پاکستان کے سکولوں میں بچوں کو نفرت اور تشدد کی نشو نما پر میں یہاں مختصر جواب دونگا، چونکے یہ سوال تفصیل طلب ہے جو کسی بھی سماج کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔
یہ صرف بچوں کا ہی سوال نہیں ہے بلکے پاکستان کی ریاستی پالیسی خود اپنے اندر تصادم کے نظریات کو فروغ دیتی ہے۔ ہر معاشرے کی بنیادی ضرورت ہوتی ہے کےایسے نظریات کی نشونما نہ کرے جو سماج کے اندر متصادم طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آتے ہوں اور سماج کو لاقانونیت اور خانہ جنگی کی طرف لیجاتے ہوں بلکے ایسے نظریات کا فروغ بنے والے اسباب کو شناخت کرکے جڑ سے ختم کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں اکثریتی فرقے کی سیاسی ضرورت کو سامنے رکھ کر مذہبی شدت پسندی اور تشدد کے رجحان کو ماں کی گود اور نرسری سے فروغ دیا جاتا ہے۔ یہ شخص بچوں کو مذہبی شدت پسندی یا فرقہ پرستی کا فروغ ہی نہیں دیے رہا ہے بلکے یہ بچوں کو اس عمر میں تشدد کے نظریات کی طرف راغب کررہا ہے جو لازمی طور پر دہشتگرد تنظیم میں ہی شامل ہونگے۔
پاکستان، بھارت، افغانستان اور بنگلہ دیش کا مسلمان جسکا اسلام اس کی مسجد اور مدرسے کے مولوی کے اسلام تک محدود ہے۔ اس کی بنیاد نبی کا اسلام نہیں بلکے دو سو سال بعد عباسی خلیفہ متوکل کی حکومت ہے جس نےحدیث لٹریچر کو اسلام میں قبول کیا جو دراصل زرتش اور جیوش مذہبی کلچر کو اسلام کا لبادہ پہناکران کو مسخ کرنے کی کوشش تھی۔
یہ لوگ کہتے ہیں کے ہم حنفی ہیں؟ امام ابوحنیفہ کی ایک تحریر بتا دیں جو موجود ہو اور ان کی اپنی تحریر ہو؟ ایک بھی نہیں ہے۔ اس لیے کے جب حنبلی اور خلیفہ متوکل آیا تو انہوں نے نہ صرف بڑے بڑے اسکالرز کو قتل کیا گیا بلکے پرانے لٹریچر کوبھی ضائع کردیا تھا۔ منصور حلاج صرف ایک ہی قتل نہیں ہوئے تھے بلکے ہزاروں اسکالرز کو قتل کیا گیا تھا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے اسلام زوال پزیر اور قبائلی قوم پرستی کا شکار ہوگیا تھا جو آج تک کا اسلامی کلچرکی سمت بنا ہوا ہے۔
میں تو امام ابوحنیفہ کی بات کی ہے، مگر ہمارے پاس تو قران کے پہلی اور دوسری صدی کے مکمل نسخے تک موجود نہیں ہیں۔ جو قران عباسیوں نے اختیار کیا تھا وہ حفص کے نام سے مشہور ہوا اور آج تک شمالی افریقہ والے حفص نہیں ورش قبول کرتے ہیں۔
امام بخاری امام حنبل کے شاگرد تھے۔ امام حنبل اور امام بخاری نے جو حدیثیں خود مرتب کی ہیں ان کے متن میں فرق ہے۔ جب حدیث لٹریچر قبول کیا گیا تو لاکھوں کہانیاں لوگوں نے نبی کے نام کے ساتھ مشہور کر دی۔ جس کا نتجہ یہ ہوا کے خود قران کی عبارت کی تردید ہونا شروع ہوگئی تھی۔
یہی وہ وجہ تھی جسکی بنیاد پر ناسخ و منسوخ کی تھیوری سامنے آئی اورایک یہ اصول طے ہوا کے اگر حدیث اور قران میں تضاد ہو تو سنہ قران کو منسوخ کردے گئی۔ اس کا مطلب یہ تھا کے مخلوق اپنے خالق کو منسوخ کردے گی۔ اسی اصول کو بنیاد بناکرسنگسار کا قانون جو ھندو/جیوش کی مذہبی کتاب میں تو ہے مگر قران یا انجیل میں نہیں۔ یہ غیر انسانی سزا حضرت عیسئی نے منسوخ کردی تھی جب ایک عورت کو کچھ لوگ اس نیت کے ساتھ لیکر حضرت عیسئی کے پاس آئے تھےکے عیسئی اس کو زنا کی سزا نہیں دیگا توہماری بات پکی ہوجایگی کے یہ ایسا نبی ہے جو زانیوں کو سزا نہیں دیتا۔ جب وہ اس عورت کو لیکر حضرت عیسئی کے پاس آئے کے اس عورت نے زنا کیا ہے تو حضرت عیسئی نے ٹیبل ٹرن کردیا یہ کہے کر کے سب سے پہلا پتھر وہ مارے گا جس نے کوئی گناہ نہیں کیا ہو۔ یہاں سے سنگسار کی سزا ختم ہوگئی تھی۔ حنبلیوں نے اس سزا کونبی کے نام پر حدیث گھڑ کر جیوش/ھندو رسم کو دوبارا اسلام کی چادر پہنا دی جب کے بعد میں یہ اصول کے سنہ قران کو منسوخ کردیگی تبدیل کرکے قران سنہ کومنسوخ کردیگا طے پایا اور کوئِ حدیث جو قران سے متصادم ہو، قران سے تجاوز یا کم کرتی ہو وہ حدیث ہے ہی نہیں۔
مسلمانوں کے کس طبقے نے حنبلی سکول کو قبول کیا تھا؟ کسی نے نہیں۔ یہ چار امام کی تھیوری کہاں سے آئی؟ کیا شام اور مکہ کےجو جیورسٹ تھے وہ امام نہیں تھے۔ یہ ایک اورجھوٹ اور فراڈ تھا جو حنبلیوں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا تھا تاکے اپنے عقائد کو حکومت کے اختیار کے ذریعے عوام پر مسلط کیا جائے جو ہوا اور عوام کو پتہ بھی نہیں چلا کے وہ حنفی نہیں وہ حنبلی چادر اوڑھ چکے ہیں۔
حنبلی سکول کو مسلمانوں کے اندر قبول کرنے والا سب سے پہلا طبقہ نجدی تھے جنہوں 1925 میں قبول کیا تھا۔ نجدیوں نے جب 1925 میں حجاز پر قبضہ کیا تو وہ حدیثی کہلاتے تھے لیکن جب عملی زندگی کا سامنا ہوا تو پتہ چلا کے قران و حدیث صرف عبارت ہے کوئی نظام نہیں اور نظام اپنی سماجی ضرورتوں کے تحت بنانا پڑھتا ہے اور قانون کی تعبیر و تشریع کمراہ عدالت میں ثبوتوں کو چلنج کرنے کے نتجے کے بعد وجود میں آتا ہے نہ کے بہودہ مذہبی تقریروں سے۔ پھر نجدیوں نے حنبلی سکول کو اختیار کیا جو میری رائے میں خوارج کی بدلی ہوئی شکل تھی۔
بخاری، ابوداود، ابن ماجہ، مسلم، النسائی، الترمذی سب کے سب وسطئی ایشیا یا ایران سے تھے جنکا پس منظر زرتش کلچر تھا اور ایک دو نسل سے مسلمان ہوئے تھے۔ مزید یہ کے یہ سارے عباسی سلطنت کے زیر اثر تھے جبکے بنوامیہ کے خاتمے کے بعد عباسیہ سارے مسلمانوں کی سلطنت نہیں تھی۔ اسپین میں پانچ سو سال تک بنوامیہ کی حکومت رہی جس میں کوئی محدث پیدا نہیں ہوا بلکے ابن رشد جیسا اسکالر جس نے گریک فلسفے کو یورپ پہنچایا اور یورپین تہذیب کی بنیاد ابن رشد کے نظریات پر استوار ہوئی تھی۔
اس کے علاوہ بنوعباسیہ سے ٹوٹ کر فاطمیوں کی حکومت پہلے تیونس اور پھر قاہرہ میں 9 ویں صدی میں قائم ہوگئی تھی جس نے اسلام کی تاریخ کا سب سے پہلا اور منظم تعلیمی ادارہ بنایا تھا جو الاازہر کے نام سے مشہور ہوا اور فاطمیوں کی سلطنت 10ویں صدی تک حجاز اور شام تک پھیل چکی تھی۔ ان میں ایک بھی محدث پیدا نہیں ہوا۔ کیوں؟
قران سورہ بقرہ ایت 282 لوگوں کولکھنےکی نہ صرف ترغیب ہی نہیں دے رہا ہے بلکے اپنے درمیان کاروبار کے لیے ثبوت کے طور پر لازمی بھی قرار دے رہا ہے تاکے اختلاف کی صورت میں عدالت میں پیش کیاجاسکے۔ یہ سورہ بقرہ کی لمبی ترین ایت ہے۔ جب قران عام لوگوں کے درمیان کاروباری جھگڑوں کو سامنے رکھ کر تحریر کے ثبوت کی بنیاد کو ناگزیر قرار دے رہا ہے تو نبی کے نام سے منسوب کسی بات کو جو آہندہ نسلوں کے لیے قابل عمل بناکر پیش کی جائےکم اہمیت کی حامل تھی کے اسکو تحریری شکل نہ دی جاتی؟ حدیث کی کہانیاں لکھنے والوں کے پاس نبی اور صحابہ کا کوئی تحریری ثبوت نہیں تھا۔ بخاری حضور کی وفات کے دو سو سال بعد مکہ/مدینہ سے ہزاروں میل دور بخارہ میں زرتش گھر میں پیدا ہوا تھا۔
نبی کی طرف سے واضح حکم تھا کے میرے نام سے منسوب قران کے علاوہ اگر کسی نے کچھ لکھ رکھا ہے تو فوری اسے ڈیلیٹ کردے۔ یہی وجہ ہے کے کسی صحابہ نے نبی کے نام سے کبھی کوئی کہانی نہیں نہیں لکھی جبکے صحابہ خود کاتب وحی تھے۔
مسلم صیح، الزود صفحہ 72 ؛ابو داود المشاف صفہ4؛ قران کی عبارت کی تاریخ از ایم ایم عظمئی صفہ 69؛ پردیکھیں۔
ان کی اپنی تحریریں اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کے نبی کے نام سے کہانیاں لکھنے سے خود نبی نے منع کیا تھا مگر اس کے باوجود ان لوگوں نے اسلام پر زرشت اور جیوش کلچر کا رنگ حدیثوں کی شکل میں چڑھا کر اسلام کے کائنات کو دیکھنے کے سائنسی فکر و نظر کے ایک بنیادی ستون کو تبدیل کرکے ماضی پرستی کے رجحان اور تحقیق و تخلیق کی دشمن سمت پر ڈال دیا جو اس وقت تک مسلم عوام کے پیروں کی زنجیر بن چکا ہے۔
قران خود سنت ہے کرسچن/یہودی مذہبی کہانیوں اور مکہ کے کلچرکا۔ سنت پہلے سے موجود راستے کو کہتے ہیں۔ اس لیے قران اُس وقت کے انسان کی فکر و نظر کو ہی سامنے رکھ کر اور اس معاشرتی ماحول کی ضرورت کے تحت ہی ھدایات دیتا تھا نہ کے کوئی نئی اور عجیب دنیا اُن انسانون کے لیے تخلیق کی تھی یا کرنے کا پیغام دیا تھا۔ ہر اج کی سنت گیا ہوا کل ہے اور ہر آنے والے کل کی سنت آج ہے۔ قران ہی نبی کی سنت ہے جو نبی کے اظہار اور اسکی تحریری شکل ہے لیکن قران کی عبارت اپنے معاشرتی ماحول کی ضرورت تھی نہ کے اج کے معاشرتی ماحول کا جواب قران کی عبارت ہے بلکے قران کے وہ اصول جواپنی عبارت کے متن کے اندر فطری/آفاقی نطریات کو فروغ دیتے ہوں وہ ہیں۔
بچوں کو پوری دنیا میں معاشرے کو پروامن اور قانون پسند بنانے کے لیے بنیادی انسانی حقوق کی تعلیم دی جاتی ہے۔ تعلیم دینے کا طریقہ بھی لازمی طور پر سائنسی ہوتا ہے اور تربیت دینے والے یا والیاں بھی مکمل طور پر بچوں کی بنیای نفسیاتی سائنسی کے تناظر میں تربیت یافتہ ہوتے ہیں نہ کے جو کچھ پاکستان میں ہورہا ہے۔
آج ہم پوری دنیا میں کم و پیش صعنتی معاشرے کے صعنتی کلچر میں ریتے ہے۔ جب ایک کرسچن کارکن دوسرے مسلمان، جیوش، ھندو، پارسی، سکھ، بدھ، لبرل، لامذہب، عورت اور مرد کارکن کے ساتھ ایک ہی فکٹری یا تجارتی مرکز میں ایک ہی ٹیم کے طور پر ایک ساتھ کام کرنا ہوتا ہے۔ اسی طرح مختلف مذاہب کے بچے ایک ساتھ نرسری کی سطح پر تربیت کے لیے آتے ہیں۔ ان کا مذہب، عقیدہ یا رویہ جس گھر میں پیدا ہوتے ہیں اس کے سبب انکو ملتا ہے نہ کے سچ یا جھوٹ کے پیمانے کی بنیاد پر۔ ان کے لیے ضروری ہوتا ہے کے وہ ایک دوسرے کو جانتے ہوں اور ایک دوسرے کے حقوق و فرائض سے وقفیت سا ئنسی بنیاد پر دی جاتی ہے نہ کے اس قسم کا رویہ کے تمارا مذہب سچا اور دوسروں کا جھوٹا ہے یا یہ کے دوسروں کے عقائد کے خلاف بچوں کے ذہین میں نفرت اور دشمنی بھری جائے۔ پاکستان کی تبائی میں اس مذہبی رجحان کا بنیادی رول رہا ہے۔
لہذا اس قسم کا رویہ کسی بھی معاشرے کے لیے خود تبائی کا بندوبست ہوتا ہے جو میں خود پاکستان میں تو دیکھتا رہا ہوں لیکن اب یہ رویہ ھندوستان میں بھی ھندو برتری اور ھندو قوم پرستی کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔
بچوں کو گمراہ کرنے کا مطلب مستقبل کے معاشرے کو گمراہ اوراپائج کرنا ہے جو جرم ہے مگر یہ پاکستان میں کسی نہ کسی حد تک ہوچکا ہے۔ میری رائے میں مذہبی نفرت اور تشدد کے نظریات پاکستان کی خفیہ جاسوس ایجنسی کو اپنے وجود میں لانے والوں نے ہی دیئے تھے جو ان کی سرد جنگ کی ضرورت تھی نہ کے ایک آزاد معاشرے کی جو اقوام اور جدید ریاستی نظام میں آگے بڑھنے کے خواب دیکھ رہا ہو۔ آج بھی ان نظریات کے حامی زیادہ طاقتور نظر آتے ہیں چونکے ان نظریات کی وجہ سے کچھ لوگ فقیر سے ارب پتی بنے ہیں لیکن پاکستانی معاشرہ موت کی چارپائی پر پہنچ چکا ہے۔
No comments:
Post a Comment