Tuesday, May 2, 2017

عسکریت پسندوں کی فائرنگ- 5پولیس اہلکاراور 2بنک ملازمین جاں بحق- جنگجو 5سپاہیوں کا اسلحہ اور گاڑی میں موجود لاکھوں کی رقم اُڑا کر فرار کولگام میں کہرام ، اعلیٰ پولیس اور فورسز حکام جائے واردات پر ،وسیع علاقے کی ناکہ بندی اور تلاشی مہم۔

(روزنامہ آفتاب سرینگر کشمیر مہی ٢٠١٧)
جنوبی کشمیرکے پم بائی کولگام میں عسکریت پسندوں نے جموںوکشمیر بینک کی کیش گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 5پولیس اہلکاراور 2بینک ملازمین سمیت 7افراد موقعے پر ہی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ معلوم ہوا ہے کہ بندوق برداروں نے پولیس اہلکاروں کا اسلحہ اور گاڑی میں موجود لاکھوں روپیہ لوٹ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ۔ ملی ٹینٹ حملے کے بعد پولیس وفورسز کی بھاری جمعیت نے پم بائی کولگام گائوں کو محاصرے میں لے کر بندوق برداروں کی تلاش شروع کردی۔ ڈی آئی جی جنوبی کشمیر نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ عسکریت پسندوں کے ایک گروپ نے جموںوکشمیر بینک کیش گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 5پولیس اہلکار اور دو بینک ملازم پرائیویٹ گارڈ موقعے پر ہی ہلاک ہوئے۔انہوںنے کہاکہ حملے میں ملوث بندوق برداروں کو کسی بھی صورت میں بخشا نہیں جائے گا۔ دریں اثنا حزب المجاہدین نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہاکہ پولیس اہلکاروں کا اسلحہ بھی لوٹ کر جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ۔ جنوبی کشمیر کے پم بائی کولگام میں اُس وقت سنسنی اور خوف ودہشت کا ماحول پھیل گیا جب دمہال ہانجی پورہ سے آرہی جموںوکشمیر بینک کی کیش گاڑی کو عسکریت پسندوں کے ایک گروپ نے پم بائی شاہراہ کے نزدیک روک کر اُس پر ò فائرنگ کی ۔ نمائندے کے مطابق بندوق برداروں نے پولیس اہلکاروں کو سنبھلنے کا موقعے ہی فراہم نہیں کیا،فائرنگ کے بعد گاڑی میں موجود پانچ پولیس اہلکار اوردو بینک ملازم ہلاک ہوئے ۔ معلوم ہوا ہے کہ بندوق برداروں نے پانچ پولیس اہلکاروں کی رائفلیں ، میگزین اور گاڑی میں موجود کیش کو لوٹ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ۔ ذرائع نے بتایا کہ جنگجوئوں کی جانب سے جموں وکشمیر بینک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کرنے کے دوران لوگ محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے ۔ نمائندے کے مطابق پم بائی کولگام میں حملے کے بعد پولیس اور سی آر پی ایف کے اعلیٰ آفیسران جائے موقع پر پہنچ گئے اور زخمی اہلکاروں کو فوری طورپر نزدیکی اسپتال منتقل کیا تاہم ڈاکٹروں نے پانچ پولیس اہلکاروں اور دو بینک ملازم کو مردہ قرار دیا ۔پولیس ذرائع نے حملے میں مارے گئے افراد کی شناخت اسٹنٹ سب انسپکٹر بشیر احمد ، کانسٹیبل فاروق احمد ، کانسٹیبل محمد قاسم ، کانسٹیبل مظفر احمد اور کانسٹیبل اشفاق احمد کے بطور کی ہے جبکہ دو بینک ملازمین کی شناخت مظفر احمد لاوے اور جاوید احمد ڈار کے بطور ہوئی ہے۔ نمائندے کے مطابق پولیس وفورسز کی بھاری جمعیت نے پم بائی کولگام اور اُس کے ملحقہ علاقوں کو محاصرے میں لے کر گھر گھر تلاشی کارروائی شروع کی تاہم ذرائع نے بتایا کہ جدید اسلحہ سے لیس عسکریت پسند فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ۔ مقامی ذرائع کے مطابق پم بائی کولگام میںجموںوکشمیر پولیس اہلکاروں پر حملے کے بعد آس پاس علاقوں کو سیل کرکے فرار ہونے کے راستوں پر پہرے بٹھا دئے گئے اس دوران راہ چلتے افراد کی باریک بینی سے تلاشی لی گئی اور اُن کے شناختی کارڈ چیک کئے گئے ۔ مقامی ذرائع نے مزید بتایا کہ جنگجوئوں کو تلاش کرنے کیلئے کولگام کے مختلف علاقوں میں پولیس وفورسز نے پہرے بٹھا دئے ہیں اور مشتبہ افراد پر کڑی نظر گزر رکھی جار ہی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ کولگام میں پولیس اہلکاروں پر حملے کے بعد جنوبی کشمیر میں پولیس وفورسز کو متحرک کیا گیا ہے جگہ جگہ پر پولیس و فورسز کو تعینات کرکے ہر آنے جانے والے کی تلاشی لی جار ہی ہے۔ ڈی آئی جی جنوبی کشمیر ایس پی پانی نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ سہ پہر کے بعد پم بائی کولگام کے نزدیک جدید اسلحہ سے لیس عسکریت پسندوں کے ایک گروپ نے جموںوکشمیر بینک کی کیش گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی ۔ ڈی آئی جی کے مطابق حملے میں پانچ پولیس اہلکار اور ایک عام شہری شدید طورپر زخمی ہوئے اگر چہ انہیں فوری طورپر نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا تاہم ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا ۔ ڈی آئی جی کے مطابق حملے میں ملوث عسکریت پسندوں کی بڑے پیمانے پر تلاش شروع کی گئی ہے اور جو کوئی بھی حملے کرنے میں ملوث ہوگا اسے بخشا نہیں جائے گا۔ ڈی آئی جی کے مطابق کولگام حملے کے بعد جنوبی کشمیر میں پولیس وفورسز کو متحرک کیا گیا ہے اور جگہ جگہ پر خصوصی دستے تعینات کئے گئے ۔ ادھر ڈی آئی جی جنوبی کشمیر سمیت پولیس کے سینئر آفیسران کولگام پولیس کنٹرول پہنچے اور وہاں پر مارے گئے پانچ پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت ادا کیا گیا اور اُن کے تربتوں پر پھول چڑھائے گئے ۔ معلوم ہواہے کہ پم بائی کولگام میں عسکری حملے کے بعد پولیس ، سی آر پی ایف اور فوج کے سینئر آفیسران کی ایک ہنگامی میٹنگ جنوبی کشمیر میں منعقد ہوئی جس دوران سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ۔معلوم ہوا ہے کہ میٹنگ کے دوران جنوبی کشمیر میں سرگرم عسکریت پسندوں کے بارے میں مکمل تفصیلات فراہم کرنے کے احکامات صادر کئے گئے جبکہ جنگجوئوں کی اعانت کرنے والوں پر بھی خصوصی نظر گزر رکھنے کے ضمن میں پولیس کو آگاہ کیا گیا ہے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جنوبی کشمیر کے کولگام ، شوپیاں اور پلوامہ اضلاع میں جنگجوئوں کے حملوں کو ناکام بنانے کیلئے پولیس وفورسز کو چوبیس گھنٹے متحرک رہنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں جبکہ اسلحہ کے بغیر پولیس اہلکاروں کو باہر نہ جانے کی صلاح دی گئی ۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ عسکریت پسندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی عمل میں لانے پر بھی میٹنگ کے دوران غور ہوا ۔ معلوم ہوا ہے کہ ڈی آئی جی جنوبی کشمیر ایس پی پانی کی سربراہی میں ہوئی میٹنگ میں جنوبی کشمیر میں تعینات تمام ایس ایس پی ایز نے شرکت کی اور چار اضلاع میں تازہ ترین صورتحال کے بارے میں ڈی آئی جی کو مکمل جانکاری فراہم کی گئی ۔ ذرائع نے بتایا کہ جنوبی کشمیر میں پچھلے دو ہفتے سے عسکری حملوں میں آئی تیزی کے باعث سیاسی پارٹیوں کے ورکر اور لیڈران میں فکر و تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ متعدد لیڈران نے جنوبی کشمیر سے بھاگ کر دوسرے اضلاع میں رہائش اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ دریں اثنا حزب المجاہدین کے آپریشنل ترجمان برہان الدین نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہاکہ جنگجوئوں نے پولیس اہلکاروں کا اسلحہ بھی لوٹ لیا ۔ ادھر جونہی بینک ملازمین کی نعشیں جب اُن کے آبائی گھر پہنچائی گئی تو وہاں کہرام مچ گیا ، خواتین سینہ کوبی کرنے لگیں اور بعد میں اُن کو پُر نم آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا ۔

No comments: