Sunday, August 15, 2021

Naya Pakistan Kaun Sai Retired Afsar Chala Rahay Hain? Googly News TV #Pakistan #RetiredMilitaryOfficers #Corruption #Nepotism #Sensorship_To_Protect_Corruption



میری رائے میں یہ عمران خان یا مشرف کی حکومت میں شروع نہیں ہوا بلکے یہ طریقہ ضیاء کے اقتدار میں آنے اور افغان جہاد کے ساتھ کسی نہ کسی حد تک شروع ہوگیا تھا۔ جولوگ دفاعی اداروں سے ریٹائرڑ ہوتے ہیں ان میں سے 90  فیصد آئی آیس آئی کے پے رول پر چلے جاتے ہیں۔ 
میں جب آخری بار 1993 میں پاکستان گیا تو میرے دوست اور میرے ساتھی جو جے کے ایل ایف میں تھے سعودی عرب سے نوکری چھوڑ کر واپس چلے گے تھے۔ میں نے راولپنڈی میں ان سے پوچھا کے اب کیا کرنا ہے؟ کچھ کاروبار کرلو چونکے پیسے باہرسے لائے ہو وہ آہستہ آہستہ ختم ہوجاینگے۔
اس نے جواب دیا کے میرا ایک کرنل رشتےدار  ہے اور ابھی وہ ریٹائرڑ ہوا ہے اور وہ کہے رہا ہے کے میرا انتظار کرو، ہم دونوں ملکر کچھ کرینگے۔ اور کرنل انتظآر کررہا ہے کے اس کو ایک کارڈ دے دیا جایگا جس کے لیے مہنے میں صرف ایک دن جاکر ان کے دفتر میں حاضری لگوانی ہوگی اور اس کے بعد باقی سب فارغ۔ 
میں نے دوست سے کہا کے وہ آرمی سے ریٹائرڑ ہونے کے بعد آئی آیس آئی جائن کررہا ہے۔ جو دفتر اسے کارڈ دیگا وہ آئی آیس آئی کا انڈر کور دفترہوگا۔ جب میں کشمیر سے واپس راولپنڈی سعودی عربیہ جانے کے لئے آیا تو ملنے پر اس نے تصدیق کی کے افضل صاحب آپ ٹھیک کہتے تھے۔ اس کا کام ہوگیا ہے اوروہ دفتر انہی کا ہے۔ 
لہذا میری رائے ہے کے پاکستان کا بنیادی مسلہ یہ ہے کے اس کی ریاستی مشین کے عناصر بیک وقت دوہری اٹھارٹی کے تعابے ہوتے ہیں، ایک جو وہ ظاہری طور پر سر انجام دے رہے ہوتے ہیں اور دوسری وہ جو خفیہ طور پر ان کی پشت پر ہوتی ہے۔ یہ اتھارٹی کا دوہرا نظام پاکستان کے ریاستی نظام کو تبائی کی طرف لیے گیا ہے۔ 
ایسا ممکن ہی نہیں اور نہ ہی ہوسکتا ہے کے جرم اور قانون کا اتحاد ہو۔ پاکستان میں جرم اور قانون کے اتحاد کا تجربہ کیا جارہا ہے۔ پریونٹوی اور انفورسمنٹ دو مختلف ضرورتیں اور مختلف زماں و مکاں کا تقاضہ کرتی ہیں۔ اگر ایسا ممکن ہوتا تو سب سے پہلے امریکہ یا برطانیہ کرتا۔ 
پورے ہندوستان کو فتح ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج نے کیا تھا جو برطانیہ کی ایک پراویٹ کمپنی تھی جسکا برطانیہ کی حکومت سے اتنا ہی تعلق تھا جتنا دوسری کسی کمپنی کا تھا۔ مائدہ امرتسر اور مائدہ لاہور کمپنی کی فوج کے ساتھ ان کی طرف سے گورنرجنرل نے دستخط اس لیے کئے تھے چونکے کمپنی برطانیہ کی تھی۔ جہاں برطانیہ کا گورنر جنرل ہوتا ہے وہ آزاد ملک ہوتا ہے جس طرح کینڈا، اسٹریلیا کے علاوہ بہت سارے ملکوں میں آج بھی گورنر جنرل ہوتے ہیں۔
 کمپنی کو حکومت نے 1858 میں قومی ملکیت میں لیا  تھا تو تب واسرائے اور مقامی بیوروکریسی کے نظام کو ایک بہت بڑے علاقے کے انتظام کو چلانے کی ضرورت پیش آنے کے  تحت چین کا قبل مسیح کا نظام جس میں لوگوں کو مقابلے کا امتحان پاس کرنا ہوتا تھا اور چین میں قبل مسیح میں راج تھا کے اصول پر استوار کیا تھا۔ اس کے بعد سارے سیاسی نظام کی اتھارٹی بادشاہ اور پارلیمنٹ کے پاس چلی گئی تھی، نہ کے اس فوج  کے پاس  جو برطانوی افسران اور مقامی ہندوستانیوں  پر مشتمل تھی  اور  جنہوں نے پورے ھندوستان کی زمین کو فتح کیا تھا بلکے ہر ایک سیاسی عمل سختی سے قانون کے تعابے ہوگیا تھا نہ انفرادی افسران کی من مانی۔
 اتھارٹی قانون کی ہوتی ہے نہ کے فرد، پوزیشن یا ادارے کی۔ پاکستان کے تعلیمی اور تربیتی ادروں کے معیار میں میری نظر یہ مسلہ موجود ہے جو ریاست اور قانون کو ابھی تک ایک قبائلی معاشرے کے فرد کی آنکھ کی نظراور تعصبات  سے دیکھتے ہیں جن میں میجر جنرل اعجاز اعوان جسے لوگ جو فوج کی کمان اور سفارت کار رینے کے باوجود، یہ علم نہیں رکھتے کے قانون کی خلاف ورزی سب سے پہلے خود اس فوجی افسر کی اتھارٹی کو چیلنج کریگی جسکا حکم  ماتحت اس لیے مانتے ہیں کے وہ حکم قانونی ہے۔ بصورت دیگر خود فوج ، بیوروکریسی اور انٹیلیجنس کا نظام انارکی کا شکار  ہوکر درم برہم ہوجاتا ہے۔ کیا پاکستان میں انارکی اسی کا سبب نہیں ہے۔ میڈیہ پر بہودہ پروپیگنڈہ یا مذہبی کہانیوں سے نہ حقیقت بدلی  جاسکتی اور نہ ہی نظام میں بہتری ممکن ہے۔ 

No comments: