کیا سعوی عوام کی قسمت میں اگر وہ شراب پینہ اور جوا کھیلنا چاہتے ہیں تو ان
کےلیے پیرس، لندن اور نیویارک کے بار اور کیسنو ہی لکھ دیے گیے ہیں؟
کیا یہ پیسہ وہ اپنے ملک میں خرچ کریں تو حرام ہوجاتا ہے؟
تعلیمات
رسول اللہ کی دھجیاں اُڑادی گئیں؟
کون
سی تعلیممات رسول اللہ کی بات کی جارہی ہے؟ کیا یہ حنبلی اسلام کی بات کی جارہی ہے
جنہوں نے نام نہاد حدیثوں کے ذریعے
قران کو منسوخ /تبدہل کرنے کی تھیوری متعارف
کرائی تھی یا کوئی نیا پاکستانی یا انڈین پغمبر آیا ہو تو اس کی تعلیمات کی بات ہو
رہی
ہے؟ یا یہ کوئی دہشت گردوں کا پغمبر ہو؟
جوے
پر اسلام میں کبھی بھی پابندی نہیں لگی اور نہ ہی جوئے اور شراب پر قران نے کوئی
قانون یا اس کی سزا تجویز کی ہے۔ شراب پر
پابندی عباسی خلیفہ متوکل کے دور میں
لگی۔ اس وقت سے حنبلی اسلام کا غلبہ اسلامی معاشرے پر شروع ہوا ہے۔ امام احمد بن حنبل اس
کے سرخیل ہیں۔ امام بخاری ان کے شاگرد تھے۔ حنبلی دور میں نبی کے صاف حکم کے
باوجود نبی اور صحابہ کے نام سے جو کہانیاں گھڑنی شروع ہوئی جس سے اسلام کو
کرسچن اور جیوش عقیدے کے رنگ میں رنگنا شروع کیا گیا تھا آج تک وہی ہے۔ اس لیے آپ جو نبی کی تعلعمات کو
سیاسی مقاصد کے لیے نعرے لگا رہے ہیں کوئی نئی بات نہیں۔ نبی کی اولاد کو قتل کرنے
والے بھی نبی کے نام کو استعمال کررہے تھے۔
کیا
سعودی عرب کے لوگ شراب نہیں پیتے یا جوا نہیں کھلتے؟ اگر وہ اپنے پیسے پیرس، لندن
یا نیویارک کے کیسنوں اور شراب خانوں میں خرچ کرتے ہیں تو وہی پیسے اپنے ملک میں
نہ خرچ کریں جہاں ان کی اپنی معیشت بہتر ہو؟ کیا کسینو کھلنے کے بعد لوگ نہیں آیے؟
اگر آیے ہیں تو اس کا مطلب کے وہ جوا کھلتے تھے۔ لوگ کیسنو میں جوا اور بار میں
شراب پینے نہیں جاہنگے تو وہ خود بخود بند ہو جاہنگے۔ لیکن اسلام کی روح فرد کی
آزادی، اس کے چنے کااختیار اور فکر کی آزادی بنیاد ہے۔ ایک فرد کی سوچ کو
دوسرے کے بنیادی
حق پر ملسط نہیں کیا جاسکتا۔
آج کے دور میں ٹورازم کسی بھی ملک کی معیشت کی ریڈ کی ہڈی ہے۔ اگر آپ فرد کی آزادی کو قرون وسطی کی طرح سلب کرینگے تو دنیا کے دوسرے حصوں سے لوگ کیوں آینگے جہاں نہ شراب کی اجازت ہو نہ کلب و کیسنوں ۔ آپ جن تعلیمات کی بات کررہے ہیں وہ اسلام کا مسخ شدہ چہرہ حنبلی تعبیر و تشریع ہے جس کا نہ نبی کے اسلام سے، نہ قران سے اور نہ حنفی تعبیر و تشریع ہے۔
میں
نے ان لوگوں کے جواب میں لکھا ہے جو شراب پینے، جوا کھیلنے اور زانیوں کو
سیاست سے باہر کرنا چاہتے ہیں جو مندرجہ ذیل ہے:
کیا
ایک شخص جو شراب پیتا ہے، جوا کھیلتا ہے اور زانی ہے وہ اسلامی معاشرے میں جرم کا
ارتکاب کررہا ہے ؟ پاکستان اور سعودی عرب میں یہ جرم ہے۔ اس لیے کہ پاکستان اور
سعودی عرب کے قانون میں اس کو جرم تسلیم کیا گیا ہے۔ کیا یو اے ای، مصر اور ترکی میں یہ جرم ہے؟ ان تینوں ملکوں جہاں لوگوں کی اکثریت سنی عقیدہ ہے یہ جرم نہیں ہے۔ آج کے اسلامی معاشرتی اخلاقیات کی یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے جس سے کوئی بھی مسلمان انکار نہیں کرسکتا۔
اب
دیکھتے ہیں اصل اسلام جو نبی کا اسلام اور قران کیا کہتا ہے؟ شراب اور جوا فرد کا اختیاری فعل ہے۔ وہ چاہے تو پیے اور کھیلے
اور چاہے تو نہ پیے اور نہ
کھیلے۔ قران نے جہاں شراب کو جویے کے ساتھ کلب کیا وہاں شراب کی مذمت کی اور جہاں
شراب کو خوراک کے ساتھ کلب کیا وہاں قران شراب کی تعریف کررہاہے۔ شراب اور جوے کو نہ
اسلام اورنہ قران نے جرم قرار دیا اور نہ کوئی سزا مقرر کی ہے۔ اور نہ ہی
شراب اور جوا اسلامی خلافت کی سرزمین پر خلیفہ متوکل کے دور تک بند ہوا یا پابندی لگی۔ میں حیران ہوں کہ
مسلمانوں کو کتنے بونڈے انداز میں تاریخی طور پر گمراہ کیا گیا ہے۔ جو شراب مکہ اور
مدینے میں پی جاتی تھی اور جس نام سے پکاری جاتی تھی اس کا نام ہی قران میں نہیں
ہے۔ مکہ اور مدینہ میں پی جانے والی شراب کجھور سے بنتی تھی۔ اس کو نابہادہ کہتے
تھے۔ حضرت عمر پر جب ابو لولو نے مسجد نبوی میں حملہ کیا۔ حملے میں حضرت عمر کے
ساتھ ۱۳ لوگ زخمی ہویے جن میں سے حضرت عمر کے ساتھ چھ افراد وفات پا گے تھے۔ حضرت
عمر کو مسجد سے اٹھاکر گھر لے جایا گیا تھا ۔ گھر میں سب سے پہلے حضرت عمر کو پینے کے
لیے نابہادہ دیا لیکن وہ حضرت عمر کے زخموں سے باہر آنا شروع ہوگیا۔ اس کے بعد
دودھ دیا گیا اور وہ بھی زخموں سے باہر آنا شروع ہوگیا تھا۔ سوال یہ ہے اگر شراب کو
ناپسند کیا جاتا تھا تو کیا یہ ممکن تھا کہ صحابہ اور حضرت عمر کی فیملی، خلیفہ کو موت سے پہلے
صحت یاب ہونے کیلے دودھ کے ساتھ شراب بھی دے سکتے تھے؟ جناب نہ صرف شراب پینہ حرام
جو شریعت میں لا مکسم ہے، تو دور کی بات ہے برا بھی نہیں سمجھا جاتا تھا۔ شراب کی
حمایت اور مخالفت میں جیورسٹ کے درمیان سو سال سے دو سو سال بعد میں بحث میں ملتی ہے۔
امام ابو یوسف اور امام شافعی کے درمیان بحث موجود ہے۔ شافعی حرام قرار دینے کی حمایت
میں تھے تو ابو یوسف نے سوال کیا کہ کیا آپ کا مطلب ہے کہ شراب پینے والا شخص
اسلام سے خارج ہو جایگا؟ اس کے جواب میں شافعی نے کہا کہ خارج تو نہیں ہوگا مگر فاسک و
فاجر ہو سکتاہے۔ ابو یوسف نے کہا کہ قران کے اصول کو کس طرح با ئی پاس کیا جاے؟ امام
شافعی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ قران کا اصول یہ تھا کہ اگر کوئی چیز معاشرے میں
عام ہوتو اس کو حرام قرار دینے کےلیے قران میں واضح حکم ہونا چاہے۔
شراب پر پاپندی خلیفہ متوکل کے دور میں حنبلی جیورسٹ نے گریک فلسفے کو بنیاد بناکر لگائی تھی۔ جس قران کی آیات کو استعمال کیا گیا ہے، اس کے مطابق اس میں نفع بھی ہے اور نقصان بھی مگر نقصان زیادہ ہے۔ لفظ نفع کے مدے مقابل لفظ آثم استعمال ہواہے۔ آثم کا مطلب "نقصان" کے بجاے " گناہ" قرار دیکر گریک فلسفے کی طرف لیجایا گیا تھا۔ گریک فلسفے syllogism سے اصول لیا گیا، یعنی: سارے انسان فانی ہیں۔ عبداللہ ایک انسان ہے۔ اس لیے عبداللہ فانی ہے۔ اسی طرح آثم کو گنا قرار دیا پھر قران کے اس اصول کو اپلائی کیا کہ سارے گنا حرام ہیں۔ شراب گناہ ے۔ اس لیے شراب حرام ہے۔ جبکہ قران منافے کے مد مقابل آثم کو استعمال کررہا ہے جس طرح روشنی کا مد مقابل اندھیرہ ،سچ کا جھوٹ۔ تو آثم کا مطلب تو نقصان یا خسارہ ہوسکتا ہے۔ گنا کبھی بھی نہیں ہوسکتا۔ مولویوں کا قران کی غلط تعبیر و تشریع کی پوری ایک تاریخ ہے۔ ڈاکٹر اقبال۔ جمال الدیں افغانی، محمد عبدو نے اس پر شدید تنقید کی ہے۔ لوگوں کو بہت کم علم ہے کہ اسلام کی تعبیر و تشریع گریک فلسفے کے ذریعے کی گئی۔ گریک فلسفہ سٹکک ازم کا بہت بڑا رنگ اسلام پر ہے۔
زانی ایک ایسا الزام ہےجو دو افراد کے درمیان ماہدے
کے بعد وجود پزیر ہوتا ہے۔ اس الزام کے ثبوت میں چار عینی شائد ہونا ضرور ہیں۔ اگر
الزام لگانے والا یا والی گواہ نہ پیش نہ کرسکے تو الزام لگانے والے کی سزا ۸۰
کوڑے ہے۔
لہذا
ان تینوں چیزوں کا معاشرے کی اجتماعی قدر مشترک جو کسی بھی معاشرے کی سیاست کی
بنیاد ہے، سے تعلق ، نہیں ہے۔ ہاں ان کے استعمال کے قوانین معاشر ے کی اجتماعی ذمداری
ہے۔ اس کے قونیں جو دوسرے لوگوں کے لیے کوئی مسلہ پیدا نہ کرتے ہوں۔ ہر چیز اچھی
بھی ہوتی ہے اور بری بھی۔ فروٹ اچھے ہیں لیکن اگر زیادہ کھایا جایں تو منفی اثر
بھی لاتے ہیں۔ اس لیے شراب اور جوے کے لیے قوانین بنانا تو سیاست کا سوال ہے لیکن
یہ کہ شراب پینے والا اور جوا کھیلنے والا اچھا یا برا سیاست دان ہوسکتا ہے بلکل
غلط اور معاشرے کی سانس سے نابلد شخص ہی ایسا سوچ سکتا ہے۔
No comments:
Post a Comment