Saturday, January 3, 2026

مسلمانوں اور اسلام کے سب سے بڑے دشمن مسلمانوں میں موجود وہ مذہبی انتہا پسند ہیں جو دوسرے عقائد اور جنس کے انسانوں کو نفرت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور خود کو اور اپنے عقیدے کو دوسروں پر مسلط کرنے کے فسطائی نظریات رکھتے ہیں



کیا ڈائٹری اختلافات سماج کو تقسیم کرتے ہیں یا یہ انسانی سماج کی فطری تنوع ہے جو سماجی زندگی کا آٹوٹ آنگ ہے؟ انصار عباسی صاحب کا مسئلہ بھی کروڑوں پاکستانیوں جیسا ہے جنہیں مسخ شدہ اسلامی کلچر کی بنیاد پر گمراہ کیا جاتا رہا ہے۔

 آپ اور میں ایک ٹیبل پر بیٹھ کر کھانا کھاتی ہیں؛ کھانا میرا میری پسند کا ہوگا، آپ کا آپ کی پسند کا ہوگا، لیکن ہم دونوں ایک ہی ٹیبل پر ایک ساتھ بیٹھ کرکھانا کھا رہی ہوں گی۔ ہو سکتا ہے آپ کھانے کے ساتھ پانی پی رہی ہوں اور میں وائن پی رہی ہوں۔ کیا کھانوں میں اختلاف معاشرے کی سماجی ساخت بدل 
دیتا ہے؟ نہیں
بقرہ ایت 62 کیا کہتی ہے؟

 113 بقرہ ایت 

بقرہ ایت 177 صیح کیا ہے اور اسلام کی تعریف  ہے۔
اس ایت کے ترجمے بریکٹ لگا  کر اپنی 
 اضافی عبارت سے اللہ کی تصیح کر رہے ہیں

سورہ حج ایت 40 ہمیں بتاتی ہے کے مندر، چرچ، سنیگاگ 
اور مسجد میں اللہ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے




 650 سرجون ابن منصور امیر معاویہ کا چیف سکرٹری
سے 680  عسوی تک رہا۔ اسکا بیٹا بشپ جان آف دمشق؟

 یہ بشب جان آف دمشق سرجون ابن منصور کا بیٹا تھا
اور یہ خود بھی بنو امیہ کا ملازم عبدالمالک بن مروان
 تک رہا تھا اس نے کتاب اس وقت لکھی تھی
 جو قران کے بعد پرانی ترین کتاب ہے جس میں نبی
 اور قران پر شدید تنقید ہے لیکن نہ اسے نوکری سے
 برطرف کیا تھا نہ پوچھ گچھ کے تم نے غلط لکھا ہے۔
 اظہار رائے کی آزادی کس قدر تھی شروع
 کے اسلام میں یہ ایک تحریر ثبوت ہے۔


سرجون ابن منصور کی پوری تفصیل ہے۔ 
خالد بن ولید کو دمشق کی چابیاں اسی نے دیا تھی۔



میں نے اُپر قران کی مطلقہ ایات اور کرسچن جو امیر معاویہ کا چیف سکرٹری تھا اس کے بیٹے کی کتاب سے اقتباس پوسٹ کیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کے شروع کے اسلام میں اس قسم کی نفرت مذاہب کے درمیان نہیں تھی بلکے بقرہ ایت 113 یہودیوں اور کرسچنوں کے مذہبی اختلاف کی بات کرتی ہے اور پھر بتاتی ہے کے کس کا مذہب صیح  ہے اور کس کا غلط، قیامت کے دن اللہ فیصلہ کریگا نہ کے انسان اس دنیا پر ایک دوسرے کے مذاہب کو صیح اور غلط قرار دیں۔ میں نے سورہ حج ایت 40 بھی پوسٹ کی ہے جو بتاتی ہے کے مندر، چرچ، سنیگاگ اور  مسجد میں اللہ کا  نام کثرت سے لیا جاتا ہے۔

  انصار عباسی صاحب کا مضمون بھی میں نے پوسٹ کیا ہے ان کا مضمون بھی پڑھیں اور اسے قران کی ایات کی روشنی میں پرکھ کر خود فیصلہ کریں کے قران صیح ہے یا انصار عباسی صاحب کی مذہبی فکر کے لکھاری۔ 

معاشرہ ایک سماجی اکائی ہے نظریاتی یا عقیدے کا سبب نہیں بلکے قانون طبیعیات کے جبر کے تحت انسانی سماج کی ساخت کی ترتیب وجود پزیر ہوتی ہے اور ذرائع پیداوار بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ کل تک اگر یورپ کے شہروں میں صرف سفید فام انسان نظر آتے تھے تو آج چینی نسل، ایشیائی نسل، افریقی نسل بھی بہت زیادہ نظر آتے ہیں۔ عوام  اسی سمت جاتے ہیں جہاں روزگار اور زندگی کو بہتر بنانے کے  کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں نہ مذہب کی تلاش میں اور جہاں محنت کی قوت خرید بہتر ہو۔ سیاسی نعرے بازی، مذہبی نسل پرستی اور جنسی گامارپن کا شکار سماج کی تشکیل اور معاشرے کی نشو نما نہیں کرتے بلکے سیاس موقع پرستوں کے لیے عوام کی توجہ اصل مسائل سے وقتی طور پر ہٹانے کا کردار ادا کرتے ہیں۔

میں دو مثالیں دیتی ہوں اسلام کو ترجمہ میں کس طرح مسخ کیا جاتا رہا ہے۔


سورہ نساء ایت 43 : يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقۡرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنۡـتُمۡ سُكَارٰى.

 سورہ نساء ایت 43: ایمان والو! نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ (ترجمہ)۔

 سورہ نحل ایت 67: وَمِنۡ ثَمَرٰتِ النَّخِيۡلِ وَالۡاَعۡنَابِ تَتَّخِذُوۡنَ مِنۡهُ
 سَكَرًا وَّرِزۡقًا حَسَنًا ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيَةً لِّقَوۡمٍ يَّعۡقِلُوۡنَ.  

سورہ نحل ایت 67: اور کھجور اور انگور کے پھلوں سے تم نشہ اور پاکیزہ رزق حاصل کرتے ہو۔ بیشک عقل سے کام لینے والوں کے لیے نشانی ہے (ترجمہ)۔ 

میں نے دو آیات پیش کی ہیں۔ نساء ایت 43: میں لفظ "سُكَارٰى" جسکا مطلب نشے میں ہونا۔  سورہ نحل ایت 67 میں لفظ "سکرا" جسکا مطلب نشہ ہے. اس ایت میں اللہ کہے رہا ہے کے نشہ اور رزق حاصل کرتے ہیں جو عقل والوں کے لیے نشانی ہے۔ اس ایت کی حدیث ڈاٹ کام نے اردو میں نبیذ اور انگریزی میں الکحول کے بغیر شربت کا ترجمہ کیا ہے جب کے سکرا کا مطلب نشہ ہے۔
 

Quran 4:43 سکاری (intoxicated) (نشے میں ہونا)

  کا ترجمہ الکحول کے بغیر شربت کر رہا ہے (intoxicant) Ahadees.co سکرا 

سورہ نحل ایت 67 یہ ترجمہ صیح  ہے





  سوال یہ ہے کے قران الکحول کا ذکر کر رہا مگر ترجمہ کرنے والوں نے الکحول سے پاک ترجمہ کیوں کیا ہے؟ اس لیے کے ان کے ذہین کے اندر جو تعصب الکحول کے خلاف تھا وہ قران کے ثبوت کی بنیاد پر نہیں بلکے جو کچھ ان کو ورثے میں تعصب کے طور پر ملا، پڑہا یا پڑھایا گیا وہ تعصب قران کے ثبوت کے سامنے کھڑا تھا۔ ہر انسان اپنے تعصب کا غلام ہوتا ہے اسی کھلے ذہین کا انسان اپنے ماحول سے باہر دیکھنے کی ہمت رکتھا ہے۔

 لہذا انہوں نے قران پر اپنے تعصب کو فوقیت دے کر نہ صرف خود کو گمراہ ہونے دیا بلکے عوام کو بھی گمراہ کیا اور اپنی تحریروں سے مسلسل گمراہ کر رہے ہیں۔ اس ایت کی مزید تشریع سورہ عراف ایت 32  میں اللہ فرماتا ہے کے یہ چیزیں کس نے حرام قرار دی۔ وہاں پر جو رزق کا ذکر ہے وہ اسی ایت کے رزق کا ریفرنس ہے۔


میں نے ایک مثال دی ہے کے قران کو کس طرح ترجمہ، تفسیر اور حدیثوں کے ذریعے مسخ کیا جاتا رہا ہے لیکن سیکڑوں مثالیں موجود ہیں جہاں قران کی مقدس عبارت کوبلکل مخالف سمت ٰمیں گمایا گیا ہے جو نہ صرف عام مولوی نے کیا ہے بلکے ابن تعمیی جیسوں نے "پہچنانی جاو" کو "نہ پہچانی جاو" بنا دیا۔ بڑے سے بڑا مولوی لیے لیں اور اس سے پوچھیں کے آپ نے قران کے کتنے پرانے نسخے دیکھے ہیں یا پڑھے ہیں یا پرانے نسخوں کی مقدس عبارت کا تجزیہ پڑھا ہو؟ ایک بھی نہیں ملیگا۔ مدارس کا پروپیگنڈٓا لٹریچر جس کی بنیاد فرقہ پرستی ہے، کو پڑھ کر اپنے آپکو عالم کہلاتے ہیں۔ 

انصار عباسی صاحب کے مضمون کا میں نے اپر ذکر کیا ہے اور اس کے جواب میں قران اور امیر معاویہ کے عہد کا ثبوت ان لوگوں کا جنہوں نے معاویہ کے ساتھ کام کیا تھا ان کی تحریر ہے نہ کے دو سو سال بعد بغداد میں گھڑی گی کہانی۔ 

انصار عباسی صاحب اسی مسخ شدہ مذہبی فکر کے زیر اثر ہیں جس کی مثال میں نے اپر حدیث ڈاٹ کام کا ترجمہ ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے اور اپنی تحریروں کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں جب کے اپنے مضمون میں ایک ایت تک پیش نہ کرسکے جو ان کی بات کی تائید کرتی ہو کے دوسروں کے تیوار بنانا حرام ہے۔ 
میں نے کسی جگہ پڑھا ہے کے آفتاب اقبال صاحب نے بھی اپنے پروگرام میں شراب کو "أم الخبائث" قرار دیا تھا جب کے قران اسے عقل والوں کے لیے نشانیاں قرار دیتا ہے۔ اب افتاب اقبال صاحب اور انصار عباسی صاحب کو کروڑں لوگ دیکھتے، سنتے اور پڑھتے ہیں جب کے آپ کو اور مجھے ایکس پر دس بیس بندے ہی پڑھتے ہونگے۔ دوسرا ان کی ذمداری معاشرے کو سچ بتانا ہے اسی لیے وہ ماس میڈیہ پر بیٹھے ہیں لیکن ماس میڈیہ، مساجد کا ممبر، مدارس اور تعلیمی نظام عوام کو گمراہ کرتا رہے، جھوٹ سکھاتا رہے اور معاشرہ فرشتوں کا انتظار کرتا ہو کے سماج سے فرشتے پیدا ہونگے اور معاشرہ جنت بنیگا، تو ایسا ممکن نہیں؟ جب فکر پر پہرے بٹھا دیے جاتے ہیں تو معاشرے میں شاہ دولہے کے چوے ہی پیدا ہوتے ہیں۔

No comments: