
https://jang.com.pk/latest/320444-approx-leader-did-not-address-in-saudi-arabia-the-foreign-office
یہ غلام سیاسی نظام کی ایک عمدہ مثال ہے کہ ایک اجلاس جس کے شرکہ ریاست یا حکومت کے سربرہ کی سطح کے تھے اور وہ سنے کیلے اپنے اپنے عوام کے خرچے پر آیے تھے اور وہ وہاں پر بات بھی نہ کرسکے۔ میں اس کا قصوروار شرکہ کو قرار نہں دیتا بلکہ ان کے عوام کی جہالت کو دیتا ہوں۔
ہر ایک حکومت آپنے عوام کی نمائندہ ہوتی ہے۔ اس کا کام اپنے اپنے عوام کے مفادات کا تحفظ ہوتاہے۔ اس اجلاس میں ان کے عوام کے مفادات کا کیا تحفظ تھا؟ کیا وہاں پران کے عوام کے مفادات کی کوئی بات ہوئی؟ کیا یہ سارے امریکہ کے صدر کی تقریر سنے گئے تھے؟ وہ تو ہم نے بھی ٹی وی سکرین پر دیکھ لی۔ کیا اس سے یہ پتہ نہں چلتا کے مسلم عوام کی اکثریت جہالت کی پستی کو چھوں رہی ہے؟ کیا اس جہالت کا فاہدہ نہ صرف ان کے حکمران اٹھاتے ہیں بلکے استحصالی اور جرام پیشہ گروّ جن میں دہشت گرد اور منشیہات کی عالمی تجارت والے بھی شامل ہیں؟ کیا ان ممالک کے عوام کو جہالت کا سبب جانے اور اس سے نکالے بغیر کوئی بڑی تبدیلی ممکن ہے؟
میری راے کے مطابق مسلم عوام میں آج کے وقت کے تناسب سے دیکھا جائے تو جہالت کا آغاز بچے کا مسلم گھر میں پیداش سے شروع ہوتا ہے جہاں بچے کے ماں باُپ اور رشتےدار اس کو مکمل طور پر آپنے عقیدے کے رنگ میں رنگنا چاہتے ہیں اور بچہ اپنی فطری نشوں نما اور نے ماحول کے فطری توازن کو کھونے لگتا ہے۔ اس عمل میں بڑوتی مزید ابتدائی تعلیم سے ہوتی ہے جہاں بچے کی فطری نشونما کو عقیدے کی قید کی سڑک پر ڈال دیاجاتا ہے۔ عقیدے کی سڑک بچے کی فکری آزادی جو فطری ہے، سے متصادم ، بڑے قید خانے کو جاتی ہے جس کا دروازہ اس دنیا میں نہں کھلتا اور نہ ہی اس کی کبھی انسنانی ذریعے سے تصدیق ہوسکتی ہے۔
اس کی ایک صاف جھلک ہر اس شخص کو نظر آیئگی جو مسجدوں اور مذہبی اجتمات میں مذہبی رانماہوں کی تقریروں کو غور سے سنتا ہو، ان کی تحریروں کوغور سے پڑتا ہو۔ جن چیزوں پر مذہبی رانماہوں کا زور ہوتا ہے اور بچے کے ماں باپ اور رشتہ داروں کا بھی آڈیل ٹھرتا ہے، وہ بچے کا عقیدے کے رنگ میں رنگنا۔ یہی معیار ان کے نزدیک اچھائی اور برائی کا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس اچھا ئی اور برائی کا تعین چودہ سو سال پہلے ہو گیا تھا۔ اسی لیے آج عقیدے کی بنیاد پر بے گنا لوگوں کو قتل کرنا، آپنے سیاسی اور مذہہی نظریات کیلے بچوں، عورتوں اور مردوں کو قتل کرنے کلیے خودکش حملہ بھی اچھائی میں آتا ہے۔ فرق ان کے نزدیک صرف اتنا ہکہ جب ان کے آپنے اس کا شکار ہوتے ہیں تو ان کو دکھ ہوتا ہے لیکن جب اس کا شکار ان کا مخالف ہوتا ہے تو ان کو خوشی ہوتی ہے۔
مذبہی رنما فکری آزادی سے دستبرداری کا درس دیتے ہیں، اللہ اور رسول کی غلامی قبول کرنے، اپنی سوچ اور عمل کو قران اور سنت کے تابعے اور ایسا نہ کرنے کی وجہ سارے مسائل کی جڑ کرار دیتے ہیں۔ ان کو نہ بے روزگاری کی فکر ہے،نہ عوام کی روز مرہ کی ضرورتوں ، روٹی۔ کپڑا۔ مکان، نہ عدم مساوات، نہ بڑھتے ہوے جرام، نہ معاشرتی جبر، نہ کمزورں مذہبی اقلیتوں، پچوں اور عورتوں کے حقوق کی۔ ان کو ایک چیز کھائی جاری ہے ، اللہ ، رسول اور قران و سنت کی غلامی۔
جس عقیدے کی بنیاد غلامی پر رکھ دی جاے تو اس سے انسانیت کی بھلائی کیسے ممکن ہو سکتی۔ ریاض میں اجتماح غلاموں کا تھا۔ غلامی پک اور چوز کی سڑک سے نہیں گزرتی بلکے اللہ ، رسول، قران اور سنت کے خود اختیار قیدخانے کا نام ہے جس کی چابی امریکہ نے سعودٰی ملاہوں اور وہاں کے حکمرانوں کو دی ہوئی ہے۔
آزاد قومیں جو اپنے معاشرے میں ہر بچے کی پہداش سے پہلے اس کی فکری، جسمانی،معاشی اور سماجی آزادی کے حق کو یقینی بناتی ہیں اور آپنے عوام کے ان حقوق کلیے جنگ تک کی حد کو جانے سے بھی گریز نہیں کرتی۔ وہ اپنے بچوں کو غلامی کے لفظ سے بھی نفرت سکھاتے ہیں۔ ایسے معاشروں میں لوگوں کی گردنے کاٹ کر اور ان کی لاشوں کو عام شاراعوں پر لٹکا کر نہ خوف زادہ کیا جاسکتا ہے اور نہ غلام بنایاجاسکتا ہے۔ ایسے معاشروں میں لوگ اپنی آزادی کلیے خون کے دریا بہا دیتے ہیں۔ یہ صرف آج کے مسلم معاشروں میں ممکن ہے جہاں بچے کو پداہشی طور پر غلامی کے راستے پر ڈال دیا جاتا ہے۔ وہ غلامی اللہ، رسول، قران و سنت، کعبہ، امریکا، سعودی، فوج یا جابر ظبقات کا ہو، ایک ہی چیز ہے۔ لہذا اگر تیس سربران حکومت کو نہن بولے دیا تو وہ اس لیے کے ان کا کام سمینا و آتینا تھا۔
یہ غلام سیاسی نظام کی ایک عمدہ مثال ہے کہ ایک اجلاس جس کے شرکہ ریاست یا حکومت کے سربرہ کی سطح کے تھے اور وہ سنے کیلے اپنے اپنے عوام کے خرچے پر آیے تھے اور وہ وہاں پر بات بھی نہ کرسکے۔ میں اس کا قصوروار شرکہ کو قرار نہں دیتا بلکہ ان کے عوام کی جہالت کو دیتا ہوں۔
ہر ایک حکومت آپنے عوام کی نمائندہ ہوتی ہے۔ اس کا کام اپنے اپنے عوام کے مفادات کا تحفظ ہوتاہے۔ اس اجلاس میں ان کے عوام کے مفادات کا کیا تحفظ تھا؟ کیا وہاں پران کے عوام کے مفادات کی کوئی بات ہوئی؟ کیا یہ سارے امریکہ کے صدر کی تقریر سنے گئے تھے؟ وہ تو ہم نے بھی ٹی وی سکرین پر دیکھ لی۔ کیا اس سے یہ پتہ نہں چلتا کے مسلم عوام کی اکثریت جہالت کی پستی کو چھوں رہی ہے؟ کیا اس جہالت کا فاہدہ نہ صرف ان کے حکمران اٹھاتے ہیں بلکے استحصالی اور جرام پیشہ گروّ جن میں دہشت گرد اور منشیہات کی عالمی تجارت والے بھی شامل ہیں؟ کیا ان ممالک کے عوام کو جہالت کا سبب جانے اور اس سے نکالے بغیر کوئی بڑی تبدیلی ممکن ہے؟
میری راے کے مطابق مسلم عوام میں آج کے وقت کے تناسب سے دیکھا جائے تو جہالت کا آغاز بچے کا مسلم گھر میں پیداش سے شروع ہوتا ہے جہاں بچے کے ماں باُپ اور رشتےدار اس کو مکمل طور پر آپنے عقیدے کے رنگ میں رنگنا چاہتے ہیں اور بچہ اپنی فطری نشوں نما اور نے ماحول کے فطری توازن کو کھونے لگتا ہے۔ اس عمل میں بڑوتی مزید ابتدائی تعلیم سے ہوتی ہے جہاں بچے کی فطری نشونما کو عقیدے کی قید کی سڑک پر ڈال دیاجاتا ہے۔ عقیدے کی سڑک بچے کی فکری آزادی جو فطری ہے، سے متصادم ، بڑے قید خانے کو جاتی ہے جس کا دروازہ اس دنیا میں نہں کھلتا اور نہ ہی اس کی کبھی انسنانی ذریعے سے تصدیق ہوسکتی ہے۔
اس کی ایک صاف جھلک ہر اس شخص کو نظر آیئگی جو مسجدوں اور مذہبی اجتمات میں مذہبی رانماہوں کی تقریروں کو غور سے سنتا ہو، ان کی تحریروں کوغور سے پڑتا ہو۔ جن چیزوں پر مذہبی رانماہوں کا زور ہوتا ہے اور بچے کے ماں باپ اور رشتہ داروں کا بھی آڈیل ٹھرتا ہے، وہ بچے کا عقیدے کے رنگ میں رنگنا۔ یہی معیار ان کے نزدیک اچھائی اور برائی کا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس اچھا ئی اور برائی کا تعین چودہ سو سال پہلے ہو گیا تھا۔ اسی لیے آج عقیدے کی بنیاد پر بے گنا لوگوں کو قتل کرنا، آپنے سیاسی اور مذہہی نظریات کیلے بچوں، عورتوں اور مردوں کو قتل کرنے کلیے خودکش حملہ بھی اچھائی میں آتا ہے۔ فرق ان کے نزدیک صرف اتنا ہکہ جب ان کے آپنے اس کا شکار ہوتے ہیں تو ان کو دکھ ہوتا ہے لیکن جب اس کا شکار ان کا مخالف ہوتا ہے تو ان کو خوشی ہوتی ہے۔
مذبہی رنما فکری آزادی سے دستبرداری کا درس دیتے ہیں، اللہ اور رسول کی غلامی قبول کرنے، اپنی سوچ اور عمل کو قران اور سنت کے تابعے اور ایسا نہ کرنے کی وجہ سارے مسائل کی جڑ کرار دیتے ہیں۔ ان کو نہ بے روزگاری کی فکر ہے،نہ عوام کی روز مرہ کی ضرورتوں ، روٹی۔ کپڑا۔ مکان، نہ عدم مساوات، نہ بڑھتے ہوے جرام، نہ معاشرتی جبر، نہ کمزورں مذہبی اقلیتوں، پچوں اور عورتوں کے حقوق کی۔ ان کو ایک چیز کھائی جاری ہے ، اللہ ، رسول اور قران و سنت کی غلامی۔
جس عقیدے کی بنیاد غلامی پر رکھ دی جاے تو اس سے انسانیت کی بھلائی کیسے ممکن ہو سکتی۔ ریاض میں اجتماح غلاموں کا تھا۔ غلامی پک اور چوز کی سڑک سے نہیں گزرتی بلکے اللہ ، رسول، قران اور سنت کے خود اختیار قیدخانے کا نام ہے جس کی چابی امریکہ نے سعودٰی ملاہوں اور وہاں کے حکمرانوں کو دی ہوئی ہے۔
آزاد قومیں جو اپنے معاشرے میں ہر بچے کی پہداش سے پہلے اس کی فکری، جسمانی،معاشی اور سماجی آزادی کے حق کو یقینی بناتی ہیں اور آپنے عوام کے ان حقوق کلیے جنگ تک کی حد کو جانے سے بھی گریز نہیں کرتی۔ وہ اپنے بچوں کو غلامی کے لفظ سے بھی نفرت سکھاتے ہیں۔ ایسے معاشروں میں لوگوں کی گردنے کاٹ کر اور ان کی لاشوں کو عام شاراعوں پر لٹکا کر نہ خوف زادہ کیا جاسکتا ہے اور نہ غلام بنایاجاسکتا ہے۔ ایسے معاشروں میں لوگ اپنی آزادی کلیے خون کے دریا بہا دیتے ہیں۔ یہ صرف آج کے مسلم معاشروں میں ممکن ہے جہاں بچے کو پداہشی طور پر غلامی کے راستے پر ڈال دیا جاتا ہے۔ وہ غلامی اللہ، رسول، قران و سنت، کعبہ، امریکا، سعودی، فوج یا جابر ظبقات کا ہو، ایک ہی چیز ہے۔ لہذا اگر تیس سربران حکومت کو نہن بولے دیا تو وہ اس لیے کے ان کا کام سمینا و آتینا تھا۔
No comments:
Post a Comment