Monday, May 1, 2017

کشمیری عوام سنگین اور بد ترین دور سے گذر رہے ہیں ہندوستان کو پاکستان اور کشمیری نمائندوں کے ساتھ بات کرنی ہوگی:ڈاکٹر کمال

30 اپريل 2017
سرینگرریاست جموں وکشمیر کے لوگ ایک مشکل ترین اور سنگین دور سے گزر رہی ہے عوام خاص کر وادی اور خطہ چناب کے لوگ ایک طرف سیاسی بحران اور انتشار اور خلفشار سے گزر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب وادی کا عوام مسلسل ڈھائی سالوں سے موجودہ کشمیر دشمن سرکار دور میں بدترین اقتصادی اور معاشی بحران کے شکار ہے ۔ لوگ بے کار ہو گئے ہیں تعمیر و ترقی کا نام ونشان ہی نہیں ہماری نوجوان پود خصوصاً قوم مصتقبل کے معماروں کا مستقبل تاریک بنایاجارہا ہے کوئی پر سان حال نہیں لوگوں کو ایک فوجی چھاونی میںدکھیل دیا گیا ہے ہر طرف فورسز کا دہشت اور خوف وہراس چھیا ہوا ہے جس کی وجہ سے عام کشمیری مال وجان کے عدم تحفظ کے شکار ہو گئے ہیں ان باتوں کا اظہار پارٹی کے معاون جنرل سیکریٹری اور سابق وزیر ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال نے الیکٹرانک میڈیا سے موجودہ حالت پر اپنا مؤقف ظاہر کر تے کہا ۔ انہوں نے کہا ہندوستان کے ساتھ مہاراجہ ہرسنگھ نے مشروط الحاق دفعہ 370 کے تحت کیا گیا تھا لیکن بدقسمتی سے مرکزی سرکاروں نے اس دفعہ جو ہندوستان کے سب سے بڑے ایوان لوک سبھا میں تائید ہوئی ہے بے کنی کرتے رہے اور ریاست میں 1947 کے بعد کٹپتلی حکومتوں کے ذریع اس دفعہ کی دھجیاں اڑا دی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ بدقستمی سے اگر مرکزی موجودہ اور گزشتہ حکومتوں نے اہل کشمیر کے ساتھ وعدہ خلافی اور اپنے طرز و تحریرسے انحراف نہ ہوتے تو آج ریاست میں ناگفتہ اور نامساعد حالات برپا نہ ہوتے ۔ ابھی بھی وقت ہے کہ مرکزی قیادت ریاست کے لوگوں کے ساتھ جو وعدے کئے گئے ہیں اور یہ وعدے دفعہ370 ، 1952 کی پوزیشن اور دہلی ایگریمنٹ کے تحت کئے گئے ہیں ان کو بحال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ریاست میں امن و امان لوٹ آسکے اس کے لئے سب سے بڑی بات یہ ہے کہ مرکز ی سرکار فی الفور مسئلہ کشمیر کے پُر امن حل کے لئے پاکستان سے بات چیت شروع کریں تاکہ ریاست میں سازگار ماحول قائم ہو سکے اس کے ساتھ ساتھ ہندوستان کو کسی بھی صورت میں پاکستان کے ساتھ ساتھ ریاست کے تمام طبقوں کے ساتھ بات چیت کرنی ہی ہوگی ۔ کیونکہ آخر کار کشمیری عوام ہی اس سر زمین کے مالک ہے اور وہی ریاست کا فیصلہ کرنے کا حق رکھتے ہیں ۔

No comments: