ہر معاشرہ اپنے عہد میں ہی زندہ ہوتا ہے۔ وہ نہ تاریخ میں اور نہ ہی مستقبل میں زندہ ہوتا ہے۔ ہر معاشرے کا کلچر اس کے
اپنے عہد کا ہوتا ہے نہ کے دوسرے عہد کا۔ آج گئے ہوئے کل کو وراثت میں قبول کرتا ہے اور آنے والا کل آج کو وراثت میں قبول کریگا۔
انسانوں کے عقائد کا عکس سماج کا ہی عکس ہوتا ہے لیکن اس کا تعلق ایسے داعوں سے ہوتا ہے جو نہ ہی انسانوں کے حواس خمسہ سے تصدیق ہو سکتی ہے نہ ہی تردید لیکن چونکے جس گھر میں جو بچہ پیدا ہوتا ہے اسکے گھر کے عقائد ہی اختیار کرتا ہے، اسی ماحول کی زبان اور کلچر، رسم روایات اور قاعدے قانون، جنہیں ہر انسان مطلق سچ خیال کرتا ہے مگر سچ کبھی مطلق نہیں ہوتا بلکے وہ جس ماحول میں پیدا ہوا ہے یہ اسکا ماحول کا مسلط کردہ سچ ہے۔
اسلام مکہ میں آیا اور مکہ کے لوگوں کا اپنا مخصوص کلچر تھا۔ وہ تجارت پیشہ لوگ تھے جن کی سوچ ان معاشروں سے آگے تھی جن کا تعلق زراعت کے پیشے سےتھا۔ تجارت کی غرض سے وہ دور دراز کا سفر کرتےتھے، نئے لوگوں اور نئے کلچر کے ساتھ ایکسپوز ہوتے تھے جس کا نتجہ وہ اس کلچر کو کچھ دیتے تھے اور کچھ لیتے تھے جس کا نتجہ کلچرل ایکسچینج کا عمل شروع ہوتا رہا ہے جو ہزاروں سالوں سے ہے۔ لہذا کلچرل ایکسچینج تاریخی طور پر زیادہ تر تجارت کے عمل سے وجود پزیر ہوا نہ کے عقائد یا نظریات کے تبلیغ سے۔
جب اسلام آیا تو اس وقت کا معاشرہ غلام دار معاشرہ تھا، رسم روایات غلام دار تھے، قاعدے قانون غلادار تھے اس لیے قران کے سامنے غلام دار معاشرہ تھا نہ کے صنعتی یا پوسٹ صعنتی معاشرے کا کلچر۔ اُس معاشرے کا شادی بیاہ، جنسی تعلقات، مذہبی تعلقات اور سماجی تعلقات کا اپنا کلچر تھا اور اسلام نے اپنی نئی ضرورتوں کے تحت اس معاشرے کو اُس حد تک ریفارم کیا تھا جو اس معاشرے کی اب ضرورت بن چکی تھی۔ مثلا" شادی بیاہ اور جنسی تعلقات کے بارے میں سورہ نساء ایات 23/24 صرف اتنی سی ریفارم کرتی ہیں کے اسلام سے پہلے مکہ کے کلچر میں باپ کی وفات کے بعد بڑا بیٹا اپنی سویتلی ماں کو گرل فرنڈ کے طور پر رکھ لیتا تھا۔ معاشرہ اس رسم کو اب برا سمجھنا شروع ہوگیا تھا لیکن چونکے عورت ایک جنس کے طور پر خرید و فروخت کے عمل سے گذرتی تھی اس لیے بڑا بیٹا اسکو گرل فرنڈ کے طور پر رکھنے کے حق سےآسانی کے ساتھ دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں تھا لیکن چونکے معاشرے کی اب سوچ اس رسم کے خلاف ہوچکی تھی لہذا اسلام نے صرف اس رسم کو ختم اس نوٹ کے ساتھ کیا کے پہلے جو ہوگیا وہ ہوگیا اب نہیں ہوگا اور اب حرمت علیکم استعمال ہوا۔
مکہ کے کلچر میں امیر مرد لامحدود بیویاں اور لامحدود لانڈیاں رکھتے تھے لیکن مدینہ کے کلچر میں یہودی اُس وقت زیادہ سے زیادہ چار بیویاں رکھتے تھے۔ اسلام جب مکہ سے مدینہ منتقل ہوا تو جیوش کلچر کے دباو میں آگیا تھا۔ اس کا پہلا اثر یہ ہوا تھا کے قران نے بھی مسلمانوں کو لامحدود شادیوں سے روک کر مشروط طور پر چار کی اجازت دی جو یہودیوں میں پہلے سے موجود تھی لیکن لامحدود لانڈیوں کے ساتھ سیکس تو براقرار رہا مگر مسلمان عورتوں کو بھی یہ حق مل گیا تھا کے جس طرح مرد کو اپنی لانڈی کے ساتھ سیکس کرنے کا حق تھا اسی طرح عورتوں کو بھی اپنے غلام مرد کے ساتھ سیکس کرنے کی اجازت مل گئی تھی۔ قران نے صرف اتنا کہا تھا کے جو تماری ملکیت میں ہیں یا جو داہیں ہاتھ کے پاس ہیں۔ دہیاں ہاتھ دونوں کا تھا، عورت اور مرد کا اور دونون کے پاس غلام عورتیں اور غلام مرد ہوتے تھے۔
عورت کے اس حق کو حضرت عمر نے تب ختم کیا جب ایک عورت کا کیس ان کے پاس آیا اور انہوں نے ایک کمیٹی بنائی جس میں سب مرد تھے تو مردوں نے عورت کے حق کو اپنے غلام مرد کے ساتھ سیکس کی اجازت ختم کردی۔ جس کا مطلب یہ تھا کے قبل اسلام کی رسم دوبارا بحال ہوگئی تھی۔
کیا قران اور حدیث کی عبارت جو اپنے غلادار معاشرے کے کلچر کا عکس ہےآج بھی قابل عمل ہے؟ اسکا آسان جواب نہیں میں ہے۔ آج قران و حدیث کی عبارت کی روح قابل عمل ہے نہ کے عبارت۔ آج کے سماجی مسائل آج کی معاشرتی ضرورتوں کا نتجہ ہیں نہ کے تاریخ کا۔ آج کی معاشرتی ضرورتیں ایک آزاد معاشرے کی ہیں جس میں فرد کو غلام بنانا جرم ہے، اس کے بنیادی انسانی حقوق کو عالمی طور پر یو این چاٹر میں تحفظ ملا ہوا ہے اور بنیاد انسانی حقوق پر کوئی حکومت یا فاتح فوج بھی حملہ کریگی تو وہ جنگی جرم کے طور لیا جاتا ہے۔
مسلم عقائد کے حکمرانوں کے نوآبادیاتی نظام کا خاتمہ ھندوستان میں برطانوی نوآبادیاتی نظام کے آنے کے بعد ہوا تھا جبکے سلطنت عثمانیہ کا پہلی جنگ عظیم کے نتجے میں ہوا تھا۔ اسی طرح برطانوی اور فرنچ نوآبادیاتی نظام کا خاطمہ دوسری جنگ عظیم کے بعد ہوا اور نوآبادیاتی نظام کی بحالی یا کوشش یواین چاٹر میں غیر قانونی قرار پائی ہے اور اب حکومت بنانا اور تبدیل کرنا مقامی لوگوں کا حق ہے اور نہ کے باہر سے نہ ہی کوئی فاتح فوج عوام پر ان کی مرضی کے خلاف حکومت مسلط کرسکتی ہے۔
اس لیے مسلمانوں کی سیاسی فکر آج بھی نوآبادتی نظام کی بحالی اور معاشرے کو غلام بنانے کی کوشش ہے نہ بہتری یا عوام کی آزادی کا تحفظ۔ وہ بوکو حرام ہوں یا شباب ملی، جماعت اسلامی، تبلیغی جماعت، مجاہدین، اخوان المسلمین، طالبان سب کے سب نوآبادیاتی نظام کی بحالی اور معاشرے کو غلام بنانے کی تحریکیں ہیں۔
مسلہ ان کے سامنے یہ ہوتا ہے کے وہ اپنی بے ایمانی، انسان دشمنی اور منافقت کو جھوٹے عقائد کے تصورتخلیق کر کے اسکے پردے کے پیچھے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب ان کے سامنے اصل حقیقت سامنے آتی ہے تو وہ پریشان ہوتے ہیں اور اپنی مذہبی تاریخ بدل کر اس پر آج کا رنگ چڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیا ماضی پر آج کا رنگ چڑیا جاسکتا ہے؟ نہیں۔ یہ ہے وہ مسلم بہودگی اور بے حیائی جس کا پرچار مسجدوں اور مدرسوں سے ہورہا ہے جس پر دنیا ہنس رہی ہے۔
آج جب یہ لوگ معاشی ضرورت کے جبر کے تحت مغرب کے صعنتی اور پوسٹ صعنتی کلچر کا حصہ بنتے ہیں تو ان کے لیے گرل فرنڈ اور بوائے فرنڈ کا کلچر عجیب لگتا ہے اور وہ اس کلچر کو اپنے بیک ہوم کے زرعی معاشرے کے کلچر کی عینک سے دیکھ کر مذہبی اخلاقی معیار سے اسکا تعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کو یہ علم نہیں ہوتا کے مذہب کی اپنی تاریخ ہےاور وہ تاریخ آپکے اج کے عقائد کی ضرورت کے تحت نہیں بدلی جاسکتی ہے۔
جب یہ لوگ مشکوۃ جلد سوم صفحہ 297 پر ابراھیم بن محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا نام دیکھتے ہیں جو ایک مصری کرسچن ماریہ قبطیہ کے بطن سے پیدا ہوئے تھے جو نبی کی بیوی نہیں تھی بلکے مملوکہ یعنی لانڈی تھی تو ماریہ قبطیہ کو پاکستانی اردو کے مذہبی لکھاری نبی کی بیوی لکھتے ہیں۔ ان بیوقوفوں کو یہ نہیں پتہ کے لانڈی آزادی حاصل کئے بغیر بیوی بن ہی نہیں سکتی۔ مزید یہ کے کیا بیوی لکھ کر پاکستانی مذہب جاہلت کو گمراہ کرنے کی کوشش تو کام کرسکتی ہے لیکن سورۃ الااحزاب ایت 52 کا کیا کرو گے جو نبی کو لانڈی کے ساتھ سیکس کی اجازت دیتی ہے؟ عام مسلمان کا کیا کرو گے جب سورۃ نساء ایت 24 سورہ المومنون ایت 6 سورۃ الااحزاب ایت 50 سورۃ المعارج ایت 30 لانڈی کے ساتھ بغیر شادی بغیر نکاح کے سیکس کی اجازت دیتی ہیں؟ مغرب کے خلاف جو تمارا برین واش ہوا ہے اس سے بچنے کا طریقہ حقیقت پسندی ہے نہ کے ان جھوٹے تصورات میں گم رینا۔ شادی بیاہ یا سیکس ، رسم رواج اور قاعدے قانون معاشرے کی سماجی ضرورت کا نتجہ ہوتے ہیں جو مقامی
کلچر کا اظہار ہے نہ کےمذہب۔
No comments:
Post a Comment