فیشن ہے، سیاست یا اخلاقیات کا اعلان نہیں۔ مارکیٹ اور عوامی پسند ناپسند اسے تبدیل کرتی رہتی ہے۔ جو آج "بولڈ" لگتا ہے، کل عام ہو سکتا ہے۔ اور جو کل عام تھا، آج پرانا لگتا ہے۔ 
تنقید اچھی ہے جب وہ بہتری کی طرف لے جائے، نہ کہ ماضی کی طرف لوٹنے کی ضد بن جائے۔ (تصویر 1920 کی دہائی کی ہے، جہاں امریکی پولیس خواتین کے بیچ سوٹس کی لمبائی چیک کر رہا ہے۔)


No comments: