Sunday, May 27, 2018

معاشرے کو سانئسی فکر و نظر سے دیکھے اور سمجھے بغیر ہر معاشرتی حل ایک یوٹوپیا ہی ثابت ہوتا ہے۔ افضل ظاہر


لو جی اللہ لکھ دیا اب آگے بولو؟ علم جانیں کو کہتے ہیں۔ عقیدے کی پرستش علم کے بغیر جاہلت کہلاتی ہے اسی لیے اسلام نے اپنے پیش رو معاشرے کو جاہل قرار دیا ہے۔ وہ بہت شدید عقیدہ پرست تھے۔ اسی طرے کعبہ کے گرد چکر لگاتے تھے، صفا مروہ کے درمیان دوڈ لگاتے تھے۔ اسی طرح حج اور عمرہ کرتے تھے مگر ان کی سوچ جمود کاشکار تھی۔ چیزوں کا سانئسی مشادہدہ نہیں کرتے تھے بلکہ پرستش کے نشے میں مست چیزوں کو دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔
سب سے پہلا سوال کعبہ کی تعمیر کے دوران پیدا ہوا کے ہجرے اسفد کعبہ کی دیوار میں کون لگاہیگا۔ ہر قبیلہ چاہتا تھا کہ اس کا ثواب وہ لے۔ پھر فصلہ ہوا کہ جو کل صبح پہلا شخص کعبے میں داخل ہوگا اس کو منصف بنالیتے ہیں۔ جو شخص داخل ہوا اس کا نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھا۔ جب ان کو فصلہ کرنا پڑا تو انہوں نے ایک چادرطلب کی۔ چادر پھیلا کر اپنے ھاتھ مبارک سے ہجرے اسفد کو اٹھاکر چادر پر رکھا اور سارے قبیلے کے ایک ایک فرد کو کہا کے چادر پکڑ کر اّپر اٹھاؤ۔ جب سب نے چادر کو اپر اٹھایا تو خود ھاتھ مبارک سے ہجر اسفد اٹھاکر دیوار میں رکھ دیا اور سارے قبیلے خوش ہوگے۔ کوئی جھگڑا نہیں ہوا، کوئی قتل و غارتگری نہین ہوئی، کوئی نفرت پھیلی نہ دشمنی۔ یہ کیا تھا؟ اسے سانئسی طریقہ اور سانئسی فکر کہتے ہیں۔ بت پرستی انسانی فکر کو جمود کا شکار کرکے غیر سانئسی اور عقیدہ پرست بناتی ہے۔ عقیدہ پرستی کے نشے میں دنیا کو دکھنا خود تبائی کی طرف جانے والے راستے پر ڈالنا ہے۔
ہم اللہ لکھنے یا دوسرے مقدس نام لکھنے کے مخالفت نہیں کرتے بلکہ ہم یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ عقیدہ پرستی جس کے پیچھے جاہلت،تعصب، منافقت کی سیاست ہو وہ معاشروں کو تبائی سے دو چار کرتی رہی ہے اور آج بھی کررہی ہے۔ اس کا مجھے نا روحانی اور نہ ہی مادی فاہدہ نظر آتا ہے۔ اس لیے میں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا اللہ لکھنے سے روٹی ملے گی؟ کیا پانی ملے گا؟ کیا روزگار ملے گا؟ کیا بڑھاپے کی پنشن ملے گی؟ کیا بے روزگاری کے دوران گذر بسر، صحت اور تعلم کا کوئی بندوبست ہوگا؟ کیا بغیر پیسے اور ڈاکٹر کے بیماری سے شفاء ملے گی؟ کیا سکول اور ٹیچر کے بغیر تعلیم ملے گی؟ کیا کچری میں انصاف ملے گا؟ کیا پولیس قانون کے مطابق کام کرے گی جس سے لوگوں کی عزت، جان و مال کی حفاظت ہوسکے گی؟ کیا لوگ ایک دوسرے کے حقوق کی خلاف ورزی نہیں کرینگے بلکے ایک دوسے کی مدد کرینگے؟ کیا اس سے مرد حضرات، خواتین اور بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی سے باز آجانگے؟ کیا معاشرہ کمزور، اکلیتوں اور مجبوروں کا ساتھی بن جایگا؟ کیا اللہ لکھنے سے لوگ اچھے ہوجانگے اور برائی ختم ہوجایگی؟ کیا ہم اچھائی اور برائی کا فرق سمجھے بغیر ہی اللہ، رسول اور مذہب کے پرچار پر لگ جاتے ہیں؟
مجھے امید ہے آپ میری باتون کا برا نہیں مانے گے، مگر اس پر غور ضرور کریں کہ پاکستان میں اسلام اور ھندوستان میں ھندوازم کا بڑا پرچار کیاجا رہا ہے مگر دونوں معاشرے انتہای درجے کے کرپٹ اور نکمے کیوں ہیں؟ جو معاشرے کم مذہبی ہیں یا یہ کہ وہ ہر چیز کو اپنے تناسب میں رکھتے ہیں اور چیزوں کو تناسب سے باہر نہیں ہونے دیتے، بہتر کیوں ہیں؟



No comments: