آپ عارف بھی ہیں، جاں باز اور قاضی بھی اور آپ کی خوہش ہے کہ میں پیارا نام "اللہ" لکھوں۔ بھائی جو نام پیارے نہیں ہیں وہ کس نے بنایے ہیں؟ دوسری اور اہم بات یہ ہے کہ اللہ لکھنے سے کیا ہوجایگا؟ کیا میری بری عادتیں تبدل ہوجاہنگی؟ لیکن اس سے قبل کہ ہم بری عادتیں تبدیل کرنے کی خوہش کریں، ہمیں اس پر متفق ہونا ہوگا کہ بری عادتیں ہوتی کیا ہیں؟
چلو جی ہم اپر سے شروع کرتے ہیں: قتل، چوری، ناانصافی، اقراپروری، لوگوں سے نفرت کرنا کے وہ دوسرے رنگ، نسل، مذہب، فرقے، طبقے، جنس، قوم یا قبیلے کے ہیں یا ان وجوہات کی بنیاد پر ان کے معاشی سیاسی، ثقافتی اور مذہبی حقوق پر شب خون مارنا، برائی ہے۔ کیا ان سب کو آپ برائی مانتے ہیں؟ اگر مانتے ہیں تو زبانی اور تحریری طور پر فوک الفطرہ کے ساتھ تعلق کے اظہار کے لیے لفظ "اللہ" صرف مسلمانوں کا اظہاریہ ہے۔ ہہی نام مکہ کے لوگ اپنے سب سے بڑے خدا کلیے اسلام سے قبل استعمال کرتے تھے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ روھانی اظہار تو ایک مذہبی فرقے کے تعلق کا اظہار ہے اس سے اجتعمائی معاشرہ کس طرح فیضیاب ہوگا؟ ہر معاشرے میں کہیں مذہاب کے لوگ رہتے ہیں۔
دوسرا سوال یہ کہ معاشرے کے سارے انسانوں کی ضرورتیں ایک جیسی ہیں۔ سارے لوگوں کی ضرورتیں روٹی، کپڑا، مکان، علاج، تعلیم، روزگار، جان و مال کا تحفظ، انصاف، عزت نفس، اجتماعی آزادی اور شخصی آزادی، سب ایک ہیں۔ جنوب سے شمال اور مغرب سے مشرق اس قرح ارض پر سارے انسانوں کی ضرورت ایک ہے۔
فرق کیا ہے؟ کوئی اللہ کو مانتا ہے کوئی خدا کو، کوئی بھگوان کو۔ کوئی مسجد میں جاتا ہے، کوئی مندر یا چرچ میں، کوئی گلب یا بار میں جاتا ہے۔ کوئی روٹی زیادہ اور چاول کم کھاتا، کوئی الکولک ڈرنک زیادہ پیتا ہے اور کوئی خالص پانی۔ ان چیزوں کا تعلق فرد کی انفرادیت سے ہے۔ یہ قانون فطرت ہے کہ ہر چیز مختلف بھی ہے اور ہر چیز متحد بھی اور ان کی ضرورتوں میں اشتراک بھی ۔
آپ جو تحریک چلا رہے ہیں وہ انسان کے انفرادی تعلق کو اجتماعی تعلق کے ساتھ تصادم کے راستے پر ڈالکر پرانی قباہلی رویات کے حصول کی کوشش کرتے نظر آ تی ہے۔ اور اس سے معاشرہ تصواراتی دنیا میں رہنے کی کوشش کریگا جس کا نتجہ انارکی کے سوائے کچھ نہیں۔ اگر اللہ لکھنے سے لوگوں کے روٹی، کپڑا، مگان، انصاف، روزگار، علاج اور تعلیم کا مسلہ حل ہو تو میں لکھنے کے لیے تیار ہوں۔ لیکن آپ، میں اور اس گروپ کے سارے ممبران بھی جانتے ہیں کے اللہ لکھنے سے ایک بھی مسلہ حل نہیں ہوگا۔ ان مساہل کا تعلق روھانیت یا تصورات سے نہیں بلکہ حقیقی ہے جن کو ہر شخص خود اپنے حواس خمسہ کے ذریعے بغیر کسی پیر کے تصدیق کرسکتا ہے۔ ان کا حل ساہنسی طریقے اور ساہنسی فکر کا تکازہ کرتا ہے مذہبی فرقہ پرستی کا نہین۔
No comments:
Post a Comment