Sunday, February 28, 2021

چین کے خلاف دنیا بھر میں پھیلائی جانے والی کہانیاں کے وہاں مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہے کوئی حقیقت نہیں ہے۔


چین کے خلاف اس بات پر بلخصوص مغرب اور بھارت میں بڑا شور مچایا جاتا ہے کے چین کی حکومت چینی ترکستان کےمسلمانوں کے مذہبی حقوق کو پامال کر رہا ہے مگر میرے نزدیک اس کی حقیقت بھی وہی  لگتی ہے جو افغانستان میں سویت یونین کے خلاف تھی۔ فیک نیوز کی ایک فیکٹری پشاور یونیورسٹی میں مواد  تیار کر کے افغانستان کے نام پر میڈیہ کے ذریعے پوری دنیا کے لیے فلش کرتی تھی جسے دنیا سچ مانتی تھی۔

 سویت یونین پندرہ ریاستوں کا ایک اتحاد تھا جسے مغربی پیسہ بٹورنے  والے جہادی سیاستدان اس وقت ایک فریب قرار دیتے تھے جو بعد میں خود مغرب کے خلاف خود کش بمبار بنے مگر جب پندرہ ریاستوں نے علیحدگی اختیار کی تو ان کی آزادی کو روکنے کے لیے ایک گولی بھی نہ چلی جب کے نام نہاد جمہوری ریاستیں کشمیر اور فلسطین میں آزادی مانگنے والوں کا خون بہاتی رہی ہہن۔ اس کے برخلاف چینی ترکستان اور تبت چین کے خود مختار علاقے ہیں جو مین لینڈ  چین کے ساتھ اقتدار اعلی شیر کرتے ہیں جن کی اپنی مقامی کیمنسٹ پارٹی ہے جو چینی کیمنسٹ پارٹی کا حصہ ہے مگر تبت/ترکستان کی اپنی پارلیمنٹ اور اپنا صدر ہے۔ اس کے برخلاف جموں کشمیر پر بھارت دہلی سے ایک گورنر کو مسلط کر کے فوج کے ذریعے حکومت کرتا رہا ہے۔

 سوال ترکستان کے مسلمانوں کا نہیں بلکے سوال چین کے خلاف نئی  پراکسی جنگ کی ضرورت ہے جس کے لیے بہترین ہتھیار مسلم عقیدے کو استعمال کر کے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ میری رائے میں جس طرح افغانستان میں سویت یونین کے خلاف پاکستان اور سعودی عرب کو استعمال کیا گیا تھا، اب چینی ترکستان کے یوگور مسلمانوں کے نام کو چین کے خلاف  پاکستان/ترکی کے ذریعے استعمال کیا جائیگا۔ ترکی کی اسلامی حکومت کو پہلے ہی شام میں استعمال کیا جا چکا ہے۔  پاکستان میں عمران خان کی حکومت اور ترکی میں اردگان کی حکومت اس کار خیر  میں مدد گار ثابت ہوسکتے ہیں۔ سعودی عرب سے امریکہ کے منہ موڑنے کا کوئی تو سبب ہوگا؟ 

چین میں ایک پارٹی کی حکومت ضرور ہے مگر آزاد امیدوار الیکشن میں حصہ لئے سکتے ہیں۔ ہم ایک پارٹی کی امریت کی حمایت نہیں کرتے لیکن چین کے مخصوص حالات میں چین کی کیمنسٹ پارٹی ہی کی قیادت  ہے جو چین کے ایک ارب پچاس کروڑ عوام کو غربت سے باہر نکالنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ ٹرینڈ یونین کو ہڑتال کا حق ہے اور ہر روز چین میں مزدوروں اور کسانوں کی ہڑتالیں ہوتی رہتی ہیں۔ چین میں مذہب کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس لیے دفاتر کو مسجدیں/مندر بنا کر مذہبی نسل پرستی کی اجازت نہ دینا ایک اچھا قدم ہے۔ نماز کے لیے مسجدیں موجود ہیں۔ میں فرانس کے اس قانون کا حامی ہوں کے مذہبی تعلیم صرف ایسے سکولوں میں دی جاے جن کی حکومت نے منظوری دی ہو۔ ایسا کرنا اس لیے بھی ضروری ہے چونکہ  مذہبی امام ہزاروں سال پرانا مواد آج کے ماحول سے کاٹ کر کے پڑھانے کی کوشش کرتے ہیں جس کا نتیجہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شکل میں نکلتا ہے۔ 

 کیا ایسی تعلیم کی اجازت دی جاسکتی ہے جس کا نتیجہ بہنوں/بیٹیوں کے قتل کی شکل میں نمودار ہو؟ کیا ایسی تعلیم کی اجازت دی جاسکتی ہے جو بچوں کے ذہین میں اپنے ساتھ معاشرے  میں رینے والے  انسانوں کے خلاف نفرت کی آبیاری  کرتی ہو اور ان کو قتل کرنے کے لیے خود کش بمبار بناتی ہو؟ کیا ایسی تعلیم کی اجازت دی جاسکتی ہے جس کے نتیجے میں ایسے لوگ پیدا ہوں جو راستے میں چلتے معصوم انسانوں پر گاڑی چڑا کر اس لیے قتل کر دیں کے مختلف دکھائی دیتے ہیں؟ ایسی تعلیم کی اجازت کوئی معاشرہ نہیں دیتا اور چین بھی اسی مقصد کے تحت ری ایجوکیشن سنٹر چلا رہا ہے تاکے انسان ایک دوسرے کے حقوق کی قدر کریں سکھ سکیں نہ کے ایک دوسرے کو نقصان صرف اس بنیاد پر  پہنچانے کی کوشش کریں چونکہ  وہ ایک دوسرے سے  نظریات،  رنگ، نسل، جنس یا مذہب میں مختلف ہیں۔


No comments: