سونیا خان کی مفتی شمائل کے بہودہ بیان کے جواب میں تحریر جو اس نے ایکس پر شائع کی تھی۔
مفتی شمائل کا فتوٰی: عورت کا بغیر محرم سفر حرام ہے"
مبارک ہو اُن سب کو جو اِن صاحب کو مسلمانوں کا روشن مستقبل اور نجات دہندہ سمجھ رہے تھے۔ اب ذرا غور فرمائیے
اِن کے مطابق جس جس شخص نے اپنی ماں، بہن یا بیٹی کو تعلیم، ملازمت یا کسی بھی مجبوری کے تحت اکیلے سفر پر بھیجا—اور وہ سفر پچیس چھبیس کلومیٹر کی حد سے باہر تھا—وہ غیر شرعی بلکہ حرام ہے۔
اور خدارا، اب آپ سے لاتعلقی اختیار نہیں کریں گے۔
@muftishamail آخرکار، انہوں نے جاوید اختر کو “ہرایا” تھا اور جو خدا آپ کو دکھایا گیا ہے، یقیناً یہ فتویٰ بھی اُسی خدا کا شرعی حکم ہوگا۔
اگر آپ اُس خدا کے حکم پر نہیں چلیں گے، تو پھر وہ ڈسکو ڈانس کس کھاتے میں جائے گا جو مفتی صاحب کی فتح پر اُن کے مداحوں نے کیا تھا؟
"سونیا خان
مفتی شمائل کا بکواس جو خواتین پر
ایک نسل پرست حملہ ہے اور ایسے
بیان کے خلاف قانون میں سخت سزا
کا ہونا لازمی ہے۔
میرا جواب
یہ مفتی جو کچھ کہے رہا ہے، ایسا قران کی کس ایت میں محرم کا نظام ہے؟ قران صاف بتاتا ہے کے اسلام کا مفتی صرف اللہ ہے اور نبی بھی مفتی نہیں تھے۔
ہر چیز حلال ہے جب تک کسی چیز کو قران نے صاف لفظوں میں حرام قرار نہ دیا ہو۔
حضرت عائشہ جب افک کے مقام پر اپنے گلے کا ہار تلاش کرنے گی تھی اور قافلہ چلا گیا تھا تو ان کو رات وہاں پر ہی بسر کرنا پڑی تھی اور دوسرے دن وہاں سے صفوان بن معطل گذر رہا تھا تو اس کے اونٹ پر بیٹھکر گھر آئی تھی۔ کیا اگر محرم، حجاب اور جنسی علیحدگی اسلام میں ہوتی تو خود نبی کی بیوی اسکی خلاف ورزی کرسکتی تھی اور نبی جواب طلبی نہ کرتے؟
حضرت عائشہ اپنی فوج کی مدینہ سے قیادت کرتے ہوئے عراق تک کا سفر اور عراق کے شہر بصرہ میں اپنے دماد کی فوج کے خلاف میدان جنگ میں اپنی فوج کی کمان کرنا جب کے جنگ کے دونوں اطراف ہزاروں نبی کے صحابہ تھے، اگر محرم، حجاب، اور جنسی علیحدگی ہوتی تو نبی کے صحابہ اعتراض نہ کرتے؟
حضرت امنہ اپنے بچے کو لیکر مکہ سے مدینہ کا سفر کرتی ہیں تاکے بیٹا اپنے والد کی قبر کو دیکھ سکے اور واپسی پر راستے میں حضرت امنہ کی وفات ہوجاتی ہے۔
عکاظ کے مقام پر مکہ میں ہر سال مشاعرہ ہوتا تھا۔ نبی کی مدینہ ہجرت سے پہلے آخری مشاعرہ جس کی صدارت ھند بنت عتبہ کر رہی تھی۔ جس کا مطلب یہ ہے مکہ کے کلچر میں نہ قبل اسلام اور نہ بعد اسلام میں محرم، جنسی علیحدگی اور حجاب تھا اور مکہ کا کلچر ہی مسجد نبوی میں گیا تھا۔ میری امی ابو سعودی میں رہے ہیں اور ان کے مطابق اسی تک مسجد نبوی کے نمازیوں کے درمیان عورت مرد کی علیحدگی نہیں تھی۔ عورت مرد کی علیحدگی، محرم اور حجاب کی بدعات کا علمبردار ابن تعمیی ہے جس نے قران بدلا ہے اور جب 29 سال کا تھا تو اس نے حج کیا تھا اور واپس جاکر مکہ و مدینہ میں رسم حج کو کفر قرار دیا ہوا ہے۔ کیوں؟ اس لیے کے اس نے قران کی عبارت کو یہودی عینک سے دیکھا تھا چونکے وہ یہودی مذہبی کلچر کے قریب پلا بڑھا تھا۔
سورہ نساء ایت 127: وَيَسۡتَفۡتُوۡنَكَ فِى النِّسَآءِ ؕ قُلِ اللّٰهُ يُفۡتِيۡكُمۡ فِيۡهِنَّ ۙ وَمَا يُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ فِى الۡكِتٰبِ فِىۡ يَتٰمَى النِّسَآءِ الّٰتِىۡ لَا تُؤۡتُوۡنَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرۡغَبُوۡنَ اَنۡ تَـنۡكِحُوۡهُنَّ وَالۡمُسۡتَضۡعَفِيۡنَ مِنَ الۡوِلۡدَانِ ۙ وَاَنۡ تَقُوۡمُوۡا لِلۡيَتٰمٰى بِالۡقِسۡطِ ؕ وَمَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِهٖ عَلِيۡمًا۔
ترجمہ: وہ آپ سے عورتوں کے بارے میں فتوی مانگتے ہیں، کہو: 'اللہ تمہیں ان کے بارے فتوی دیگا ، اور تمہیں کتاب میں ان یتیموں کے بارے میں جو احکام سنائے گئے ہیں جن کو تم نہیں دیتے جو ان کے لیے مقرر کیا گیا ہے اور جن سے تم (لالچ کی وجہ سے) شادی کرنا چاہتے ہو'، اور ضعیف اور بے سہارا بچوں سے متعلق احکام۔ اللہ آپ کو یتیموں کے ساتھ انصاف کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ تم جو بھی نیکی کرتے ہو اللہ اس سے خوب واقف ہے۔
وَيَسۡتَفۡتُوۡنَكَ فِى النِّسَآءِ اور وہ آپ سے عورتوں کے بارے میں فتوی مانگتے ہیں قُلِ اللّٰهُ يُفۡتِيۡكُمۡ کہے اللہ تمیں فتوی دیگا۔ فتوی مانگنا انسان کا کام ہے فتوی دینا اللہ کا کام ہے کسی انسان کا نہیں۔
سورہ نساء ایت 176:يَسۡتَفۡتُوۡنَكَ ؕ قُلِ اللّٰهُ يُفۡتِيۡكُمۡ فِى الۡـكَلٰلَةِ ؕ اِنِ امۡرُؤٌا هَلَكَ لَـيۡسَ لَهٗ وَلَدٌ وَّلَهٗۤ اُخۡتٌ فَلَهَا نِصۡفُ مَا تَرَكَ ۚ وَهُوَ يَرِثُهَاۤ اِنۡ لَّمۡ يَكُنۡ لَّهَا وَلَدٌ ؕ فَاِنۡ كَانَـتَا اثۡنَتَيۡنِ فَلَهُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَكَ ؕ وَاِنۡ كَانُوۡۤا اِخۡوَةً رِّجَالًا وَّنِسَآءً فَلِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَيَيۡنِ ؕ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمۡ اَنۡ تَضِلُّوۡا ؕ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمٌ۔
ترجمہ: لوگ آپ سے فتوی مانگتے ہیں۔ کہو: اللہ تمیں فتوی دیگا: اگر کوئی آدمی بے اولاد مر جائے لیکن اس کی بہن ہو تو اس کے پیچھے جو کچھ چھوڑا ہے اس کا آدھا حصہ اسے ملے گا۔ اور اگر بہن بے اولاد مر جائے تو اس کا بھائی اس کا وارث ہو گا۔ اور اگر ورثاء دو بہنیں ہوں تو ان کے پیچھے جو کچھ چھوڑا ہے اس کا دو تہائی حصہ ہے۔ اور اگر ورثاء بہنیں اور بھائی ہوں تو مرد کو دو عورتوں کا حصہ ملے گا۔ اللہ تمہارے لیے (اپنے احکام) واضح کرتا ہے کہ کہیں تم گمراہ نہ ہو جاؤ۔ اللہ کو ہر چیز کا پورا علم ہے۔
يَسۡتَفۡتُوۡنَكَ لوگ آپ سے فتوی مانگتے ہیں قُلِ اللّٰهُ يُفۡتِيۡكُمۡ کہے اللہ تمیں فتوی دیگا۔ قران کے الفاظ پر خود غور کریں اور اسکا ترجمہ دیکھیں نہ صرف غلط ترجمہ کرتے ہیں بلکے قران کے ایک لفظ کا ترجمہ پوری سطر پر پھیلا ہوگا۔ میں نے قران کی دو ایات پیش کی ہیں، یہ ثابت کرنے کے لیے کے اسلام میں انسان مفتی ہو ہی نہیں سکتا اور خود نبی مفتی نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کے اللہ نبی کو کہتا ہے کے "کہے اللہ تمیں (لوگوں کو) فتوی دیگا"۔ وہ فتوی قران ہے۔ قران میں مجھے یہ بتا دیں کے محرم کہاں ہے؟ جنسی علیحدگی کہاں ہے؟ عورت کا سر اور چہرہ چھپانا کہاں ہے؟ کسی جگہ نہیں ہے۔ جو چیز قران میں نہیں ہے تو حدیث کو کس نے اختیار دیا کے وہ اللہ کے کلام میں اللہ کے نام پر اضافہ، ترمیم یا کمی کرے؟
قران میں لفظ چہرہ ایک سو بار اور لفظ سر بیس سے زیادہ بار آیا ہے مگر ایک بار بھی عورت کا چہرہ یا سر چھپانا نہیں بلکے صرف چھاتی ہے۔ یہ مولویوں کا اپنا گھڑا ہوا اسلام ہے جو انہوں نے بغداد میں زرتشت اور یہودی مذہبی رواج کا غلاف اسلامی کلچر پر حدیث کی کہانیاں گھڑ کر پہنا دیا تھا اور ہمیں ورثے میں اُس گھر سے ملتا ہے جس میں ہم پیدا ہوتے ہیں۔ یہ مفتی دیوبندی مسلمان اس لیے ہے چونکے یہ ایک دیوبندی کے گھر پیدا ہوا ہے جس طرح مودی ھندو اس لیے ہے چونکے وہ ایک ھندو کے گھر پیدا ہوا تھا۔ اسی طرح بریلوی اس لیے بریلوی ہے چونکے جس گھر میں وہ پیدا ہوا وہ گھر بریلوی تھا اور اسی وجہ سے اس نے اپنے بچے کو بریلوی سکول میں بھیجا ہے لیکن دیوبندی اور بریلوی بنے سے پہلے اُس بچے کو مذہب، کلچر ایک دوسرے کے سماجی تعلقات اور سماجی سائنس کی تعلیم کی ضرورت تھی مگر ایسا نہیں کیا جاتا۔
جھوٹی کہانیاں گھڑنے والے لوگ نبی کے وقت بھی تھے۔ میں نہیں کہتی قران کہتا ہے۔ خود پڑھ لو۔
سورہ اعراف ایت 32 : قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ زِيۡنَةَ اللّٰهِ الَّتِىۡۤ اَخۡرَجَ لِعِبَادِهٖ وَالطَّيِّبٰتِ مِنَ الرِّزۡقِؕ قُلۡ هِىَ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا خَالِصَةً يَّوۡمَ الۡقِيٰمَةِؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ۔
ترجمہ: اے محمد (ﷺ): اللہ نے اپنی مخلوق کے لیے جو زینت بنائی ہے اسے کس نے حرام کیا ہے یا رزق میں سے پاک چیزیں؟ کہہ دو کہ یہ دنیا میں مومنوں کے لیے ہیں اور قیامت کے دن ان کے لیے ہی ہوں گے۔ اسی طرح ہم اپنی آیتیں ان لوگوں کے لیے کھول کھول کر بیان کرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔
یہاں اللہ نبی سے پوچھتا ہے کہ خواتین کا میک اپ اور اچھا رزق کس نے حرام قرار دیا؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ اُس وقت بھی مولویوں جیسے لوگ موجود تھے جو اپنی طرف سے چیزوں کو حرام اور حلال قرار دیتے تھے اور لوگوں کی شخصی زندگی میں مداخلت کرتے تھے۔ یہاں ذکر کردہ رزق سورۃ النحل آیت 67 میں دیکھیں۔
سورۃ نحل ایت67: وَمِنۡ ثَمَرٰتِ النَّخِيۡلِ وَالۡاَعۡنَابِ تَتَّخِذُوۡنَ مِنۡهُ سَكَرًا وَّرِزۡقًا حَسَنًا ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيَةً لِّقَوۡمٍ يَّعۡقِلُوۡنَ۔
ترجمہ: اور کھجور اور انگور کے پھلوں سے تم نشہ اور پاکیزہ رزق نکالتے ہو۔ بیشک عقل سے کام لینے والوں کے لیے نشانی ہے۔
اس آیت میں لفظ سَكْرًا (نشہ)، سورۃ النساء آیت 43 میں لفظ ہے سُكَارَىٰ (نشے میں ہونا)۔ اگر تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ۔ آپ نحل کی آیت کا ترجمہ حدیث ڈاٹ کام میں پڑھیں۔ وہ سَكْرًا کا ترجمہ اردو میں نبیذ اور انگریزی میں الکحول کے بغیر مشروب قرار دے رہا ہے۔ لفظ سَكْرًا جو قران کا ہے کا مطلب نشہ ہے وہ نبیذ نہیں۔ مکہ میں جو شراب پی جاتی تھی اسے نبہادہ کہتے تھے جو کھجور سے بنتا تھا۔ حضرت عمر پر جب مسجد میں حملہ ہوا تھا تو ان کو اٹھا کر گھر لایا گیا تھا اور ان کو سب سے پہلے نبہادہ پینے کے لیے دیا گیا تھا جو ان کے زخموں سے باہر آنا شروع ہوگیا اورپھر دودھ دیا گیا تھا۔ سوال یہ ہے کے اس وقت (حضرت عمر کا عہد) نہ شراب حرام تھا نہ اسے برا سمجھا جاتا بلکے زخمیوں کو علاج کے طور پر بھی استعمال ہوتا تھا۔
مولوی صاحب کا مسئلہ یہ تھا کہ قرآن نشے کو عقل والوں کے لیے نشانیاں قرار دیتا ہے جبکہ نبہادہ نہ قرآن میں آیا ہے نہ قرآن نے شراب کو کبھی حرام قرار دے کر اس کی خلاف ورزی کی
کوئی سزا رکھی تھی جبکے مولوی جس ماحول میں پلے بڑھے ہیں ان کو تو یہی سکھایا گیا شراب حرام ہے اور ایسی ایسی کہانیاں گھڑی گی ہیں جن کا نہ سر ہے نہ پر۔ کھانے پینے کی جو چیزیں قران نے حرام قراردی ہیں وہ بقرہ ایات 168،172،173 اور المائدہ ایت 3 میں ہیں۔ اس لسٹ میں شراب شامل نہیں ہے اور آپ خود پڑھ سکتے ہیں جس کے لیے کسی نام نہاد عالم کی ضرورت نہیں ہے۔
"نساء ایت لفظ "سکاری
شراب کو حرام دو سو سال بعد بغداد میں حنبلی سکول کی مدد سے عباسی خلیفہ متوکل کے وقت بقرہ ایت 219 کے لفظ "آثم کبیر" کو استعمال کرتے ہوے کیا تھا؛ اثم کا ترجمہ گناہ کر کے جب کے لفظ آثم منافع کے سامنے آیا ہے جس کا مطلب گناہ اور ثواب نہیں بلکے نفع اور نقصان ہے۔ حنبلیوں نے اسکا گناہ ترجمہ کر کے گریک فلسفہ استنباطی استدلال کا اصول جس کے بانی زینو تھے امپورٹ کر کے، مثال کے طور پر: "ساری خواتین فانی ہیں؛ سدرا ایک خاتون ہے؛ لہذا سدرا بھی فانی ہے۔" قران میں ہر گناہ حرام ہے؛ الکحول آثم (گناہ) ہے لہذا الکحول بھی حرام ہے جبکے گناہ کے لیے قران نساء ایت 2 لفظ حُوۡبًا استعمال کرتا ہے جو یتموں کا مال کھانا حُوۡبًا كَبِيۡر، کبیرہ گناہ ہے لیکن انہوں نے دو سو سال بعد آثم کو گناہ بنا کر انالجی کی بنیاد پر شراب کو حرام قرار دیا تھا۔ اس سے قبل امام شافعی نے امام ابو یوسف سے شراب کو حرام دینے کی تجویز دی تھی مگر امام ابو یوسف نے کہا کے اگر قران نے شراب کو حرام قرار نہیں دیا تو ہم کیسے حرام قرار دے سکتے؟ سوال یہ ہے کے مکہ، مدینہ اور دمشق میں اس حرام کی ضرورت معسوس کیوں نہ ہوئی لیکن بغداد پہنچ کر حرام کی ضرورت معسوس کیوں ہونے لگی تھی؟ بغداد تک سفر کے دوان اسلام کے ترقی پسند اورلبرل پہلو پر یہودی، کرسچن اور زرتشت مذہب کی طرف سے شدید اور تاپڑ توڑ حملے ہوئے تھے۔ یہاں تک الزام لگایا گیا کے یہ مذہب لبرل ہے اور اس نے زنا کو جائز قرار دیا ہے۔ مثال کے طور پر قران کے بعد جو سب سے پہلی پرانی کتاب اس وقت لکھی گی تھی جس نے نبی اور قران پر شدید تنقیدی کی تھی وہ کتاب گریک زبان میں بشپ جان آف دمشق نے لکھی تھی۔ بشپ جان یوھانہ ابن منصور کا بیٹا تھا جو امیر معاویہ کا چیف
سکرٹری 650 سے 700 تک تھا اور خود بشپ جان بنوامیہ کی حکومت کا بھی ملازم مروان بن مالک تک کام کرتا رہا اور جب مروان نے گریک زبان کے ساتھ عربی کو بھی سرکاری زبان بنایا تو بشت یروشلم چلے گیا تھا۔ بنوامیہ کی ملازمت کے دوران اس نے کتاب لکھی جس کا چھوٹا سا نمونہ میں یہاں پوسٹ کرتی ہوں۔ اس کتاب کا گریک سے لاطین میں دسویں صدی میں ترجمہ اور قران کا بھی لاطین میں دسویں صدی میں رابرٹ کی قیادت روم میں ترجمہ کرکے جوابی حملہ کیا تھا کے اسلام نے زنا کی اجازت دے دی۔ یہی وہ سبب تھا کے بغداد میں ترقی پسند اسلام نے یہودی اور زرتشت بنیاد پرستی کے دباو میں آکر جہاں سے مسلمانوں کا کلچر نبی اور قران کے اسلام سے دور جانا شروع ہوا جس کے لیے حدیث لٹریچر کی ایجاد شروع ہوتی ہے اور یہی وہ مقام تھا جہاں سے اسلام کا تنازل کی طرف سفربھی شروع ہوتا ہے۔
یہ شخص بنو امیہ کا ملازم تھا، خود
پڑھ لیں کے کتنا شدید حملہ کر رہا ہے
قران اور نبی کی شخصیت پر مگر اسلامی
کلچر میں اظہار رائے کی کتنی آزادی تھی
کے 8 فیصد مسلمان آبادی کا حصہ تھے
لیکن حکومت اسپین سے سندھ تک پھیلی تھی۔ کسی نے اس
کی تحریر پر نہ اعتراز کیا نہ اسے نوکری سے نکالا تھا۔
چونکہ قران میں جو چیز حرام ہے وہ سب لکھا ہوا ہے۔ اس لیے اصول یہ ہے کے ہر چیز حلال ہے تاوقتکے قران نے اسے صاف طور پر حرام قرار نہ دیا ہو۔ عباسی عہد کا ایواڑ یافتہ شاعر آبو نواس جو امام شافعی سے دس سال سنیر تھے ان کی شاعری پڑھ لیں۔ ایک جج بغداد میں اپنی عدالت میں گواہ کی گواہی نہیں لیتا تھا جب تک اس نے شراب نہ پی ہو۔ جج کا حکم تھا کے اسکی عدالت میں گوائی کے لیے آنے والا یا والی پہلے شراب پی کر آیگا یا آیگی۔ اس کے پیچھے ریشنل یہ تھا کے شراب پی کر انسان جھوٹ نہیں بولتا۔
ابو نواس 756 عسوی میں پیدا ہوا
جوعباسی عہد کا ایواڑ یافتہ شاعر تھا
سورہ نحل ایت 116: وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَا تَصِفُ اَلۡسِنَـتُكُمُ الۡكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّهٰذَا حَرَامٌ لِّـتَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَفۡتَرُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ لَا يُفۡلِحُوۡنَؕ.
ترجمہ: اور اپنی زبانوں سے جوٹ موٹ نہ کہو کہ "یہ حلال ہے" اور "یہ حرام" اس طرح اللہ پر جھوٹ گھڑتے ہیں۔ بیشک جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کبھی فلاح نہیں پائیں گے۔
لِّـتَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ اللہ کے نام پر جھوٹ گھڑتے ہیں۔ کیا یہ اس مفتی اور اس جیسے لاکھو اور مولوی جو ہر روز اللہ کے نام پر جھوٹ نہیں پھیلاتے؟ یہ عبارت خود اللہ کے نبی پر نازل ہوئی تھی جو ہمیں چودہ سو سال بعد بھی بتا رہی ہے کے لوگ نبی کے وقت بھی اللہ کے نام سے جھوٹ پھیلاتے تھے جس طرح یہ مفتی یا مذہبی لوگ پھیلاتے ہیں۔
میں نے آپکے سامنے قران کو دلیل کے طور پر رکھا ہے، جو بلکل صاف ہے، اب آپ یہ فیصلہ کریں کے قران سچا ہے یا اس قسم کے مفتی۔
قران میں انسان اللہ کے دین میں مفتی ہو ہی نہیں سکتا۔ کیا مذہب پر قابض لوگ طالبان کی شکل میں ہوں؛ داعش کی شکل میں؛ القاعدہ کی شکل میں یا ان کی امی جان اخوان المسلمین اور جماعت اسلامی ہوں ان کی مذہبی فکر قران سے متصادم نہیں ہے؟ کیا قران سے متصادم مذہب رکھنے والے مسلمان کہلا سکتے ہیں؟ میں آپ پر چھوڑتی ہوں کے آپ خود فیصلہ کریں کے یہ مساجد کا فیک اسلام کس طرح مسلم سماج کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے، مسلم عوام کو گمراہ کر کے ان میں جنسی نسل پرستی اور مذہبی نسل پرستی کی فسطائیت کے نظریات کو فروغ دیتے ہیں اور سماج میں فتنہ پھیلانے کا سبب بنتے جارہے ہیں۔
ایکس پر کچھ لوگوں کے اعتراضات
Umar Farooq @Yaars Your objection has made no sense. Mufti Shamail is telling a Hadith which means a concrete order to be followed. 3 days passage is around 72 Km. Allah Almighty has set boundaries which are to obey.
Sonia Khan Khattak (SK) @Soniakkhan1pak asked "show me in Quran"
لکھتا ہے @mufpk92 میاں عثمان فاروق
جس پر قران نازل ہوا اس کی کہی بات پر یقین نہیں قران پر"
یقین ہے عجیب جاہل ہو۔" یہ لکھتا ہے میا عثمان فاروق۔
سونیا خان خٹک نے جوا ب دیا: "قران کو چھوڑ کر دو تین سو سال بعد کسی عام انسان کی بات پر کیوں یقین کریں جو خود کبھی ملا ہی نہیں نبی سے ؟
وہ جو سُنی سُنائی بات بتا رہا ہے اُس سے بہتر ہے کے قُران جو نبی کے زمانے میں موجود تھا اُس کو مانا جائے جو کافی ہے"۔
ایکس پر میاں عثمان فاروق کی پوسٹ پر میرا جواب
جس پر قرآن نازل ہوا، یعنی ان پر اللہ کی وحی آترتی تھی اور وہ وحی کو کاتبِ وحی سے لکھواتے تھے۔ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ نبی پر وحی آتی تھی اور نبی وحی کے علاوہ اپنی طرف سے بھی احکام دیتے تھے؟
سورۃ بقراہ ایت 151: کمَآ اَرۡسَلۡنَا فِيۡکُمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡکُمۡ يَتۡلُوۡا عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيۡکُمۡ وَيُعَلِّمُکُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِکۡمَةَ وَيُعَلِّمُكُمۡ مَّا لَمۡ تَكُوۡنُوۡا تَعۡلَمُوۡنَ۔
ؕ
ترجمہ: جیسا کہ جب ہم نے تم میں سے ہی ایک رسول بھیجا جو تمہیں ہماری آیات پڑھ کر سناتا ہے، تمہاری زندگیوں کو بہتر کرتا ہے، تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور تمہیں وہ باتیں بتاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے۔
یہ تو نبی پر الزام ان کے مخالفین لگاتے تھے (بشپ جان کا نمونہ پڑھ لو جس میں وہ لکھتا ہے محمدﷺ نے عجیب کتابیں لکھی ہیں اور ہر ایک کا ایک ٹائٹل دیا ہے) کہ ان پر وحی نہیں آتی، یہ ان کی اپنی باتیں ہیں۔ یہاں تک کہ نبی کو شاعر کہا گیا کہ یہ ان کی شاعری ہے جب کے قران ہمیں بتاتا ہے يُعَلِّمُکُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِکۡمَةَ (کتاب اور سائنس کی تعلیم) جبکے حنبلیوں نے کتاب و سنہ کی ٹرم قران سے متصادم ایجاد کر کے قران کو مسخ کرنے کا دروازہ کھولا جس کی وجہ سے آج تک مسخ شدہ اسلام قران سے متصادم پھیل رہا ہے۔
فراڈی جب فراڈ میں پکڑے جاتے ہیں تو یہ انسانی نفسیات ہے کے انسان آنٹ
شنٹ بولنا اور لکھنا شروع کر دیتا ہے یہی صورت حال ان نام نہاد مذہبی عالموں کی ہے۔ میں نے کل ایک مفتی کے جواب میں نساء ایات 127/176 پوسٹ کی تھی وہ پہلے پڑھ لیں۔ مثلا" یہ کے مولوی گذشتہ 1200 سال سے اپنی کہانیاں گھڑتے رہے ہیں اور آج تک معصوم لوگوں کو جن کا عقیدہ اس گھرسے ملتا ہے جس میں وہ پیدا ہوتے ہیں، وہ جب قران پڑھتے ہیں تو وہ ترجمہ کا قران پڑھتے ہیں اور ترجمہ میں قران کو بہت زیادہ مسخ کیا گیا ہے۔
بقرہ ایت 177: لَيۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡهَكُمۡ قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ وَلٰـكِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَالۡمَلٰٓـئِکَةِ وَالۡكِتٰبِ وَالنَّبِيّٖنَۚ وَاٰتَى الۡمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَابۡنَ السَّبِيۡلِۙ وَالسَّآئِلِيۡنَ وَفِى الرِّقَابِۚ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّکٰوةَ ۚ وَالۡمُوۡفُوۡنَ بِعَهۡدِهِمۡ اِذَا عٰهَدُوۡا ۚ وَالصّٰبِرِيۡنَ فِى الۡبَاۡسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِيۡنَ الۡبَاۡسِؕ اُولٰٓـئِكَ الَّذِيۡنَ صَدَقُوۡا ؕ وَاُولٰٓـئِكَ هُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ۔
ترجمہ: صیح یہ نہیں کہ تم اپنے چہرے مشرق یا مغرب کی طرف پھیر لو، بلکہ صیح یہ ہے کے جو اللہ پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب پر اور نبیوں پر ایمان لائے، اور مال کی محبت کے باوجود قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں، مانگنے والوں اور غلاموں کی آزادی میں دے، نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے، اور جب وعدہ کرے تو اسے پورا کرے، اور تنگدستی، تکلیف اور لڑائی کے وقت صبر کرے۔ یہی لوگ سچے ہیں، اور یہی متقی ہیں۔
مندرجہ بالا ایت مذہب کی تعریف کر رہی ہے کے صیح مذہب کو کیسے شناخت کیا جائے اور پھر لسٹ دیتی ہے ان ساری چیزیوں کی۔ چونکے کنٹکسٹ کعبے کا یروشلم سے واپس مکہ کی طرف مڑنے کا چیلنج تھا کے جن کے ساتھ آپکا (مسلمانوں) اختلاف تھا ان ہی کی جگہ کو کعبہ تسلیم کر رہے ہیں، یعنی آپ اپنا چہرہ مغرب (یروشلم) کی طرف کریں یا مشرق (مکہ) کی طرف کریں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا بلکے عقیدہ اور عمل کی لسٹ قران دے رہا ہے کے اس سے فرق پڑھتا ہے۔ لیکن ترجمے میں بریکٹ لگا کر حق و باطل لکھا گیا ہے جو قران کی عبارت نہیں۔ کیا جنگ حق و باطل یا سچ اور جھوٹ کی ہوتی ہے؟ کیا جنگ جمل سچ اور جھوٹ کی جنگ تھی یا سیاسی اختلاف کا سبب تھی؟ فرق یہ ہے قران کی عبارت اپنی پوزیشن ریشنل ازم پر رکھتی ہے کے مشرق کی طرف منہ کرو یا مغرب کی طرف کوئی فرق نہیں پڑھتا، یہ ریشنل دلیل ہے عقیدے کی دلیل نہیں لیکن مولویوں نے اسے ترجمہ، تفسیر، تاریخ میں بدلنے کی کوشش اس لیے کی تاکے انکے نقطہ نظر کو اسپورٹ مل سکتے۔ نتجہ قران کی تعبیر و تشریع مقدس عبارت کے لیٹر اور روح کے بجائے فرد اور گرہوں کے سیاسی، مالی اور فرقہ پرستانہ ضرورتوں کے گرد گومنا شروع ہوگئی اور یہی سبب ہے بہت سارے فرقوں کے وجود میں آنے کا۔
ایک اور مثال
بقرہ ایت 113: وَقَالَتِ الۡيَهُوۡدُ لَـيۡسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰى شَىۡءٍ وَّقَالَتِ النَّصٰرٰى لَـيۡسَتِ الۡيَهُوۡدُ عَلٰى شَىۡءٍۙ وَّهُمۡ يَتۡلُوۡنَ الۡكِتٰبَؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ مِثۡلَ قَوۡلِهِمۡۚ فَاللّٰهُ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ۔
سورہ بقرہ ایت 113 ترجمہ: یہود کہتے ہیں کہ نصاریٰ کے مذہب کی کوئی حقیقت نہیں ہے، اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ یہود کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ حالانکہ دونوں کتاب (تورات و انجیل) پڑھتے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو علم نہیں رکھتے۔ اللہ قیامت کے دن ان کے درمیان ان اختلافات کا فیصلہ کر دے گا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔
اس آیت کا ترجمہ میری ایکس کی پوسٹ پر انگریزی میں تھا، چونکے اردو کا ترجمہ فارسی کے زیرِ اثر ہے۔ فارسی ان زبانوں میں شامل ہے جو عربی میں ضم نہیں ہوئیں مگر متاثر ہوئیں ہیں۔ لیکن درجنوں قدیم زبانیں عربی نے اپنے اندر ضم کی ہیں چونکے عربی کا سفر زبانی سے تحریر، تحریر سے اسٹنڈرڈ اوراسٹنڈرڈ سے کلاسک اور کلاسک سے لنگا فرنکا کا سفر ہے لیکن گریک اور فارسی ضم نہ ہوئی مگر بہت زیادہ متاثر ضروری ہوئی تھی۔ فارسی اور لسانِ القرآن کا رسم الخط چونکہ ایک ہی ہے، اس لیے بعض قرآنی الفاظ فارسی نے اٹھا کر انہیں اپنے معانی دے دیے اور وہی کلچر اردو میں آیا لیکن یہاں پر میں نے اردو کا ترجمہ کر دیا ہے۔ اس آیت میں قرآن دونوں عقائد کے اختلاف کو بیان کر رہا ہے اور کہتا ہے دونوں وحی (تورات اور انجیل) پڑھتے ہیں، لیکن قرآن یہ نہیں کہتا کہ دونوں غلط ہیں اور میں صحیح ہوں، بلکہ یہاں بھی ریشنل پوزیشن لیتا ہے کہ ان کے اختلاف کا فیصلہ اللہ قیامت کے دن کرے گا چونکے مذہب مابعد الطیبعیات ہے جو لوگوں کو اپنے ماحول سے ملتا ہے جس میں وہ پیدا ہوتے ہیں اور اسے وہ سچ مانتے ہیں۔ اس سچ کا دروازہ تو اللہ کے پاس ہی کھلے گا نہ کے دنیا کی زندگی میں۔
آپ نے سونیا کو جاہل لکھا ہے جب کے میں اس کی تحریریں پڑھتی رہی ہوں۔ آرٹسٹ کا کام معاشرے کی سائنس کو سمجھنا ہوتا ہے تب ہی وہ ایک اچھا ارٹسٹ بنتا ہے اور اس کی تحریریں میں نے پڑھی ہیں، میری بہین ایک اداکارہ کے ساتھ ساتھ کافی عالم فاضل بھی ہیں۔
قران تحریر کو ثبوت کے لیے لازمی
قرار دیتا ہے اور نبی کے پاس جب وحی
آتی تھی تو وہ کاتب وحی سے لکھواتے تھے
سفر میں بھی ہوں تو
تحریر پر زور ہے
میں نے اپر تصویر پوسٹ کی ہیں جو بقرہ ایت 282/283 جو لوگوں کو لین دین کے لیے تحریر لکھنے کا حکم ہےجس کا مطلب تحریر ثبوت کے لیے لازمی ہے۔ مزید یہ کے جن لوگوں نے دو سو سال بعد بغداد میں بیٹھ کر کہانیاں نبی اور صحابہ کے نام سے لکھی ہیں، انہوں نے خود تسلیم کیا ہے کے نبی نے ان سے منسوب قران کے علاوہ اگر کسی نے کوئی چیز لکھی تھی تو اسے مٹانے کا حکم دیا تھا۔ یعنی کاتب وحی کو منع کیا تھا کے ان سے منسوب قران کے علاوہ اگر کسی نے کوئی چیز لکھی ہے تو اسے مٹا
دے۔ کیا مولوی آج سفید جھوٹ نہیں بولتے؟ اس لنک پر میں آپ کودعوت دیتی ہوں کے چار مولویوں کے وڈیو پوسٹ میں شامل ہیں جو ہزاروں لوگوں کے سامنے بیٹھ کر جھوٹ بول رہے ہیں اور سامنے بیٹھے ہوئے لوگ اللہ اکبر اور سبحان اللہ کے جواب دیکر اس جھوٹ کا استقبال کرتے ہیں۔
امام بخاری 810 اے ڈی میں بخارا میں پیدا ہویے تھے
امام مسلم 875 میں ایران میں پیدا ہویے تھے۔
امام ابو داود 817 سستان ایران میں پیدا ہویے تھے۔
امام النسا یئ 829 ترکمانستان میں پیدا ہویے تھے۔
امام ترمذی 824 ترمیذ، ازبکستان میں پیدا ہویے تھے۔
کیا ان کی ایک بھی تحریر کسی تحریری ثبوت کی بنیاد پر ہے؟ نبی ﷺ اس دنیا سے 632 میں پردوہ فرما چکے تھے لیکن دو سو سال بعد پیدا ہونے والوں نے یہویدی ربانکل لٹریچر کے زیر اثر ایسا لٹریچر لکھ کر جس پر مذہب کی عمارت کھڑی کی ہے جو ان کا مذہب تو ہوسکتا ہے لیکن نبی کا نہیں چونکے جو مذہب قران سے متصادم ہو وہ نبی کا مذہب نہیں ہوسکتا اور یہ ہے نبی کے اسلام کا لٹمس ٹسٹ۔
نبی نے قران کے علاوہ کسی نے
ان سے منسوب کچھ لکھا تھا تو
اسے مٹانے کا حکم دیا تھا۔
کیا نبی سے منسوب کوئی چیز کسی صحابی یا تابعین نے لکھی تھی؟ نہیں۔ بخاری بخارا میں اور مسلم ایران میں نبی کی وفات کے تقریباً دو سو سال بعد پیدا ہوئے تھے، اور ان کی تمام تحریریں سنی سنائی باتیں ہیں جو نہ قرآن کے اصولوں کے معیار پر پورا اترتی ہیں اور نہ ہی تاریخ کے پرائمری ماخذ کے معیار پر۔ یہ خود پڑھ لیں اور پھر سوچیں کے جاہلت کا شکار آپ ہیں یا سونیا خان خٹک۔ میں صیح اور غلط کے حوالے سے بات کر رہی ہوں یہ نہ سمجھا جائے کے میں پٹھان ہونے کے تعصب کے قید خانے کا شکار ہوں۔




No comments:
Post a Comment