Sunday, February 23, 2014

Why criticisim only on Islam? by Arshad Mahmood


صرف اسلام پر تنقید کیوں؟
جون جوں ہمارے ہاں مذہبی انتہا پسندی بڑھی ہے، سوشل میڈیا میں اسلام پر تنقید بھی بہت ہورہی ہے۔۔اکثر اسلامسٹ یہ سوال اٹھاتے ہیں۔ کہ اسلام پر تنقید کیوں۔۔یا صرف اسلام کے خلاف ہی کیوں لکھا جاتا ہے۔ میرے خیال میں اس سوال کا جواب ڈھونڈنا بہت ضروری ہے۔اگر اسے پاکستانی تناظر میں لیں، تو پاکستان میں دوسرے مذاہب عیسائیت، ہندو وغیرہ نہائت معمولی تعداد میں ہیں۔۔اور ان کو پہلے سے ہی دیوار کے ساتھ لگا دیا ہوا ہے۔۔وہ چھوٹی سی اقلیتیں ہیں جو پرامن ہیں۔۔ چنانچہ کوئی دوسرا مذہب پاکستان کے لئے مصیبت کا باعث نہیں ہے۔۔جب کہ ہمارے ہاں اسلامی انتہاپسندی، اسلامی بنیاد پرستی، اسلام اور شریعت کے نام پر دہشت گردی، سیاسی ملائیت، اور فرقہ وارنہ عدم برداشت نے قوم کا سکون اور ملک کا امن لوٹا ہوا ہے۔ چنانچہ تنقید یا مخالفت اسی مذہب کی ہونی تھی۔ عالمی سطح پر اسلام پر تنقید کیوں ہوتی ہے۔آج دنیا میں کوئی بھی مذہب اپنے عالمی 'غلبہ' کا دعویدار نہیں۔سوائے اسلام کے۔ دنیا کا کوئی مزہب سیاسی ہونے، ضاطہ حیات ہونے، دنیا کے دوسرے مذاہب کو کافر کہتا ہو، یا ان کے خاتمے کی خواہش یا دعائیں کرتا ہو۔۔صرف اسلام اور مسلمان ہیں۔۔جو اس طرح کے ہیں۔ چنانچہ مسلم اکثریتی معاشروں میں بھی مسلمانوں نے خود ہی تفرقہ و تقسیم، جارحانہ مزاج کی وجہ سے اپنا سکون آپ برباد کرلیا ہے۔ اسی طرح دوسرے مذاہب والی جتنی بھی قومیں ہین۔ عام طور پر دور جدید کے اس مہذب اصول کو اپنا رکھا ہے۔ کہ مذہب شخص کا ذاتی مسئلہ ہے۔ یہ سماجی، سیاسی، ریاستی مسئلہ نہیں۔ کسی کو کسی پر مذہب کے نام پر دھونس جمانے کی اجازت نہیں۔۔وہاں تو کسی کا مذہب پوچھنا بھی اخلاقی اور سماجی لحاظ سے ناپسندیدہ فعل ہے۔ جب کہ ہم اگر سامنے والا مسلمان ہیے، تو سب سے پہلے اس کا اسلام ٹھیک کرتے ہیں۔۔یا پھر اس کو اسلام پر چلنے کی تاکید کئے بغیر رہ نہیں سکتے۔۔۔اور اگر سامنے والا کسی دوسرے مذہب کا ہے۔۔تو اس شریف آدمی کو مسلمان ہونے کی ترغیب دیئے بغیر رہ نہیں سکتے۔۔اعلانیہ دنیا مین اسلام کے غلبے کی بات کرتےہیں۔اور اس کے لئے سیاسی اور متشدد تحاریک بھی چلا رہے ہیں۔۔ دوسرے سب مذاہب کو باطل سمجھتے ہیں۔ اور ان کو کافر کہتے ہیں۔ اس لفظ میں دوسروں کے لئے نفرت اور گھٹیا ہونے کا واضح پہلو ہے۔ چنانچہ ایسی حالت میں اسلام پر تنقید ہی ہوگی۔ ہم مسلمان آپس میں تبھی امن اور سکون سے رہ سکتے ہیں۔ جب مذہب کو ذاتی اور شخصی قرار دے دیا جائے۔ اور ہر ایک کو اپنے عقیدے اور مذہب کے مطابق چلنے کی آزادی ہو۔ لیکن یہ اجازت نہ ہو۔۔کہ وہ اپنا دین یا عقیدہ دوسروں پر ٹھونسے۔ سماجی، سیاسی، قانونی، ریاستی معاملات زندگی اور زمانے کے تقاضوں کے مطابق گزارے جائیں۔ جب تک ہم مسلمان اسے تسلیم نہیں کرتے۔ نہ اسلام پر تنقید ختم ہوسکتی ہے، نہ مسلمانوں کو عالمی برادری میں عزت مل سکتی ہے۔نہ مسلمان آپس میں کبھی چین سے رہ سکتے ہیں۔ یا تو مسلمان اپنے لئے اور دیگر سارے عالم کے لئے پریشانی کا سبب بنے رہیں گے۔۔اور اپنی بربادی کی راہ پر چلتے رہیں گے۔۔یا پھر ان کو وقت کا دیا مہذب اصول سیکولرازم اپنانا ہوگا۔ جس کا ترجمہ 'لادینیت' کرکے ان کے مولویون نے صریح جھوٹ بولا ہوا ہے۔سیکولرازم کا مطلب ہے، سب کا اپنا اپنا دین۔۔اور سب قابل احترام۔ کسی کو کسی پر اپنے عقائد ٹھونسنے کی اجازت نہیں۔ورنہ اسلام دور جدید کے مقابل اور متصادم کھڑا رہے گا۔۔اور مسلمانوں کو امن سے زندہ رہنے کی راہ نصیب نہیں ہوگی۔


No comments: